پنجاب میں منشیات فروش بھی جدید ہو گئے، آن لائن فروخت شروع

 

 

 

پنجاب میں منشیات کی آن لائن خریدو فروخت کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے، سی سی ڈی کی مربوط کارروائیوں کے باوجود صوبے میں نہ صرف منشیات کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکما دینے کیلئے منشیات فروشوں نے اپنا مکروہ دھندا روایتی گلی کوچوں سے نکال کر اسے ڈیجیٹل دنیا میں شفٹ کر دیا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق صوبے میں منشیات کی 50 فیصد خرید و فروخت اب آن لائن ہو رہی ہے۔

 

ذرائع  کے مطابق منشیات فروشی میں ملوث منظم گروہوں نے مختلف نشہ آور اشیاء کی فروخت کے لیے باقاعدہ سینکڑوں ویب سائٹس بنا رکھی ہیں، جہاں پر وہ منشیات فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ عام استعمال کی اشیا فروخت کرنے والی ویب سائٹس پر بھی ’کوڈ ورڈز‘ میں منشیات فروخت کی جاتی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کچھ منشیات فروش گروپ سوشل میڈیا سائٹس پر مخصوص پیجز بنا کر منشیات فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ واٹس گروپس بناکر بھی کسٹمرز سے رابطہ کرکے منشیات گھروں میں سپلائی کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے منشیات فروش مختلف ممالک کے سم کارڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ پولیس انہیں ٹریس نہ کرسکے۔ اس کے علاوہ منشیات کا آن لائن کاروبار بھی عروج پر ہے۔ اس دھندے میں ملوث لوگ کسٹمرز تک منشیات پہنچانے کے لیے مختلف کوریئر کمپنیوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ منشیات فروشوں نے کوریئر کمپنیوں میں اپنے لوگ بھرتی کروا رکھے ہیں، جو رائیڈرز کے ذریعے منشیات گاہکوں تک پہنچاتے ہیں۔ کئی تعلیمی اداروں کے طلباء بھی اب نشے کی لعنت کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

 

اس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نوجوان نسل میں “آئس” یعنی کرسٹل میتھ سب سے زیادہ مقبول نشہ بن چکا ہے، جس کے استعمال میں گزشتہ ایک سال کے دوران 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس شراب اور چرس کے استعمال میں کمی آئی ہے، مگر ہیروئن کی مانگ بدستور برقرار ہے۔ اعلیٰ طبقے کے نوجوانوں میں کوکین، ایل ایس ڈی اور دیگر مہنگی منشیات کا استعمال بھی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منشیات کا مسئلہ صرف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہا۔

 

رپورٹ کے مطابق منشیات کی خرید و فروخت کا مکروہ دھندا زیادہ تر موبائل فونز اور خاص طور پر واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے ہو رہا ہے، جہاں خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے یہ کاروبار چلایا جا رہا ہے۔ یہ جدید طریقہ کار قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، کیونکہ روایتی کارروائیوں سے اس نیٹ ورک کو توڑنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستانی بینکوں پر کرپٹو سروسز فراہم کرنے پر عائد پابندی ختم

تاہم، سب سے تشویشناک پہلو وہ الزامات ہیں جو خود پولیس پر لگ رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران متعدد ارکان نے یہ انکشاف کیا کہ پولیس نے انسدادِ منشیات مہم کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اندھا دھند مقدمات درج کر کے بے گناہ شہریوں کو بلیک میل کرنا اور لاکھوں روپے وصول کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور دیگر شہروں سے ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جہاں پولیس اہلکاروں نے جعلی مقدمات بنا کر شہریوں کو ہراساں کیا، اور بعد ازاں انکوائری میں یہ مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے۔ یہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ عدلیہ بھی پولیس کی ان کارروائیوں سے تنگ دکھائی دیتی ہے، اور بعض مقامات پر عدالتیں ایسے مقدمات میں فوری ضمانت دینے لگی ہیں۔ اس سے نہ صرف قانون کی عملداری متاثر ہو رہی ہے بلکہ اصل مجرم بھی اس نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت 35 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں سے صرف لاہور میں 30 ہزار افراد کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ادارے، خاص طور پر یونیورسٹیاں، اس لعنت کا نیا مرکز بنتی جا رہی ہیں جہاں طلبہ نہ صرف روایتی منشیات بلکہ فارماسیوٹیکل ادویات کو بھی نشے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ سکون آور گولیاں میڈیکل سٹورز سے حاصل کر کے ذخیرہ کی جاتی ہیں اور پھر نشے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جو ایک اور خطرناک رجحان کی نشاندہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر منشیات فروشوں کو نکیل ڈالتے ہوئے نشہ آور اشیاء کی آن لائن فروخت کی روک تھام کیلئے فوری ٹھوس اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف نوجوان نسل کو تباہ کردے گا بلکہ پورے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔

 

Back to top button