فتنہ الخوارج کا جنوبی وزیرستان میں کواڈ کاپٹر حملہ، 3 بچیاں جاں بحق

تنظیم فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک کے اپر نرگسئی میں ایک رہائشی گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 3 کمسن بچیاں جاں بحق ہوگئیں۔
جاں بحق ہونے والی بچیوں کی شناخت میناکہ بی بی (15 سال)، گل نازہ بی بی (9 سال) اور بشروبانہ (6 سال) کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ مزلہ بی بی، خاطر (13 سال)، نقیب (4 سال) اور گل زدین (22 سال) زخمی ہوئے۔ یہ گھر وزیر قبیلے کے دینوار ذیلی شاخ سے تعلق رکھنے والے محمد گل عرف بگل کی ملکیت تھا۔
خوارج کی جنگ پورے معاشرے، اس کے عوام اور امن کے خلاف ہے۔ ان کی تاریخ بچوں، خواتین، قبائلی عمائدین، مساجد، عوامی مقامات اور معاشرے کے ہر طبقے کو اندھا دھند تشدد کا نشانہ بنانے سے بھری پڑی ہے، جس کا مقصد شہری زندگی، سماجی استحکام اور عوامی تحفظ کو تباہ کرنا ہے۔
کواڈ کاپٹر حملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خوارج بے گناہ شہریوں کی جانوں کی کوئی قدر نہیں کرتے اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے بچوں تک کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔
خوارج شہری آبادی کو کواڈ کاپٹر حملوں سمیت جدید دہشتگردانہ حربوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، خاندانوں کو اجاڑنا اور خونریزی و جبر کے ذریعے اپنی دہشت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حملوں کا مقصد معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور بے چینی پھیلانا ہے۔
خوارج پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارت اور افغانستان میں موجود اپنے بیرونی سرپرستوں کے مفادات کو آگے بڑھانے والے پراکسی عناصر کے طور پر کام کررہے ہیں۔
انہی بیرونی سرپرستوں کی فراہم کردہ معاونت اور صلاحیتیں انہیں اس نوعیت کے حملوں کی ہمت اور وسائل فراہم کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے جغرافیائی و سیاسی مقاصد حاصل کر سکیں۔
اس قسم کے بزدلانہ حملے ریاست کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے بلکہ قومی اتحاد کو مزید مضبوط اور عوام کے اس عزم کو مستحکم کرتے ہیں کہ خوارج کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔
ان حملوں میں ملوث ہر دہشتگرد، سہولت کار اور معاون کی نشاندہی کی جائے گی اور انہیں قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
