جے ڈی وینس کے فیلڈ مارشل کیلئے ایک جملے سے عوام نے کروڑوں روپے کیسے کمائے؟

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک مختصر جملہ نہ صرف عالمی میڈیا کی سرخی بنا بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی غیرمعمولی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ صرف چند سیکنڈ پر مشتمل اس بیان نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا، گوگل سرچ میں نمایاں اضافہ کیا اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے لاکھوں ڈالر کی آمدن کا ذریعہ بھی بن گیا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں ایک تقریب کے دوران جے ڈی وینس نے کہا: "میری زندگی میں دو اہم ترین لوگ ہیں، ایک انڈین اور ایک پاکستانی۔ انڈین میری اہلیہ اوشا وینس ہیں اور پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔” یہی ایک جملہ چند گھنٹوں میں عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

ڈیجیٹل اینالیٹکس پلیٹ فارمز گوگل ٹرینڈز اور میلٹ واٹر کے اندازوں کے مطابق اس بیان کو صرف تین دن کے اندر دنیا بھر میں تقریباً 40 کروڑ (400 ملین) ویوز اور امپریشنز حاصل ہوئے، جبکہ اس سے متعلق گوگل پر ڈیڑھ کروڑ سے زائد سرچز ریکارڈ کی گئیں۔ سب سے زیادہ سرچز بھارت میں ہوئیں، جہاں نائب صدر کی اہلیہ اوشا وینس کے باعث دلچسپی پائی گئی، جبکہ پاکستان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سب سے زیادہ سرچ کیا گیا۔ امریکہ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہا۔

یہ بیان صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اسے نمایاں انداز میں نشر کیا۔ CNN، الجزیرہ، دی گارجین، ٹائمز آف انڈیا، این ڈی ٹی وی، مڈل ایسٹ آئی سمیت متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اسے بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کیا۔ ان اداروں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس خبر کی مجموعی ریچ تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ گئی، جبکہ پاکستان اور بھارت کے نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا صفحات پر مزید 15 کروڑ سے زائد افراد نے اس خبر کو دیکھا یا پڑھا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر اس ویڈیو اور متعلقہ پوسٹس کو مجموعی طور پر ایک کروڑ سے زائد لائکس اور لاکھوں شیئرز حاصل ہوئے۔ معروف امریکی صحافیوں اور سیاسی مبصرین کی پوسٹس بھی لاکھوں بار ری شیئر اور پسند کی گئیں، جس سے یہ موضوع کئی روز تک عالمی ٹرینڈز میں شامل رہا۔

ماہرین کے مطابق وائرل ہونے والی خبروں سے حاصل ہونے والی آمدن براہِ راست خبر دینے والی شخصیت کو نہیں ملتی بلکہ وہ میڈیا اداروں، ویب سائٹس، یوٹیوبرز، بلاگرز اور ڈیجیٹل پبلشرز کو اشتہارات اور مونیٹائزیشن کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اندازوں کے مطابق اس وائرل خبر سے مجموعی طور پر ڈیڑھ سے دو ملین امریکی ڈالر کی ڈیجیٹل آمدن ہوئی، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 40 سے 55 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اس آمدن کا بڑا حصہ ویڈیو پلیٹ فارمز سے حاصل ہوا۔ یوٹیوب، فیس بک واچ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز پر تقریباً 15 کروڑ ویوز ریکارڈ کیے گئے، جن سے اشتہارات کے ذریعے اندازاً 4 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ ڈالر کی آمدن ہوئی۔

اسی طرح مختلف نیوز ویب سائٹس پر لاکھوں افراد نے اس موضوع پر مضامین پڑھے، جہاں گوگل ایڈز اور دیگر اشتہاری نیٹ ورکس کے ذریعے 6 لاکھ سے 8 لاکھ ڈالر تک کی آمدن کا تخمینہ لگایا گیا۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے ذریعے بھی کروڑوں امپریشنز حاصل ہوئے۔ چونکہ ایکس اپنے ویریفائیڈ صارفین کو اشتہارات کی آمدن میں حصہ دیتا ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم پر سرگرم بڑے صحافیوں اور ڈیجیٹل کریئیٹرز نے مجموعی طور پر 2 سے 3 لاکھ ڈالر تک حاصل کیے۔

اس کے علاوہ اس وائرل ٹرینڈ کے باعث مختلف پاکستانی، بھارتی اور امریکی میڈیا اداروں، پوڈکاسٹس اور جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں کے پروگراموں کو اسپانسرشپ اور برانڈ پارٹنرشپس بھی حاصل ہوئیں، جن سے بالواسطہ تقریباً 3 لاکھ ڈالر کا اضافی معاشی فائدہ پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک نمایاں مثال ہے کہ ڈیجیٹل دور میں صرف ایک مختصر بیان بھی اگر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لے تو وہ نہ صرف سفارتی اور سیاسی بحث کا مرکز بن سکتا ہے بلکہ میڈیا انڈسٹری کے لیے کروڑوں روپے کی معاشی سرگرمی بھی پیدا کر سکتا ہے۔ البتہ مذکورہ تمام مالی اعداد و شمار مختلف ڈیجیٹل اینالیٹکس اور صنعت کے تخمینوں پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

Back to top button