لڑکیوں کا اغوا: پولیس جھوٹی نکلی، ڈار کو بچانے کی کوشش ناکام

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کے ہاتھوں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کا کیس تب مزید بگڑ گیا جب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں حقائق کو مسخ کرتے ہوئے حکومتی شخصیات کا دفاع کرنے کی کوشش کی جس پر صحافی سیخ پا ہو گئے اور سخت سوالات کے نتیجے میں فیصل کامران کو پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ کر پسپا ہونا پڑا۔
اسحاق ڈار کے نواسے احمد رضا ڈار کے خلاف غیر ملکی خواتین کے اغوا بارے لاہور پولیس کی جانب سے اختیار کیے گئے سرکاری مؤقف کو تب شدید دھچکا پہنچا جب ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران صحافیوں کے سخت سوالات کی زد میں آ گئے اور پریس کانفرنس الٹی پڑ گئی۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین کو پولیس نے کامیاب کارروائی کے ذریعے بازیاب کرایا، تاہم اسی دوران ڈی آئی جی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دونوں خواتین ایک ٹریفک حادثے کے بعد اغوا کنندگان کی گاڑی سے نکل کر فرار ہوئی تھیں۔ دونوں بیانات میں واضح تضاد پر صحافیوں نے مسلسل سوالات کیے، جس کے بعد پریس کانفرنس کا کنٹرول ڈی آئی جی کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہ بریفنگ ادھوری چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔
پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اصرار کیا کہ لاہور پولیس کسی بھی ملزم کے ساتھ اس کی سیاسی یا خاندانی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی سینئر حکومتی شخصیت کا رشتہ دار بھی ملوث پایا گیا تو اس کے ساتھ بھی قانون کے مطابق وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی دوسرے ملزم کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی اور اغوا کا مقدمہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اسی لیے اس کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ اغوا اور ریب کے مقدمات کو سی سی ڈی پولیس دیکھتی ہے اور عموما ایسے کیسز میں ملوث ملزمان کو جعلی مقابلوں میں ٹھکانے لگا دیا جاتا ہے۔ تاہم اس کیس میں صرف پنجاب پولیس کے ریپ سیل کو شامل تفتیش کیا گیا ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
فیصل کامران نے دعویٰ کیا کہ دونوں خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں اور 29 جون کو لاہور آئیں۔ ان کے مطابق یکم جولائی کی رات تقریباً بارہ بجے سیف سٹی اتھارٹی کو ایک شخص کارلوس کی جانب سے اطلاع ملی کہ اس کی بیٹی پاکستان میں اغوا ہو گئی ہے اور اغوا کار تاوان طلب کر رہے ہیں، جس کے بعد لاہور پولیس نے فوری کارروائی شروع کر دی۔
ڈی آئی جی کے مطابق پولیس نے فون نمبرز، گاڑی کے رجسٹریشن ریکارڈ، سفری تفصیلات اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا جبکہ شاہدرہ، ڈیفنس، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں متعدد چھاپے مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی اولین ترجیح خواتین کی بحفاظت بازیابی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ایک مشتبہ شخص کے خاندانی روابط کا سراغ ملا، جس کے بعد ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا جہاں معلوم ہوا کہ ملزم کا خاندان کچھ عرصہ قبل وہاں رہائش پذیر رہا تھا۔
فیصل کامران کے مطابق اسی مرحلے پر احمد رضا ڈار کی شناخت سامنے آئی اور مزید تحقیقات کے بعد اس کی لوکیشن ٹریس کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل خانہ سے بھی معلومات حاصل کی گئیں اور غالب امکان ہے کہ خاندان نے بھی ملزم کو قانون کے سامنے پیش ہونے کا مشورہ دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے بھی ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ تب تک انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کیس میں اسحاق ڈار کا نواسہ بھی ملوث ہے۔
تاہم پریس کانفرنس کے دوران اس وقت صورتحال تبدیل ہو گئی جب صحافیوں نے ڈی آئی جی سے سوال کیا کہ اگر دونوں خواتین خود ایک ٹریفک حادثے کے بعد گاڑی سے نکل کر بھاگیں اور ایک مکینک ورکشاپ میں پناہ لینے کے بعد ٹریفک پولیس کی مدد سے متعلقہ تھانے تک پہنچیں تو پھر پولیس انہیں "بازیاب” کرنے کا دعویٰ کس بنیاد پر کر رہی ہے۔ اس تضاد پر کرائم رپورٹرز نے سخت احتجاج کیا اور پولیس کے جھوٹے مؤقف کو چیلنج کیا، جس کے بعد پریس کانفرنس بدنظمی کا شکار ہو گئی اور فیصل کامران موقع سے خاموشی کے ساتھ نکل گئے۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 لاہور کینٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت دونوں غیر ملکی خواتین کے ریکارڈ کرائے گئے بیانات میں محمد احمد رضا ڈار اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف نہایت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ سٹیفنی ایڈریانا نے اپنے عدالتی بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی احمد رضا ڈار سے پہلی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک تقریب کے دوران ہوئی تھی۔ ان کے مطابق کاروباری روابط کے بعد رضا ڈار نے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاروں سے ملاقات کی دعوت دی اور ویزے کے انتظامات بھی کیے۔ خاتون نے الزام لگایا کہ رضا ڈار خود کو ایک وفاقی وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا، جس سے ان کا اعتماد مزید بڑھا۔
خاتون کے مطابق وہ اور ان کی ساتھی 26 جون کو پاکستان پہنچیں، چند روز اسلام آباد میں قیام کیا اور بعد ازاں لاہور آئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رضا ڈار انہیں ایک خاندانی سالگرہ کی تقریب کے بہانے ایک مکان میں لے گیا جہاں بعد میں چار مسلح افراد داخل ہوئے، دونوں خواتین کو باندھ دیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور لاکھوں ڈالر تاوان طلب کیا۔ ان کے مطابق وہاں موجود ایک شخص کو تمام افراد "باس” کہہ کر مخاطب کرتے تھے جبکہ رضا ڈار بھی خود کو بظاہر متاثرہ ظاہر کرتا رہا۔
سٹیفنی ایڈریانا نے اپنے بیان میں مزید الزام عائد کیا کہ انہیں اہل خانہ سے تاوان منگوانے پر مجبور کیا گیا اور انہوں نے اپنے بھائی اور والدین کو وائس نوٹس بھیجتے ہوئے پہلے سے طے شدہ خفیہ کوڈ ورڈ استعمال کیا، جس سے ان کے اہل خانہ کو خطرے کا اندازہ ہوا اور انہوں نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے ہاتھ تقریباً بارہ گھنٹے بندھے رہے، ان کے کرپٹو اکاؤنٹس سے تقریباً سترہ ہزار امریکی ڈالر منتقل کیے گئے اور انہیں مسلسل جان سے مارنے، جسمانی نقصان پہنچانے اور دیگر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔
سپین سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ آسٹریڈ گیبریلا رابنسن براچو نے بھی عدالت میں اپنے بیان میں تقریباً انہی واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قید کے دوران ان کے ساتھ متعدد مرتبہ جنسی زیادتی اور غیر فطری جنسی تشدد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ رضا ڈار مسلسل ان سے رقم، بینک تفصیلات اور دیگر مالی معلومات طلب کرتا رہا۔ ان کے مطابق پاکستان آنے سے پہلے انہوں نے رضا ڈار کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں کیونکہ وہ خود کو ایک بااثر وفاقی وزیر کا بیٹا ظاہر کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر اہم شخصیات کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود تھیں، جس کی وجہ سے انہیں اس پر اعتماد ہو گیا۔
دونوں خواتین نے اپنے عدالتی بیانات میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ بعد میں انہیں گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم راستے میں ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ گاڑی سے نکل کر ایک قریبی مکینک ورکشاپ میں پہنچ گئیں۔ ان کے مطابق وہاں موجود افراد اور ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور متعلقہ پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد وہ پولیس کی تحویل میں آئیں۔ یہی نکتہ بعد ازاں لاہور پولیس کے سرکاری مؤقف اور ڈی آئی جی آپریشنز کے بیانات کے درمیان سب سے بڑا تضاد بن کر سامنے آیا۔ یہ مقدمہ اس وقت متعلقہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے جبکہ لاہور پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری رکھنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
