عمران کو آج بھی موقع ملے تو فیلڈ مارشل کی گود میں بیٹھ جائیں

فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران خان صرف جیل سے باہر نکلنے کےلیے عسکری قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ورنہ اگر انہیں موقع ملے تو وہ آج بھی دوڑ کر جنرل عاصم منیر کی گود میں بیٹھ جائیں۔ یہ دعویٰ لندن میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی اظہر جاوید نے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی سیاست کے اہم ادوار اور خفیہ منصوبہ بندیوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
سینیئر صحافی عمار مسعود کے ساتھ ایک انٹرویو میں اظہر جاوید نے انکشاف کیا کہ وہ 2014 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف بننے والے "لندن پلان” کے عینی شاہد ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت نہ صرف نواز حکومت گرانے کی حکمت عملی تیار کی گئی بلکہ پرتشدد کارروائیوں کے احکامات بھی جاری کیے جاتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران وہ ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ تھے اور اتفاقاً انہیں طاہر القادری کے قریبی ساتھی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ اسی دوران انہوں نے مشاہدہ کیا کہ قادری پاکستان میں موجود طاقتور جرنیلوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور حکومت کے خلاف سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
اظہر جاوید کے مطابق کچھ طاقتور جرنیل نواز شریف کو وزارت عظمی سے ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ان کا دباؤ قبول نہیں کر رہے تھے اور اپنے آئینی اختیارات مرضی سے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف مخالف منصوبے میں عمران خان، طاہر القادری، چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر بااثر شخصیات شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2011 کے بعد پی ٹی آئی کو منظم انداز میں ابھارا گیا، اور 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت ملنے کے بعد سے ہی حکومت کے خلاف سازشوں کا آغاز ہو گیا۔
اظہر جاوید نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے اس معاملے پر نجم سیٹھی کو لندن کے علاقے ماربل آرچ میں خفیہ طور پر نواز شریف مخالف سازش بارے بریفنگ دی، جہاں شور شرابے میں یہ معلومات شیئر کی گئیں تاکہ کوئی اور نہ سن سکے، اس کے بعد یہ سازش مارکیٹ ہو گئی۔
اظہر جاوید نے نواز شریف کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتے اور ہمیشہ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت میڈیا پر سخت پابندیاں تھیں اور نواز شریف کی کوریج تک ممنوع تھی۔ اظہر جاوید نے عمران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک موقع پرست سیاستدان ہیں جو فوج کی پیداوار ہیں لیکن اپنی رہائی کے لیے فوجی قیادت کو دباؤ میں لانے کے لیے فوج پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ حالات کے مطابق اپنا سیاسی قبلہ بدلتے ہیں اور اگر انہیں دوبارہ موقع ملا تو وہ دوڑ کر اسٹیبلشمنٹ کی گود میں چڑھ جائیں گے۔
انہوں نے نواز شریف کی وطن واپسی اور گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ لندن سے پاکستان روانہ ہوئے تو ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پاکستان پہنچنے پر وہ خود آگے بڑھ کر گرفتاری دینے والوں میں شامل تھیں۔ موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اظہر جاوید نے کہا کہ وہ حال ہی میں نواز شریف سے ملے تو وہ پہلے سے زیادہ متحرک اور صحت مند نظر آئے ان کے مطابق شہباز شریف ہر اہم معاملے میں ان سے مشاورت کرتے ہیں اور دونوں بھائیوں کے درمیان گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
بشری کو بھی جیل میں عمران خان والی بیماری کیوں ہو گئی؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں احتجاجی مظاہروں کے لیے لوگوں کو منظم کیا جاتا تھا، تاہم اب ایسی سرگرمیاں کم ہو چکی ہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد زیادہ تر اوورسیز پاکستانی ریاستی اداروں کے مؤقف کے قریب آ چکے ہیں۔
