خیبرپختونخوا میں اچانک دہشتگردی کیوں بڑھنے لگی؟

خیبر پختونخوا ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی شدید لہر کی زد میں ہے۔ رواں سال خصوصاً مئی اور جون کے دوران دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافے نے نہ صرف سکیورٹی اداروں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق مئی 2026 رواں برس کا سب سے زیادہ پرتشدد مہینہ ثابت ہوا، جبکہ بنوں، شمالی و جنوبی وزیرستان، خیبر، کرم، باجوڑ، لکی مروت، ٹانک اور دیگر اضلاع مسلسل شدت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

20 جون کو ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے قریب پیش آنے والا واقعہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کی ایک ہولناک مثال ہے، جہاں مسافر گاڑی کو یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں سات افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ مقامی عمائدین کے مطابق نشانہ بننے والے شہری شدت پسندوں کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے تھے، جس کے باعث انہیں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

دہشت گردی میں اضافے کے ساتھ ایک اہم سیاسی سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات اور سکیورٹی معاملات پر عدم ہم آہنگی امن کی بحالی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، خصوصاً فوجی آپریشنز، پر مکمل تعاون نہیں کر رہی، جبکہ صوبائی حکومت اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور ترقیاتی اقدامات ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان امن و امان کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اپیکس کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہونے چاہییں تاکہ تمام ریاستی ادارے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی جیسے قومی مسئلے پر تمام فریقوں کا ایک صفحے پر ہونا ناگزیر ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان اس تاثر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے ہر اس موقع پر ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا جہاں ضرورت پیش آئی، تاہم وہ ایسے فوجی آپریشنز کی حمایت نہیں کرتی جن کے نتیجے میں عام شہری نقل مکانی پر مجبور ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیراہ اور دیگر علاقوں میں آپریشن کے خدشات کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، لیکن بعد میں کئی مقامات پر مکمل آپریشن ہی نہیں ہوا، جس سے متاثرہ آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی نے مشترکہ طور پر 1,087 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں 108 شدت پسند ہلاک اور 283 گرفتار کیے گئے۔ اسی عرصے میں پولیس پر 194 حملے ہوئے، جن میں سے 106 حملوں کو ناکام بنایا گیا۔ آئی جی پولیس کے مطابق شدت پسند اب جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرون اور کواڈ کاپٹرز، استعمال کر رہے ہیں، جس کے جواب میں پولیس کو بھی اینٹی ڈرون آلات اور جدید سکیورٹی سازوسامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

بنوں اور جنوبی اضلاع میں امن کمیٹیوں کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مقامی رہنماؤں کے مطابق صرف ضلع بنوں میں دیہی سطح پر 22 امن کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں، جو مقامی آبادی، علماء اور پولیس کے ساتھ مل کر شدت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں، مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع دیتی ہیں اور عوام میں امن و امان سے متعلق آگاہی پیدا کرتی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوامی تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں خاندان اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانے کے منتظر ہیں۔ مقامی کمیٹیوں کے مطابق آپریشن مکمل ہونے کے بعد اپریل کے اختتام تک واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم جولائی تک بھی متعدد خاندان بے گھر ہیں۔ اس صورتحال نے متاثرین میں بے چینی اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات کو جنم دیا ہے۔

سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، حافظ گل بہادر گروپ، داعش سے وابستہ عناصر اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں میں اضافہ، افغانستان سے ملحق سرحدی صورتحال اور مقامی سہولت کاروں کا کردار اہم عوامل ہیں۔ ان کے مطابق صرف فوجی کارروائیاں مسئلے کا مکمل حل نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، سیاسی ہم آہنگی، سرحدی نگرانی، مقامی آبادی کا اعتماد، ترقیاتی منصوبے اور سماجی استحکام ایک جامع انسداد دہشت گردی حکمت عملی کا حصہ ہونے چاہییں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اگر وفاق، صوبائی حکومت، سکیورٹی ادارے اور مقامی قیادت مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں تو دہشت گردی کے چیلنج سے زیادہ مؤثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے، لیکن اگر سیاسی اختلافات سکیورٹی معاملات پر غالب رہے تو امن کی بحالی کا عمل مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن کا مستقبل صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں بلکہ قومی اتفاقِ رائے، مؤثر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔

Back to top button