ایرانی کم قیمت ڈرونز نے دشمن ممالک کے چھکے کیسے چھڑائے؟

دنیا میں جنگی طاقت کا تصور ہمیشہ جدید ٹیکنالوجی، مہنگے ہتھیاروں اور سپر پاور ممالک کے گرد گھومتا رہا ہے۔ لیکن مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران سامنے آنے والے سستے ایرانی ڈرونز نے دنیا میں دفاعی طاقت کے تصور کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے،ان ڈرونز نے یہ ثابت کیا کہ کم لاگت ٹیکنالوجی بھی بڑی طاقتوں کے لیے سنجیدہ چیلنج بن سکتی ہے۔ ایران نے اپنے کم قیمت ڈرونز کے ذریعے نہ صرف اسرائیل اور امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کے چھکے چھڑائے بلکہ خلیجی ممالک کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں سے سخت پابندیوں کی زد میں رہنے والے ایران نے خود کو دفاعی طور پر اتنا مستحکم کیسے بنایا کہ اس نے عالمی جنگی حکمتِ عملی کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ کیا یہ محض سستی ٹیکنالوجی کا کمال ہے یا اس کے پیچھے ایک طویل المدتی منصوبہ بندی، خود انحصاری اور مسلسل تجربات کی کہانی پوشیدہ ہے؟ اسی پس منظر میں یہ جاننا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ایران کا ڈرون پروگرام کب، کیسے اور کن عوامل کے تحت شروع ہوا، اور کن مراحل سے گزرتے ہوئے وہ آج اس مقام تک پہنچا ہے۔
خیال رہےکہ ایرانی ڈرونز کا پہلا تذکرہ برسوں قبل اسرائیل کے ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کی سرگرمیوں سے متعلق فوجی رپورٹس میں سامنے آیا،بعدازاں عسکری ماہرین نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ استعمال ڈرونز کا سِرا بھی ایرانی صنعت سے جوڑا،تاہم ستمبر 2022 میں دنیا اُس وقت حیران رہ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے،حالانکہ اس سے کچھ ہی عرصہ قبل جیرینیم-2 یعنی شاہد-136 نامی ڈرونز کی ابتدائی تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کی فضاؤں میں منڈلاتے ہوئے منظرِ عام پر آ چکی تھیں۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایران ڈرون سازی کی صنعت کی طرف کیسے آیا؟ ایران میں ڈرون پروگرام کی ابتدا کیسے ہوئی؟
دفاعی ماہرین کے مطابق 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران پر سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد ہونے سے پہلے ایرانی فوج جدید امریکی طیاروں پر انحصار کرتی تھی۔ تاہم انقلاب کے بعد نہ صرف امریکی اسلحہ کی فراہمی رک گئی بلکہ تکنیکی معاونت بھی ختم کر دی گئی، جس کے نتیجے میں یہ جدید طیارے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو گئے۔ یہ صورتحال بظاہر کمزوری تھی، لیکن درحقیقت یہی ایران کی سب سے بڑی طاقت بن کر سامنے آئی۔ بیرونی دنیا سے کٹ جانے کے بعد ایران نے خود انحصاری کا راستہ اپنایا، اپنے انجینیئرز پر اعتماد کیا اور مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہی سوچ بعد میں اس کی کامیابی کی بنیاد بنی۔ مبصرین کے مطابق جنوری 1979ء میں جب شاہ محمد رضا پہلوی ملک چھوڑ کر روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے ایک ایسی فوج چھوڑ گئے جو اسلحے کے اعتبار سے خطے کی سب سے طاقتور فوج سمجھی جاتی تھی،ایرانی فضائیہ اس وقت ایف 14 ٹام کیٹ، ایف 4 فینٹم اور ایف 5 ٹائیگر جیسے جدید طیاروں سے لیس تھی،اس دور میں، عسکری سازوسامان کے لحاظ سے ایرانی فوج امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ اور فرانس کے بعد دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ تاہم شاہی حکومت کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی قیادت یا تو ملک چھوڑ گئی، قتل کر دی گئی یا قید میں ڈال دی گئی،
ستمبر 1980 میں عراقی افواج نے ایرانی سرزمین پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نہایت خونریز جنگ شروع ہوئی،جنگ میں تقریباً دس لاکھ افراد جاں بحق ہوئے،جنگ کے ابتدائی مراحل میں عراقی افواج کو فضائی برتری حاصل رہی۔ جبکہ ایران کے پاس نہ فعال طیارے تھے اور نہ ہی مؤثر نگرانی کا نظام موجود تھا۔ اسی مشکل صورتحال میں ایران نے ایک سادہ مگر انقلابی خیال اپنایا کہ چھوٹے، ریموٹ کنٹرول طیاروں کے ذریعے دشمن کی نگرانی کی جائے۔ اصفہان یونیورسٹی کے طلبہ اور انجینیئرز نے محدود وسائل کے باوجود ان ڈرونز پر کام شروع کیا۔ ابتدا میں یہ ڈیزائن نہایت سادہ اور غیر روایتی تھے، لیکن ان کے پیچھے ایک واضح مقصد اور عزم موجود تھا جو آگے چل کر بڑی کامیابی میں تبدیل ہوا۔ایرانیوں نے 1981 کے اوائل ہی میں ڈرونز جیسے ان چھوٹے آلات پر کام شروع کیا، اس منصوبے کی بنیاد اصفہان یونیورسٹی میں رکھی گئی،برسوں کی کوششوں، بار بار کی ناکامیوں اور مسلسل جدوجہد کے بعد، اصفہان کی اسی یونیورسٹی ورکشاپ میں نوجوان طلبا ڈرونز کے ڈیزائن تیار کرتے اور پھر خوزستان کے کھلے میدانوں میں ان کے تجربات کرتے رہے،ایران کے ڈرون پروگرام کے ابتدائی معماروں میں فرشید نامی ایک سویلین پائلٹ، دوسرا سعید نامی فزکس کا طالبعلم اور تیسرا مسعود زاہدی نامی پیشہ ور سنار شامل تھے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق جب ان نوجوانوں نے پہلی مرتبہ ڈروان کا اپنا تیارکردہ ابتدائی نمونہ فوجی حکام کے سامنے پیش کیا تو بعض افسران نے اس خیال کا مذاق اڑایا اور کہا کہ یہ ماڈل کسی بچے کے کھلونے سے زیادہ معلوم نہیں ہوتا تھا،اس کا فیول ٹینک ایک طبی آئی وی بیگ تھا، جبکہ اس کا ’فین‘ یا پنکھا مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیا گیا تھا، تاہم 1983 میں ایران نے پہلا کامیاب ڈرون مشن مکمل کیا جس میں دشمن کی پوزیشنز کی واضح تصاویر حاصل کی گئیں۔ یہ کامیابی ایک سنگ میل ثابت ہوئی اور اس کے بعد ڈرون پروگرام کو باقاعدہ شکل دے دی گئی۔ 1983 میں، محاذِ جنگ سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور، وہی ’کھلونا‘ طیارہ پہلی بار عراقی فوجی پوزیشنز کے اوپر پرواز کرنے میں کامیاب ہوا اور ایرانی ڈرون طیارہ واضح اور قابلِ استعمال تصاویر کے ساتھ واپس لوٹا، جن میں عراقی فوجی تنصیبات صاف نظر آ رہی تھیں۔ اس کامیابی کے بعد تھنڈر بٹالین کے قیام اور ایک باقاعدہ ڈرون پروگرام کے آغاز کے احکامات جاری کیے گئے،جس کے بعد ایران کا ڈرون پروگرام اصفہان یونیورسٹی کی ایک سٹوڈنٹ ورکشاپ سے نکل کر پاسداران انقلاب کے فوجی کمانڈروں کے زیرِ نگرانی آ گیا۔ جس کے بعد ایران نے ڈرون پروگرام کو صرف نگرانی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ڈرونز کو حملہ آور ہتھیار کے طور پر بھی تیار کرنا شروع کیا۔ اس کے نتیجے میں “مہاجر” اور “ابابیل” جیسے ڈرونز سامنے آئے، جنہوں نے میدانِ جنگ میں ایران کی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ یوں ڈرونز صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ براہِ راست جنگی ہتھیار بن گئے۔
ایران اور امریکہ کے مابین جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان
دفاعی ماہرین کے مطابق دنیا میں طویل عرصے تک یہ تصور غالب رہا کہ جتنا مہنگا اور جدید ہتھیار ہوگا، وہ اتنا ہی زیادہ مؤثر اور فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ تاہم ایران نے اس روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے ایک بالکل مختلف حکمتِ عملی اختیار کی، جس نے جنگی توازن کے اصول ہی بدل کر رکھ دیے۔ ایران کی حکمتِ عملی کی بنیاد ایک سادہ مگر مؤثر خیال پر رکھی گئی: مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی کا مقابلہ سستے مگر بڑی تعداد میں دستیاب ہتھیاروں سے کیا جائے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت ایسے ڈرونز تیار کیے گئے جن کی لاگت نسبتاً بہت کم تھی، مگر ان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا مجموعی اثر انتہائی طاقتور بن جاتا تھا۔مثال کے طور پر، ایک ڈرون کی قیمت تقریباً 20 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہوتی ہے، جبکہ اسے تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا جدید دفاعی میزائل لاکھوں ڈالر کا ہو سکتا ہے۔ اس فرق کی وجہ سے جب بڑی تعداد میں ڈرونز بیک وقت بھیجے جاتے ہیں تو مخالف کا دفاعی نظام نہ صرف تکنیکی دباؤ کا شکار ہوتا ہے بلکہ اسے مالی طور پر بھی شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی نے جدید جنگ میں ایک نئے تصور کو جنم دیا ہے جس میں درجنوں یا سینکڑوں ڈرونز کو ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دشمن کے دفاعی نظام کو مغلوب کیا جا سکے۔ یوں ایران نے ثابت کیا کہ کم لاگت اور بڑی تعداد کا امتزاج بھی جنگ میں فیصلہ کن برتری دلا سکتا ہے۔
