غیر ملکی خواتین کے اغوا میں لاہور پولیس کا جھوٹ بے نقاب

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کے خلاف دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، تاوان طلب کرنے اور جنسی زیادتی کے کیس میں پولیس کا یہ دعوی جھوٹا ثابت ہو گیا ہے کہ دونوں مغوی خواتین کو ڈیفنس لاہور سے پولیس نے چھاپہ مار کر بازیاب کیا تھا۔
مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے متاثرہ خواتین کے بیانات کے مطابق وہ لاہور پولیس کی کسی براہِ راست ریسکیو کارروائی کے نتیجے میں نہیں بلکہ ملزمان کی گاڑی کو پیش آنے والے ٹریفک حادثے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ ان بیانات کے بعد پولیس کی جانب سے سامنے آنے والے ابتدائی مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، تاہم پولیس نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی نئی وضاحت جاری نہیں کی۔
کینٹ کچہری لاہور میں فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیانات میں نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی خواتین نے دعویٰ کیا کہ انہیں کاروباری شراکت داری اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتوں کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا، جہاں بعد ازاں انہیں اغوا کر لیا گیا۔ڈچ شہری خاتون کے مطابق وہ اور ان کی وینزویلین دوست گزشتہ سال سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی کانفرنس کے دوران مرکزی ملزم سے ملی تھیں۔ ملزم نے خود کو بااثر حکومتی شخصیات سے قریبی تعلق رکھنے والا شخص ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ان کی کمپنی کے لیے پاکستان میں بڑے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کروا سکتا ہے، جس پر اعتماد کرتے ہوئے دونوں خواتین 26 جون کو پاکستان پہنچیں۔
خاتون کے مطابق اسلام آباد میں تین روز قیام، کاروباری ملاقاتوں اور نتھیا گلی کی سیر کے بعد 29 جون کو انہیں لاہور لایا گیا۔ یہاں انہیں ایک رشتہ دار کی سالگرہ کی تقریب کا بہانہ بنا کر ڈیفنس کے علاقے میں واقع ایک جدید گھر لے جایا گیا، مگر وہاں پہنچنے کے چند ہی منٹ بعد مسلح افراد اندر داخل ہوئے، دونوں خواتین کے ہاتھ باندھ دیے اور انہیں یرغمال بنا لیا۔
متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا کہ مرکزی ملزم نے ابتدا میں خود کو بھی یرغمال ظاہر کر کے ان کا اعتماد برقرار رکھنے کی کوشش کی، لیکن بعد میں واضح ہو گیا کہ وہ مسلح افراد کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ خواتین کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جان سے مارنے اور اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ تاوان کے طور پر ابتدائی طور پر 20 لاکھ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا گیا۔
ڈچ خاتون نے اپنے بیان میں مزید الزام لگایا کہ ملزمان نے اس کا موبائل فون چھین کر اس کے کرپٹو اکاؤنٹس سے تقریباً 17 ہزار امریکی ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منتقل کی، جبکہ اسے اپنے اہلِ خانہ اور دوستوں کو رقم بھجوانے کے لیے مسلسل وائس پیغامات بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔
خاتون کے مطابق اس نے پہلے سے طے شدہ ایک خفیہ کوڈ ورڈ اپنے پیغامات میں شامل کر دیا، جسے دیکھ کر یورپ میں موجود اس کے اہلِ خانہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ شدید خطرے میں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا، جس پر پولیس نے اغوا کی تحقیقات شروع کر دیں۔
متاثرہ خواتین نے الزام عائد کیا کہ دورانِ قید انہیں رضا ڈار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا گیا جبکہ دونوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی گئی۔ وینزویلا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے بھی اپنے الگ بیان میں تقریباً یہی واقعات دہرائے اور کہا کہ مرکزی ملزم نے خود کو ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت کا بیٹا ظاہر کر کے ان کا اعتماد حاصل کیا تھا۔ ڈچ خاتون کے مطابق یکم جولائی کو مرکزی ملزم نے انہیں بتایا کہ وہ انہیں ایئرپورٹ لے جا رہا ہے، تاہم اس نے راستہ بدل لیا۔ خاتون نے اپنے پاس موجود ایک خفیہ موبائل فون سے راستہ دیکھ کر محسوس کیا کہ انہیں کسی اور مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران گاڑی سڑک پر ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی اور رفتار کم ہوتے ہی دونوں خواتین نے موقع سے فائدہ اٹھایا، چلتی گاڑی سے نکل کر بھاگ گئیں اور چیختے ہوئے قریب موجود ایک مکینک کی دکان میں پناہ لے لی۔
خواتین کے مطابق ایک ٹریفک پولیس اہلکار نے انہیں دیکھا اور فوری طور پر مزید نفری طلب کی۔ شدید خوف اور ذہنی صدمے کے باعث وہ ابتدا میں پہلی پولیس گاڑی سے بھی گھبرا کر نکل گئیں، تاہم بعد میں سینئر پولیس افسران اور ایک خاتون پولیس اہلکار نے انہیں اعتماد میں لیا اور بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں سے ان کے اغوا کے کیس پر کام کیا جا رہا تھا، جس کے بعد دونوں خواتین نے پولیس کے ساتھ جا کر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔
اس مقدمے میں پولیس نے پانچ افراد کے خلاف اغوا برائے تاوان، جنسی زیادتی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ چار ملزمان، جن میں رضا ڈار بھی شامل ہیں، گرفتار ہو چکے ہیں اور انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، جبکہ ایک ملزم کی تلاش جاری ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں، بشمول مبینہ کرپٹو کرنسی لین دین، کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ الزامات کی حتمی حقیقت کا تعین عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
