لاہور میں بھکاریوں کی آمد سوا کروڑ سے تجاوز کر گئی

صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں گداگری اب محض ہمدردی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ ایک منظم اور منافع بخش “انڈسٹری” کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق شہر میں بھکاریوں کی روزانہ آمدنی سوا کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ٹھکیداری نظام آنے کے بعد آئندہ آنے والے دنوں میں بھکاریوں کی آمدن ڈبل ہونے کا امکان ہے۔
مبصرین کے مطابق بھکاریوں کی سامنے آنے والی آمدن کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے نیٹ ورک کی ہوتی ہے، جس میں مختلف گروہ اور “ٹھیکیدار” شامل ہوتے ہیں۔ جو اپنے مخصوص علاقوں میں ایک مختص معاوضے کے بدلے خواتین، بچوں اور مردوں کو بھیک مانگنے کی اجازت دیتے ہیں۔ شہر میں بھکاریوں کی بھر مار کے بعد لاہور کے اہم چوراہے، بازار، مساجد اور ٹریفک سگنلز ان گروہوں کے لیے کمائی کے مراکز بن چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں پیشہ ور بھکاریوں نے آپس میں باقاعدہ علاقے بانٹ رکھے ہیں ہر علاقے پر ایک مخصوص گروہ کا کنٹرول ہوتا ہے، اور بھیک مانگنے والوں کو اپنی کمائی کا حصہ ان سرغناؤں کو دینا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ بھکاری بھی جدید انداز اپنانے لگے ہیں۔ جس میں مختلف مقامات پر جوان لڑکیاں ہاتھ باندھے کھڑی دکھاتی دیتی ہیں اور معصوم بچوں کو لیے سڑکوں پر بیٹھی ہوتی ہیں۔ یہ نئی کلاس بھکاریوں کی نیلامی میں ’’گولڈن‘‘ کہلاتی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ان بھیک مافیاز نے اب جدید اور چالاک طریقے بھی استعمال کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ کہیں معذور افراد کو آگے کیا جاتا ہے، کہیں بچوں اور خواتین کو جذباتی ہمدردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کبھی جعلی کہانیاں گھڑ کر بھیک مانگی جاتی ہےاور بعض کیسز میں تو ٹریفک سگنلز بند کر کے جان بوجھ کر رش پیدا کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے بھیک اکٹھی کی جا سکے۔
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں بھی ایک ایسی واردات اس وقت سامنے آئی جب محمد علی چوک پر ٹریفک سگنلز اچانک چلتے چلتے بند ہو گئے جس سے ٹریفک جام ہو گئی اور بھکاریوں نے گاڑیوں پر دھاوا بول دیا۔یہ کارروائی اس وقت ڈالی گئی جب ٹریفک پولیس کے اہلکار ڈیوٹی پر مامور نہیں تھے۔ کئی دن تک یہ سلسلہ چل رہا تھا۔ تب ایک شہری نے کچھ ایسا دیکھا جس کو وہ اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کیے بنا نہ رہ سکا۔
اور پھر یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان جو کہ گہرے کپڑوں میں ملبوس تھا وہ ٹریفک سگنل کے الیکٹرک بورڈ کے قریب آتا ہے۔تھوڑی دیر وہ ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد الیکٹرک بورڈ کی طرف بڑھتا ہے اور ٹریفک سگنلز کا بٹن بند کر دیتا ہے اور اچانک ٹریفک سگنلز بند ہو جاتے ہیں۔ اس ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ویڈیو بنانے والا شہری اس کے پیچھے بھاگتا ہے لیکن وہ نوجوان وہاں سے فرار ہو جاتا ہے۔ جس کے بعد پولیس نے ویڈیو سے شناخت کر کے چاروں بھکاریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم اب بھی کئی علاقوں میں یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں اس وقت مجموعی طور پر دو سو سے زائد گداگر گروہ موجود ہیں۔ جنہیں دس الگ الگ افراد مینج کرتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں وہ گداگر شامل نہیں۔ جو حالات کے باعث طویل عرصے سے پرانے علاقوں میں مقیم ہیں اور گلی کوچوں میں صدائین لگا کر بھیک مانگتے ہیں تاہم وہ گداگر ان پیشہ ور بھکاریوں اور گروپوں کا حصہ نہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں ان بھکاریوں کے گروہوں کی سرپرستی ٹھیکیداروں کے علاوہ صوبائی محکمہ داخلہ، کمشنریٹ اور دیگر اداروں کے بعض افسران بھی کرتے ہیں۔
رمضان المبارک کے آغاز، عیدوں اور تہواروں پر ان گداگروں کی تعداد دیگر بڑے شہروں کی طرح لاہور میں بھی اچانک بڑھ جاتی ہے۔ جس کے بعد ٹھکیداروں کے مابین لاہور کے مختلف عالقوں میں بھیک منگوانے کیلئے بولیاں لگائی جاتی ہیں۔ مختلف گروپوں اور گروہوں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اس وقت بھی لاہور کے پوش علاقے سب سے زیادہ بولی پر نیلام ہوتے ہیں۔ اس بولی میں سب سے نیچے لاہور کا ریلوے اسٹیشن ہے۔ جو ماضی میں ایک دہائی پہلے تک تیسرے اور دو دہائی قبل تک پہلے نمبر پر تھا۔ ذرائع کے مطابق ان بھکاریوں کی ٹرانسپورٹیشن پر ایک سو پندرہ آٹو رکشا، چالیس سوزوکی لوڈرز، دو سو سے زائد چنگ چی، ستر گدھا گاڑیاں اور تیس سے زائد ’تیرہ سو سی سی‘ گاڑیاں متحرک ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لاہور کے ایک سابق اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ’’انھیں سرکار کی طرف سے ایک لگژری گاڑی دی گئی ہے۔ لیکن بھکاریوں کے سرپرستوں کے پاس موجود گاڑیوں کے سامنے یہ گاڑی ایک کھلونا لگتی ہے۔ قانون کے تحت ان کے پاس بہت سے اختیارات ہیں۔ لیکن عملی طور پر گداگروں کے گروہ اور ان کے سرپرست مجھ سے بھی طاقتور ہیں‘‘۔ اس انتظامی افسر کے مطابق انسداد گداگری مہم صرف ایک ہفتہ چلائی جائے تو شہر گداگری سے پاک ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہٹلر جیسے اختیارات اور انداز درکار ہے۔ ورنہ شہر میں چلائی جانے والی انسداد گداگری مہم کاغذات تک محدود رہے گی اور گداگروں کی آبادی مسلسل بڑھتی رہے گی۔
