روف کلاسرا نے ایرانی پالیسی کو بربادی کا سفر کیوں قرار دے دیا؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے خبردار کیا ہے کہ ایران اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بہادری اور ضد کے امتزاج نے اسے خطرناک راستے پر ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا بہادری سے بربادی تک کا سفر تیزی سے جاری ہے لیکن ایرانی قیادت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ عالمی طاقتیں اسے نیوکلیئر آپشن رکھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

 

کلاسرا کے مطابق انسانی انا اکثر عقل و دانش پر غالب آ جاتی ہے، اور یہی کیفیت ایرانی قیادت کے حالیہ طرزِ عمل میں نمایاں نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے کے ذریعے ماضی کو دفن کرے اور آگے بڑھے کیونکہ ضروری نہیں کہ قومیں صرف نقصان اٹھا کر ہی سبق سیکھیں، انکا کہنا ہے کہ عقلمند قومیں دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھتی ہیں۔

 

رؤف کلاسرا نے اپنے سیاسی تجزیے میں ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے اقدامات سے امید پیدا ہوئی تھی، لیکن نیوکلیئر معاملے پر دوبارہ اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین اسلام آباد میں دوبارہ مذاکرات تو ہو رہے ہیں لیکن دونوں فریقین نے بڑی سخت پوزیشنز لے رکھی ہیں۔ امریکہ ایران کو اربوں ڈالرز دینے پر آمادہ تھا اگر وہ اپنا نیوکلیئر مواد اس کے حوالے کر دے۔ لیکن اب صورتحال جمود کا شکار ہے اور ایرانی کی جانب سے آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

 

کلاسرا کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ آیا ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں یا نہیں۔

کلاسرا نے کہا کہ باہر بیٹھ کر ایران کی مزاحمت اور بہادری کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن اصل قیمت وہ عوام ادا کرتے ہیں جو ان فیصلوں کے اثرات بھگتتے ہیں۔ انہوں نے تاریخی مثال دیتے ہوئے پرل ہاربر پر حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان میں بھی کچھ وزرا اس حملے کے خلاف تھے لیکن انہیں بزدلی کا طعنہ دے کر خاموش کرا دیا گیا۔ جاپان نے حملہ کیا جس کے جواب میں امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے جس سے لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ بالآخر جاپانی قیادت کو ہتھیار ڈالنا پڑے اور انہیں احساس ہوا کہ ایک جذباتی فیصلے نے پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔

 

اسی طرح انہوں نے افغانستان پر 2001 کے امریکی حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب افغان طالبان نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو اس فیصلے کی قیمت پورے افغانستان کو چکانی پڑی۔ لاکھوں لوگ مارے گئے، بے گھر ہوئے اور ملک دہائیوں تک جنگ کی لپیٹ میں رہا۔ ان کے مطابق اس وقت بھی جذبات اور روایات کو عملی حقیقتوں پر ترجیح دی گئی جس کے نتائج تباہ کن نکلے۔ رؤف کلاسرا کے مطابق آج ایران بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں اسے مذاکرات کے ذریعے کافی کچھ حاصل ہو سکتا ہے، عالمی ہمدردی بھی اس کے ساتھ ہے، پابندیوں کے خاتمے اور معاشی بحالی کے امکانات بھی موجود ہیں، لیکن اگر اس نے ضد اور انا کو ترجیح دی تو نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا ایران کو ایک نارمل ملک کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اسے نیوکلیئر طاقت بننے نہیں دیں گی چاہے کسی کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، افغانستان اور ایران کی مثالوں میں ایک مشترکہ عنصر امریکہ کے ساتھ ٹکراؤ ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے تصادم میں کمزور فریق کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق قیادت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ بروقت درست فیصلہ کرے اور قوم کو غیر ضروری تباہی سے بچائے۔

مذاکرات سے پہلے اسلام آباد کو حفاظتی قلعہ کیوں بنا دیا گیا؟

روف کلاسرا نے کہا کہ مانا کہ ایران نے بطور قوم امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے لیکن صرف بہادری اور جذبات سے جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں خصوصا جب اپ عسکری طور پر کمزور بھی ہوں۔ بہادری اپنی جگہ ایک اہم خوبی ہے لیکن دانشمندی کے بغیر یہی بہادری تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایران کا اس مرحلے پر رک جانا اور حقیقت کو تسلیم کر لینا اس کی کمزوری نہیں بلکہ دوراندیشی کہلائے گی، ورنہ بہادری سے بربادی تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

 

Back to top button