پاکستان نے پہلی بار ناسا کو چاند تک کیسے پہنچایا؟

دنیا 20 جولائی 1969 کو اس تاریخی لمحے کو یاد کرتی ہے جب انسان نے پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اس کامیابی کا سہرا اگرچہ امریکی خلائی ادارے ناسا اور اپالو مشن کو دیا جاتا ہے، لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس عظیم سائنسی سفر میں پاکستان نے بھی ایک اہم اور تکنیکی کردار ادا کیا تھا۔ معروف پاکستانی خلائی سائنس دان طارق مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے اپالو مشن کے لیے بالائی فضا سے متعلق ایسا قیمتی سائنسی ڈیٹا فراہم کیا جس نے ناسا کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔

امریکہ کے 250 ویں یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ شدت اختیار کر گئی تھی۔ سوویت یونین نے 1957 میں دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ سپتنک ون خلا میں بھیج کر سب کو حیران کر دیا، جبکہ 1961 میں یوری گاگرین خلا میں جانے والے پہلے انسان بن گئے۔ ان کامیابیوں کے بعد امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے اعلان کیا کہ امریکہ انسان کو چاند پر اتار کر محفوظ طریقے سے واپس زمین پر لائے گا، جس کے بعد اپالو پروگرام کا آغاز ہوا۔

طارق مصطفیٰ کے مطابق ناسا کو جلد احساس ہوا کہ چاند تک کامیاب سفر کے لیے صرف راکٹ ٹیکنالوجی کافی نہیں، بلکہ زمین کے مختلف حصوں خصوصاً بالائی فضا (Upper Atmosphere) کے بارے میں درست معلومات بھی ناگزیر ہیں۔ راکٹ کو زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی طرف سفر کرنا تھا، اس لیے مختلف علاقوں میں ہوا کے دباؤ، فضائی بہاؤ اور موسمی حالات کا درست ڈیٹا درکار تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت بحرِ ہند کا وسیع علاقہ سائنسی اعتبار سے ایک "ڈیٹا بلیک ہول” سمجھا جاتا تھا، کیونکہ وہاں بالائی فضا کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے امریکہ نے پاکستان، بھارت، کینیا، جنوبی افریقہ اور دیگر متعلقہ ممالک کو پیشکش کی کہ اگر وہ راکٹ رینج قائم کریں تو ناسا انہیں تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گا، بشرطیکہ حاصل ہونے والا سائنسی ڈیٹا مشترکہ طور پر استعمال کیا جائے۔

طارق مصطفیٰ کے مطابق پاکستان نے اس پیشکش پر سب سے پہلے مثبت جواب دیا۔ 1961 میں صدر ایوب خان کے دورۂ امریکہ کے دوران نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام بھی وفد میں شامل تھے۔ اسی موقع پر ناسا میں ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان کی شرکت اور تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ طارق مصطفیٰ کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام نے ان سے رائے طلب کی تو انہوں نے اعتماد کے ساتھ کہا کہ یہ منصوبہ ضرور کامیاب ہوگا۔

اس کے بعد پاکستان نے کراچی میں راکٹ رینج قائم کی اور وہاں سے خصوصی تحقیقی راکٹ فائر کیے گئے۔ ان راکٹوں سے سوڈیم خارج کیا جاتا تھا، جس کی مدد سے سائنس دان بالائی فضا میں ہواؤں کی رفتار، سمت اور دباؤ کا تفصیلی جائزہ لیتے تھے۔ یہ تمام معلومات ناسا کو فراہم کی گئیں، جنہیں اپالو پروگرام کی منصوبہ بندی اور راکٹ کے محفوظ سفر کے لیے استعمال کیا گیا۔

طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ اس مشن کی کامیابی کے لیے وقت انتہائی اہم تھا۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ اگر کراچی میں مون سون کے بادل وقت سے پہلے آ گئے تو تجربہ ایک سال کے لیے مؤخر ہو سکتا ہے، جیسا کہ بھارت کے ساتھ پیش آیا تھا۔ پاکستانی سائنس دانوں نے دن رات محنت کر کے 7 جون 1962 کی مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا، کیونکہ غروبِ آفتاب کے وقت آسمان کا صاف ہونا اس تجربے کی بنیادی شرط تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی فراہم کردہ معلومات نے اپالو پروگرام کو درکار موسمی اور فضائی ڈیٹا کی کمی پوری کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں جب امریکہ نے چاند پر کامیابی سے انسان اتارا تو امریکی سائنس دانوں نے پاکستان کے کام اور اس کی رفتار کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایک ترقی پذیر ملک اتنی پیشہ ورانہ مہارت اور تیزی سے اس نوعیت کا سائنسی منصوبہ مکمل کر سکتا ہے۔

اگرچہ چاند پر قدم رکھنے کا اعزاز امریکی خلا باز نیل آرمسٹرانگ اور اپالو 11 مشن کے نام رہا، لیکن اس تاریخی کامیابی کے پس منظر میں پاکستان کا سائنسی تعاون بھی ایک قابلِ ذکر حقیقت ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستانی سائنس دان عالمی سطح کے منصوبوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور درست مواقع، قیادت اور وسائل میسر ہوں تو پاکستان سائنسی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Back to top button