مذاکرات سے پہلے اسلام آباد کو حفاظتی قلعہ کیوں بنا دیا گیا؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد بھیجنے کے اعلان کے ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت کو ایک بار پھر سخت سکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے اور شہر کو عملاً ایک قلعے کی شکل دے دی گئی ہے۔ میریٹ ہوٹل اسلام آباد کو غیر ملکی مہمانوں کے لیے خالی کروا کر مکمل طور پر سکیورٹی اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ پیر کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی سرکاری وفود کی آمد متوقع ہے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے اور ان کے ساتھ وہی لوگ آئیں گے جو پچھلی مرتبہ آئے تھے۔ اسی طرح ایران کے مذاکراتی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف کریں گے جبکہ وزیر خارجہ عراقچی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے پہلے ہی تصدیق کر دی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے ان کی ٹیم اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔ ایرانی حکام کی طرف سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے تو نہیں آیا لیکن ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعوی کیا ہے کہ تہران میں فیصلہ سازوں نے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے اپنا وفد اسلام آباد نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات میں شریک ہو گا اور اسے پاکستان ایئر فورس کے جہاز تہران سے اسلام آباد لائیں گے۔
اس تمام پیش رفت کے دوران پاکستان میں ریاستی اداروں اور انتظامیہ نے ممکنہ سفارتی سرگرمی کے پیش نظر وسیع پیمانے پر تیاریاں شروع کر رکھی ہیں اور دارالحکومت میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر دیے گئے ہیں۔ اتوار کے روز میریٹ ہوٹل اسلام آباد کی انتظامیہ نے اپنے تمام مہمانوں کو ایک تحریری نوٹس کے ذریعے ہدایت کی تھی کہ وہ دوپہر تین بجے تک ہوٹل خالی کر دیں کیونکہ حکومت پاکستان نے ایک اہم تقریب کے لیے پورا ہوٹل اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ نوٹس میں مہمانوں سے اس اچانک فیصلے پر معذرت بھی کی گئی اور یقین دہانی کروائی گئی کہ ہوٹل انتظامیہ متبادل رہائش کے انتظام میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
اسی دوران سیرینا ہوٹل کی انتظامیہ نے بھی آئندہ چند دنوں کے لیے کمروں کی بکنگ مکمل طور پر بند کر دی ہے۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں شہر میں نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر عوامی اور مال بردار ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت دی جا رہی ہے اور کئی مقامات پر مارکیٹیں بند کروا دی گئی ہیں۔ نور خان ائیر بیس راولپنڈی کے اطراف واقع رہائشی سوسائٹیوں میں کرفیو کی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، گلیوں میں مسلسل گشت جاری ہے اور لوگوں کی نقل و حرکت کو سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں داخل ہونے والے تمام داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں اور ہر آنے جانے والے کی مکمل جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب سے اضافی پولیس نفری بھی طلب کر لی گئی ہے تاکہ سکیورٹی کے انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مشترکہ سرچ آپریشنز جاری ہیں جن کی نگرانی اعلیٰ پولیس افسران خود کر رہے ہیں۔
ان چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران سینکڑوں افراد، گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی گئی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ کچھ غیر ملکی باشندوں کو بھی تفتیش کے لیے متعلقہ تھانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے اور بغیر لائسنس کا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں اور شہر کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں سخت سکیورٹی انتظامات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے 20 اپریل سے 24 اپریل تک تمام کلاسیں آن لائن منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو غیر ضروری سفر سے بچایا جا سکے۔ اسی طرح ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ریڈ زون اور اس سے ملحقہ توسیعی ریڈ زون کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔
اسی طرح سری نگر ہائی وے پر سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے مختلف اوقات میں ٹریفک کی آمد و رفت معطل کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد شہر کے بس اڈوں کو بند کر دیا گیا ہے، تاہم پولیس حکام نے وضاحت کی ہے کہ بس اڈے جلد معمول کے مطابق کھول دیے جائیں گے۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر مختلف مقامات پر قائم عوامی ٹرانسپورٹ کے اڈوں کو بند کر دیا گیا تھا، جن میں فیض آباد، پیرودھائی، منڈی موڑ اور چھبیس نمبر چونگی شامل ہیں، یہ کارروائی پولیس کی مدد سے عمل میں لائی گئی تھی۔ راولپنڈی کی انتظامیہ نے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرتے ہوئے اپنی حدود میں واقع اڈوں کو بند کروایا۔
ادھر اسلام آباد کہ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، چیکنگ کے دوران صبر کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔ حکام کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد نہ صرف شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے بلکہ ایک اہم بین الاقوامی سفارتی سرگرمی کو پرامن اور محفوظ ماحول میں مکمل کرنا بھی ہے۔ سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے شہری پریشانی کا سامنا تو کر رہے ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بننے جا رہا ہے۔
