تحریک انصاف واٹر لو سے بڑی شکست کا شکار کیسے ہو گئی؟

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ جس طرح واٹر لو کے میدان میں نپولین کو شکست فاش ہوئی تھی اسی طرح پاکستانی سیاست میں تحریک انصاف کا ریاست مخالف بیانیہ بھی بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی صورت ایران اور امریکہ جنگ میں فریق نہیں تھا، مگر پاکستانی عسکری اور سویلین قیادت نے بطور ثالث جو کردار ادا کیا ہے اس نے پاکستان کو اندرون ملک سیاسی بیانیےمیں واٹر لو جیسی فتح دلا دی ہے۔ لہذا اب تحریک انصاف والے کوئی نئی کہانی بنائیں۔۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ عام فہم زبان میں واٹر لو کو ایک عہد کے خاتمے اور نئے عہد کی شروعات سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات میں امریکہ ایران جنگ کا جو بھی مستقبل ہو کوئی جیتے یا ہارے صلح ہو یا لڑائی، پاکستانی سیاست کا واٹر لو ہو چکا۔ اس واقعے سے پہلے کی سیاست سرے سے اور تھی اور اسکے بعد کی سیاست سرے سے اور ہو گی۔
انکے مطابق نپولین بونا پارٹ کہا کرتا تھا کہ ‘‘میں ہی انقلابِ فرانس ہوں‘‘۔ لیکن جب نپولین نہ رہا تو سب کچھ بدل گیا۔پاکستان میں بھی تبدیلی اور انقلاب کے نعرے لگتے رہے ہیں مگر تازہ واٹر لو نے تبدیلی اور انقلاب کے نعروں کو داغ لگا دیا ہے۔ نئے پاکستان اور تبدیلی کے نعرے لگانے والے اور اسکے ماننے والوں کو قومی اور بین الاقوامی حالات نے مکمل طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورت حال میں نون لیگ، پیپلزپارٹی اور مولانافضل الرحمٰن نے تو ریاست کے جھنڈے پر صاد کہہ دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین امن کی کوششوں پر تحریک تحفظ آئین سے لے کر جماعت اسلامی تک سب نے عسکری ثالث کو داد دی، واحد جیل میں بیٹھے عمران خان کے ترجمان ریاستی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔
لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کی طرح ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کا بیانیہ پٹ چکا ہے اور اس کا واٹر لو ہو چکا ہے۔ انکے بقول یہ بیانیہ ہی خان کا واحد ہتھیار بنا ہوا تھا اسلئے اس کی شکست تحریک انصاف کا سیاسی واٹر لو ہے۔انکا کہنا ہے کہ غیر جانبداری اور تحقیقی انداز سے جائزہ لیا جائے تو خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور الیکشن 2024 میں ناکامی کے باوجود تحریک انصاف کے بیانیے میں اچھی خاصی جان تھی اور مارکیٹ میں اسکے جھوٹے سچے خریدار بھی بہت تھے۔ اوورسیز پاکستانیوں میں یہ بیانیہ بہت تیزی سے بکا مگر ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے سے لیکرآج تک تحریک انصاف کے یوٹیوبرز اور انکے چاہنے والوں نے جو بیانیہ بنایا ہے وُہ بار بار نہ صرف پٹ رہا ہے بلکہ انکے جھوٹ کو بے نقاب کرکے انکی بد نیتی اور ملک دشمنی کو بھی عیاں کر رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کسے یاد نہیں کہ صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے سے پہلے یہاں سینہ تان کر دعوے کئے جاتے تھےکہ ٹرمپ آئے گا تو اگلے ہی دن خان رہا ہو جائیگا۔ پھر امریکی کانگریس کے کچھ لوگوں کو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے پر لگا دیا گیا۔ کبھی ٹرمپ حکومت کے کسی رکن کا نام لیکر تبدیلی کا انتظار کیا جاتا اور کبھی حکومت کو اقتصادی اور دفاعی پابندیوں سے ڈرایا جاتا، لیکن یوتھیوں کے تمام اندازے سو فیصد غلط ثابت ہوئے، پی ٹی آئی کے سیاسی واٹر لو میں شکست کے اسباب وہیں سے شروع ہوئے، پاک بھارت جنگ میں انہی یوٹیوبرز نے بھارت سے امیدیں باندھیں۔ جنگ کے نتائج پاکستان کے حق میں نکلے، پاکستان نے نہ صرف بھارت کو شکست دی بلکہ دنیا نے بھی 70 سال بعد واقعی مانا کہ پاکستان فتح یاب ہواہے یہ سیاسی واٹر لو کی دوسری شکست تھی جو انصافی بیانیے کو ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے جنگ کے بعد فیلڈ مارشل اور پاکستان کی فیصلہ کن فتح کی تعریف شروع کی تو سمجھا گیا کہ ٹرمپ بھارت اور مودی کو دبانے یا نیچا دکھانے کیلئے ایسا کر رہے ہیں مگر صدر ٹرمپ کا پاکستانی فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریف کا بیانیہ مسلسل جاری رہنا تحریک انصاف کا تیسرا سیاسی واٹر لو ہے، اسی پر بس نہیں۔ جب سب پروٹوکولز اور روایات کو ختم کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کی صدر ٹرمپ سے وائٹ ہائوس میں براہ راست ملاقات ہوئی تو تحریک انصاف کے بین الاقوامی بیانیے کا غبارہ پھٹ گیا۔ اس کے پھٹنے کے بعد انہی یوٹیوبرز نے پینترا بدلا، یہ پہلے پاکستان کو امریکہ سے ڈراتے تھے اور اب نیا بیانیہ یہ لائے کہ دراصل پاکستان امریکہ کا ایجنٹ بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے یہی یوٹیوبرز پہلے یہ ثابت کیا کرتے تھے کہ امریکہ کے سب سے وفادار ایجنٹ یہ خود ہیں اور انکے بل بوتے پر دوسروں کو ڈراتے تھے۔ واٹر لو کہیں یا خطے کے تناظر میں پلاسی کی چوتھی جنگ کہہ لیں لیکن تحریک انصاف کے جھوٹے یوٹیوبرز کے بیانیے کو یہاں بھی شکست ہوئی ۔ ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی تو انصافی یوٹیوبرز نے یہ بے موقف اپنایا کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی اوردراصل ایران کا مخالف ہے۔ اب ان یو ٹیوبرز نے ایران کے حق میں موجود پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا اور تاثر دیا کہ امریکہ اور پاکستان اندر سے ملے ہوئے ہیں اور پاکستان ایران کی نہیں امریکہ کی مدد کر رہا ہے۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل نے تہران کا دورہ کرتے ہوئے فیصلہ کن واٹر لو فتح حاصل کرلی۔ فیلڈ مارشل نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے کردار کی نہ صرف ٹرمپ قدر کرتے ہیں بلکہ ایرانی بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں یہ سفارتی اور بین الاقوامی مقام ہمیں پہلی مرتبہ ملا ہے۔ اب تحریک انصاف کے مصنوعی بھونپو چاہتے تو ریاست کے حق میں اپنا بیانیہ بدل سکتے تھے۔ مگر پانی پت کی پانچ جنگوں کے برابر واٹر لو کی جنگ میں فیصلہ کن شکست کے باوجود یوتھیے اسی پرانے بیانیے کو چلاتے جارہے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ اب سیاست کی بجائے بین الاقومی امور ترجیح بن چکے ہیں۔
عمران کو آج بھی موقع ملے تو فیلڈ مارشل کی گود میں بیٹھ جائیں
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اب سیاست نہیں بلکہ ریاست پہلی ترجیح بن چکی ہے، حکومت کی تبدیلی نہیں ریاست کی مضبوطی پہلی ترجیح بن گئی ہے۔ اور تو اور تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر اور معروف تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ وُہ پہلے غلط کہتے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دفاع کو اہمیت نہ دینے والی ریاست قائم نہیں رہ سکتیں۔ گویا اب ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اور نہ کھڑا ہونا اہم ہے، سیاست اس وقت موضوع ہی نہیں ہے اس کا فیصلہ بعد میں ہو جائے گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دفاع کے ذریعے معاشی استحکام کا فارمولا یقینی طور پر کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔ برطانیہ نے واٹر لو کے بعد دنیا بھر میں تسلط قائم کیا معاشی و سیاسی خوشحالی حاصل کی پاکستان تو صرف ثالث ہے حکمرانی نہیں چاہتا، باعزت طور پر جینے کا حق چاہتا ہے کسی سے لڑے بغیر اور کسی کا ایجنٹ بنے بغیر۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت ایران اور امریکہ کی جنگ میں فریق نہیں تھا مگر اس جنگ میں پاکستانی عسکری اور سویلین قیادت نے بطور ثالث جو کردار ادا کیا ہے اس نے اسے اندرون ملک سیاسی بیانیےمیں واٹر لو جیسی فتح دلا دی ہے۔ لہذا اب تحریک انصاف والے کوئی نئی کہانی بنائیں کیونکہ ان کی پرانی کہانیاں تو بڑی طرح سے پٹ چکیں…..!
