مظاہرین الیکشن تک دھرنا ختم کر دیں ورنہ۔۔۔۔: آزاد کشمیر حکومت کی سخت وارننگ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے جاری احتجاج کے تناظر میں انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر مظاہرین انتخابات سے پہلے پرامن طور پر منتشر نہ ہوئے تو قانون کے مطابق انہیں ہٹانے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے کہا کہ موجودہ احتجاجی سرگرمیوں کے بعد صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے، تاہم اگر مظاہرین الیکشن تک "عزت سے نہیں اٹھتے تو انہیں اٹھانا پڑے گا۔” ان کے مطابق انتظامیہ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوں اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی جائے۔

کمشنر کے مطابق مظاہرین کو مظفرآباد شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث وہ شہر سے تقریباً 500 میٹر دور جمع ہوئے اور وہیں سے مختصر احتجاجی ریلی نکالی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے داخلی راستوں پر سکیورٹی پہلے ہی سخت کر دی گئی تھی تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب مقامی وکلا اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں نسبتاً چھوٹے مگر پرامن احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں خواتین، بچوں اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک مقام پر انتخابی امیدوار وکیل الحسن خطاب کر رہے تھے کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ بعض عینی شاہدین نے لاٹھی چارج اور متعدد افراد، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی کے مطابق احتجاج کی کال کے پیش نظر اضافی سکیورٹی تعینات کی گئی تھی اور صرف 15 سے 20 افراد نے ایک مقام پر سڑک بند کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مظفرآباد سمیت دیگر اضلاع کو ملانے والے تمام اہم داخلی اور خارجی راستے کھلے ہیں اور ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو حکومت نے جون 2025 میں کالعدم قرار دیا تھا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ تنظیم کے خلاف امن و امان کو نقصان پہنچانے اور ریاست میں انتشار پھیلانے کے شواہد موجود ہیں۔ اس کے باوجود کمیٹی نے مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے سمیت 37 مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھا ہوا ہے، جس کے تحت لانگ مارچ، شٹر ڈاؤن اور دھرنوں کا سلسلہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔

انتخابات کے حوالے سے کمشنر پونچھ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر مظفرآباد اور میرپور ڈویژن میں حالات کافی حد تک معمول پر ہیں، جبکہ پونچھ ڈویژن کے صرف دو اضلاع، راولاکوٹ اور پلندری، انتظامیہ کے لیے زیادہ توجہ کا مرکز ہیں۔ ان کے مطابق باقی دس اضلاع میں انتخابی عمل پرامن انداز میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش کو بھی سکیورٹی صورتحال سے جوڑا ہے۔ کمشنر کے مطابق فی الحال انٹرنیٹ بحال کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ حکام کے نزدیک سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جو امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات مکمل طور پر معمول پر آنے کے بعد ہی انٹرنیٹ بحالی پر غور کیا جائے گا۔

مجموعی طور پر آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ احتجاجی تحریک بھی جاری ہے، جس کے باعث انتظامیہ ایک طرف سکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا معاملات مذاکرات سے حل ہوتے ہیں یا انتظامیہ احتجاج ختم کرانے کے لیے عملی کارروائی کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

Back to top button