وفاقی حکومت کا انسانی سمگلروں کیخلاف مزید شکنجہ کسنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے انسانی سمگلروں اور ڈنکی مافیا کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور مختلف شہروں سے نیٹ ورک چلانے والے گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں اور انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دلوائی جائیں۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا، خصوصاً پشاور اور اس کے مضافاتی دیہی علاقوں میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بیرون ملک ملازمت اور بہتر مستقبل کے جھوٹے خواب دکھا کر لوٹنے والے انسانی سمگلروں کا گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر نوجوانوں سے لاکھوں روپے وصول کرنے کے بعد انہیں غیر قانونی راستوں کے ذریعے ایران، ترکی اور یورپی ممالک بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ متعدد افراد کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے یا ان سے رابطہ ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔
ایف آئی اے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران انسانی سمگلنگ کے خلاف ملک بھر میں سات ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ دس ہزار سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں کئی بڑے منظم گروہ بھی شامل ہیں۔ اسی عرصے میں انسانی سمگلنگ سے حاصل ہونے والے 17 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کیے گئے، جبکہ مزید مشتبہ اثاثوں کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایف آئی اے نے 200 سے زائد جعلی ٹریول ایجنسیوں اور غیر لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ دفاتر کے خلاف کارروائیاں کیں، جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو یورپ بھیجنے کے جھوٹے دعوے کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایک سال کے دوران 15 ہزار پاسپورٹس کو مشکوک قرار دیا گیا، جبکہ پانچ ہزار افراد کو مختلف ہوائی اڈوں سے آف لوڈ کر کے غیر قانونی انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے سے بچایا گیا۔ ان افراد کے پاس جعلی ویزے، فرضی دعوت نامے یا مشتبہ سفری دستاویزات موجود تھیں۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ کا شکار ہونے والوں کی بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو غربت، بے روزگاری اور معلومات کی کمی کے باعث سمگلروں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں ادارے نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اسکولوں، کالجوں اور دیہی علاقوں میں آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے تاکہ نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کی سمگلنگ کے خلاف بھی کارروائیاں مزید مؤثر بنائی گئی ہیں۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران ڈیڑھ ہزار سے زائد خواتین اور بچوں کو بازیاب کرایا گیا، جنہیں بیرون ملک ملازمت، شادی یا دیگر جھانسوں کے ذریعے سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں 2019 کے مقابلے میں 2026 میں انسانی سمگلنگ کے واقعات میں تقریباً 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم بلوچستان سے ایران کے راستے یورپ پہنچانے کے دعوے کرنے والے گروہ اب بھی سرگرم ہیں، جنہوں نے متعدد نوجوانوں سے بھاری رقوم وصول کر کے انہیں دھوکہ دیا اور لاوارث چھوڑ دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلروں اور ڈنکی مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ بیرون ملک روزگار یا امیگریشن کے لیے صرف رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ اداروں سے ہی رابطہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع ایف آئی اے کو دیں۔
دوسری جانب پشاور میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ڈی جی لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ہدایت پر ورسک روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بغیر این او سی قائم ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا معائنہ کیا گیا، جہاں متعدد منصوبوں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔
