ایران اور امریکہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ کامیاب ہوگا یا نہیں؟

 

 

 

اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں عروج پر ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات اور جوابی ردعمل نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں یہ پیش گوئی کرنا آسان نہیں رہا کہ آیا یہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں، یا پھر ماضی کی طرح یہ عمل بھی غیر یقینی کا شکار ہو جائے گا۔

 

اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین نصف صدی پر محیط بداعتمادی اور کشیدگی کے پس منظر میں یہ سوال خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مذاکرات کے دوسرے دور میں کوئی بریک تھرو ممکن ہے یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو کن نکات پر اتفاقِ رائے ہو سکتا ہے، اور کن مطالبات پر مذاکرات ٹوٹ سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب بھی مذاکرات مثبت سمت  اختیار کرتے ہیں، صدر ٹرمپ کوئی نہ کوئی ایسا ٹوئیٹ کر دیتے ہیں جس سے سارا ماحول خراب ہو جاتا ہے اور ایران کی جانب سے سخت رد عمل آ جاتا ہے۔

 

اس حوالے سے سابق سفیر مسعود خالد کہتے ہیں کہ حالیہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے تھے اور تقریباً 80 فیصد معاملات طے پا چکے تھے۔ صرف چند اہم نکات باقی رہ گئے تھے، لیکن اچانک صدر ٹرمپ کے سخت بیانات نے اس پیشرفت کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے پالیسی کا اظہار ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، جس سے نہ صرف کنفیوژن پیدا ہو رہا ہے بلکہ اعتماد سازی کے عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی گارڈین نے بھی اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مسلسل غیر محتاط بیانات نے مذاکراتی ماحول کو متاثر کیا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اسی کشیدگی کا ایک اہم مظہر ہے، جس نے پہلے سے جاری پیش رفت کو دھچکا پہنچایا اور دونوں فریقین کے مؤقف مزید سخت کر دیے۔ اس کی بنیادی وجہ باہمی اعتماد کی شدید کمی ہے۔ پاکستان نے اس عمل میں مسلسل فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے جس کے باعث یہ امید کی جا رہی تھی کہ جلد کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا، تاہم موجودہ صورتحال بڑی حد تک امریکی قیادت کے رویے پر منحصر ہے جبکہ ایران بھی اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔ اس دوران امریکی وفد نے اپنی اسلام آباد آمد کی تصدیق کر دی ہے لیکن ایرانی حکام نے ابھی تک اسلام آباد پہنچنے کی تصدیق نہیں کی۔ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ مثبت اشارے ملنے پر منحصر ہے چونکہ ایران نے کچھ ریڈ لائنز طے کر رکھی ہیں جنہیں کراس کیا جائے گا تو وہ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ تنازع کے دو بنیادی پہلو آبنائے ہرمز کی حیثیت اور ایران کا جوہری پروگرام ہیں۔ اگر ایران ان معاملات پر لچک دکھاتا ہے تو امریکا کو بھی اسی نوعیت کا ردعمل دینا ہوگا، بصورت دیگر تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس کشیدگی سے بالواسطہ فائدہ اسرائیل کو ہو سکتا ہے اور امریکا میں اسرائیلی اثر و رسوخ پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین نے موجودہ جنگ کے اقتصادی پہلو پر خبردار کیا کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مزید بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے پاکستانی معیشت اور بھی ذیادہ متاثر ہوگی۔

 

سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث پیش رفت ضرور ہو رہی ہے، لیکن توقعات کو حقیقت پسندانہ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً 50 برس کی کشیدگی کسی فوری حل کی اجازت نہیں دیتی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار دونوں فریقین کی لچک اور رعایت دینے کی صلاحیت پر ہے۔ ان کے نزدیک سب سے اہم قدم جنگ بندی میں توسیع اور مذاکراتی عمل کا تسلسل ہے تاکہ اعتماد سازی کا عمل جاری رہے۔

 

سابق سفارتکار اور سیکیورٹی ماہر آصف درانی نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کو مثبت انداز میں دیکھنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگرچہ ماضی میں کشیدگی اور محدود جنگی صورتحال بھی رہی، لیکن جنگ بندی بذات خود ایک مثبت پیشرفت تھی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور بحالی دراصل وسیع تر علاقائی تناظر سے جڑی ہوئی ہے، جس میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق ٹِٹ فار ٹَیٹ کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک کوئی جامع معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

آصف درانی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے موجود ہیں، اس لیے یہ توقع رکھنا کہ چند مذاکراتی ادوار میں تمام مسائل حل ہو جائیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی مسائل میں ایران کا جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔ ان پر بات چیت جاری ہے لیکن حتمی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

مذاکرات سے پہلے اسلام آباد کو حفاظتی قلعہ کیوں بنا دیا گیا؟

تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک مذاکرات کا عمل جاری ہے، امید باقی ہے۔ تاہم اگر مکالمے کا دروازہ بند ہو گیا تو صورتحال دوبارہ تصادم کی طرف جا سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

Back to top button