ایران میں اقتدار کی نئی بساط، کیا خطے کی سیاست بدلنے والی ہے؟

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ملک ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں نہ صرف قیادت تبدیل ہوئی ہے بلکہ ریاستی سوچ، خارجہ حکمت عملی اور علاقائی سیاست میں بھی نمایاں تبدیلیوں کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ، اس کے بعد جنگ بندی، اور نئی قیادت کے اقتدار سنبھالنے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط کو ازسرِ نو ترتیب دینا شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئی ایرانی قیادت اپنے پیش روؤں سے مختلف ثابت ہوگی، یا وہی پالیسی نئے انداز میں جاری رہے گی؟

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں ایک جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے، جسے کئی مبصرین نے تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس کا موازنہ 1919 کے معاہدۂ ورسائی سے بھی کیا، کیونکہ اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی مستقبل کی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، لیکن خطے میں کشیدگی کی بنیادی وجوہات ابھی ختم نہیں ہوئیں، اس لیے صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔

اسی دوران ایران کے اندر ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت ایرانی قیادت کے متعدد اہم افراد مارے گئے، جس کے بعد ملک میں نئی قیادت سامنے آئی۔ مبصرین کے مطابق یہ صرف شخصیات کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نئی نسل کے اقتدار میں آنے کا آغاز ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کے توازن کو بدلنے والی جنگ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول بڑی جنگیں ہمیشہ سیاسی شطرنج کی بساط کو تبدیل کرتی ہیں، اور ایران میں بھی اب ایسا ہی ہو رہا ہے۔ جنگ سے پہلے ایران شدید معاشی دباؤ، بین الاقوامی پابندیوں، عوامی احتجاج اور علاقائی تنہائی کا شکار تھا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ، لبنان میں حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصانات، غزہ میں حماس کی کمزوری اور یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں نے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو بھی متاثر کیا تھا۔ دوسری طرف اس کا جوہری پروگرام بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں سے نقصان اٹھا چکا تھا۔اس کے باوجود ایران نہ صرف قائم رہا بلکہ اس نے خطے میں اپنی عسکری صلاحیت بھی دکھائی۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین، قطر اور دیگر امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جبکہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا اشارہ دے کر عالمی طاقتوں کو یہ باور کرایا کہ وہ اب بھی خطے کی ایک اہم قوت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قیادت کا سب سے بڑا فرق اس کی عمر اور طرزِ فکر ہے۔ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد سے تقریباً تین دہائیاں کم عمر ہیں، جبکہ دیگر اہم رہنما جیسے محمد باقر قالیباف اور احمد وحیدی بھی نسبتاً نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان رہنماؤں کا تعلق اگرچہ پاسدارانِ انقلاب سے ہے، لیکن ان کی ترجیح نظریاتی نعروں کے بجائے ریاست کے استحکام اور بقا کو یقینی بنانا دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی خامنہ ای کی محتاط پالیسیوں نے برسوں تک نظام کو جمود میں رکھا، جبکہ نئی قیادت زیادہ فیصلہ کن اور جارحانہ انداز اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ایک طرف امریکی مفادات کو براہِ راست نشانہ بنایا اور دوسری جانب چند ہفتوں بعد مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے بھی گریز نہیں کیا۔

تجزیہ کاروں کے بقول ایران کی خارجہ پالیسی میں بھی حقیقت پسندی بڑھ رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں ایک ممکنہ مفاہمتی سربراہی اجلاس کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اگرچہ یہ ممالک اب بھی اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں، تاہم وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

داخلی سطح پر نئی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ حالیہ برسوں میں معاشی بحران، پابندیوں، مہنگائی اور حکومتی سختیوں نے عوام کو شدید متاثر کیا۔ اگرچہ حجاب جیسے بعض سماجی قوانین پر عملدرآمد میں پہلے کے مقابلے میں نرمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن اختلافِ رائے کے حوالے سے حکومت کا رویہ ابھی بھی سخت تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نئی قیادت سمجھتی ہے کہ صرف طاقت کے ذریعے حکومت کو طویل عرصے تک مستحکم نہیں رکھا جا سکتا، اس لیے عوام کے ساتھ ایک نیا سماجی معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر حکومت معیشت کو بہتر بنانے، پابندیوں میں نرمی حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی عوامی ساکھ بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات بھی اسی تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ابتدائی معاہدے کے بعد ایران کو محدود مدت کے لیے تیل برآمد کرنے کی اجازت مل چکی ہے، جبکہ مستقبل میں منجمد اثاثوں کی بحالی اور بین الاقوامی پابندیوں میں مزید نرمی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اگر کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچ سکتا ہے اور تعمیرِ نو کے بڑے منصوبے بھی شروع ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ راستہ آسان نہیں۔ جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، لبنان، غزہ اور خطے میں موجود سخت گیر حلقے کسی بھی وقت مذاکرات کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے بیشتر ماہرین اس مرحلے کو امید اور خدشات دونوں کا امتزاج قرار دیتے ہیں۔مجموعی طور پر ایران آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف نئی نسل کی قیادت زیادہ جارحانہ مگر زیادہ حقیقت پسند دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب اسے معاشی بحالی، عوامی اعتماد اور علاقائی استحکام جیسے بڑے امتحانات کا سامنا ہے۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ آیا تہران واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا پرانی پالیسیوں کا تسلسل نئے چہروں کے ساتھ جاری رہے گا۔

Back to top button