یونیورسٹیاں طلبا سے داخلہ فارموں میں ذاتی معلومات کیوں طلب کرنے لگیں؟

ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات میں داخلوں کا عمل جاری ہے، تاہم متعدد یونیورسٹیوں کے داخلہ فارموں میں امیدوار طلبہ و طالبات سے والدین کی آمدن، گھریلو اخراجات، معاشی صورتحال اور بعض صورتوں میں صحت سے متعلق معلومات طلب کیے جانے پر طلبہ اور والدین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معلومات تعلیمی میرٹ یا داخلے کی اہلیت سے براہِ راست متعلق نہیں، اس لیے ان کی لازمی فراہمی غیر ضروری محسوس ہوتی ہے۔
اسلام آباد کی ایک نجی یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کے طالب علم محمد ثاقب رشید نے بتایا کہ مختلف جامعات کے داخلہ فارموں میں والدین کی مالی معلومات مانگے جانے پر انہیں تشویش ہوئی، کیونکہ بہت سے خاندان ایسے معاملات کو نجی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق فارم میں یہ بھی واضح نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی طالب علم یہ معلومات فراہم نہ کرے تو کیا اس کے داخلے پر کوئی اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معلومات صرف اسکالرشپ یا مالی معاونت کے لیے درکار ہیں تو انہیں اختیاری ہونا چاہیے، جبکہ داخلے کے لیے صرف تعلیمی میرٹ سے متعلق معلومات لازمی ہونی چاہئیں۔
داخلے کی تیاری کرنے والی طالبہ اریبہ طارق کا کہنا ہے کہ داخلہ فارم میں خاندانی اور ذاتی معلومات دیکھ کر وہ اور ان کے والدین اس بات پر پریشان ہوئے کہ یہ معلومات کس مقصد کے لیے جمع کی جا رہی ہیں، کتنے عرصے تک محفوظ رکھی جائیں گی اور آیا انہیں کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر تو نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جامعات کو ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق واضح پالیسی فراہم کرنی چاہیے تاکہ طلبہ اعتماد کے ساتھ اپنی معلومات جمع کرا سکیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے محمد فاروق، جن کے بیٹے نے حال ہی میں یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے، کہتے ہیں کہ محدود آمدن والے والدین کے لیے داخلہ فارم میں آمدن سے متعلق سوالات بعض اوقات شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ خدشہ بھی پیدا ہوا کہ کہیں کم آمدن ظاہر کرنے والے طلبہ کے بارے میں یہ تاثر تو قائم نہیں کیا جاتا کہ وہ مستقبل میں فیس ادا نہیں کر سکیں گے، جس سے ان کے داخلے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معلومات صرف مالی معاونت کے لیے درکار ہیں تو اس کی واضح وضاحت ہونی چاہیے۔
متعدد طلبہ اور والدین کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی مالی یا ذاتی معلومات ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، لیکن انہیں خدشہ رہتا ہے کہ اگر فارم مکمل نہ کیا گیا تو ان کی درخواست متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعات واضح کریں کہ ایسی معلومات کیوں طلب کی جاتی ہیں اور ان کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوگا۔
دوسری جانب تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض جامعات یہ معلومات اسکالرشپس، مالی معاونت، طلبہ کی فلاح و بہبود، خصوصی سہولیات اور ہنگامی حالات میں رابطے جیسے انتظامی مقاصد کے لیے حاصل کرتی ہیں۔ نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر عاطف افتخار کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کو گزشتہ برسوں میں سرکاری گرانٹس میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث انہیں طلبہ کی مالی استطاعت کا جائزہ لینے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ مستقبل میں فیسوں کی عدم ادائیگی یا تعلیم ادھوری چھوڑنے جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹر عاطف افتخار کا کہنا ہے کہ ان کے تجربے میں کبھی ایسا نہیں دیکھا گیا کہ کسی طالب علم کو صرف کم آمدن یا مالی مشکلات کی بنیاد پر، جبکہ وہ تعلیمی میرٹ پر پورا اترتا ہو، داخلے سے محروم کیا گیا ہو۔ ان کے مطابق داخلوں میں بنیادی اہمیت ہمیشہ تعلیمی قابلیت اور میرٹ کو دی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعات کو داخلہ عمل میں شفافیت کے ساتھ ساتھ طلبہ کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا چاہیے، تاکہ امیدوار اپنی نجی معلومات شیئر کرتے وقت غیر ضروری خدشات یا دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
