غیر ملکی خواتین اغوا و زیادتی کیس، رضا ڈار سرغنہ نکلا

لاہور میں سپین اور نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا، یرغمال بنانے، تاوان طلب کرنے اور جنسی تشدد کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 لاہور کینٹ کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرائے گئے دونوں خواتین کے بیانات میں ملزم محمد احمد رضا ڈار اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف نہایت سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔

عدالتی بیان میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ اسٹیفنی ایڈریانا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی رضا ڈار سے پہلی ملاقات اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک تقریب کے دوران ہوئی، جہاں دونوں کے درمیان کاروباری روابط قائم ہوئے۔ ان کے مطابق رضا ڈار نے انہیں پاکستان میں سرمایہ کاروں سے ملاقات کی دعوت دی اور ویزے کے انتظامات بھی کیے۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ رضا ڈار خود کو ایک وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا، جس کی وجہ سے ان کا اس پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔

بیان کے مطابق دونوں خواتین 26 جون کو پاکستان پہنچیں اور چند روز اسلام آباد میں قیام کے بعد رضا ڈار کے ہمراہ لاہور آئیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا کہ وہ رضا ڈار کے کزن کے گھر ان کی آنٹی کی سالگرہ میں شرکت کے لیے جا رہی ہیں، تاہم وہاں پہنچنے پر گھر خالی تھا۔ ان کے مطابق کچھ دیر بعد چار مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، انہیں باندھ دیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور لاکھوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ رضا ڈار بھی اس دوران خود کو متاثرہ شخص ظاہر کرتا رہا، جبکہ وہاں موجود ایک شخص کو تمام افراد "باس” کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔

متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اپنے اہل خانہ سے تاوان کی رقم منگوانے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے اپنے بھائی اور والدین کو وائس نوٹس بھیجے اور پہلے سے طے شدہ خفیہ کوڈ ورڈ "CARLITOS” استعمال کیا، جس سے ان کے اہل خانہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ خطرے میں ہیں اور انہوں نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔

خاتون نے مزید الزام لگایا کہ اس دوران ان کے ہاتھ تقریباً بارہ گھنٹے تک بندھے رہے، جبکہ ان کے موبائل فون کے ذریعے تقریباً 17 ہزار امریکی ڈالر کرپٹو والٹ میں منتقل کیے گئے۔ ان کے مطابق رضا ڈار نے انہیں بتایا کہ سرمایہ کار ان کی کمپنی میں سرمایہ کاری کریں گے، تاہم اس سے پہلے مزید لاکھوں ڈالر کا بندوبست کرنا ہوگا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی گئیں، جسمانی تشدد کیا گیا اور جان سے مارنے سمیت اعضا فروخت کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

بیان کے مطابق بعد ازاں رضا ڈار نے کہا کہ تمام معاملات طے ہو چکے ہیں اور وہ آزاد ہیں، جس کے بعد انہیں گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی طرف لے جایا گیا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ موبائل فون کے ذریعے راستہ دیکھ رہی تھیں اور محسوس کیا کہ انہیں ایئرپورٹ کے بجائے کسی اور سمت لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق راستے میں گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر ایک قریبی مکینک ورکشاپ میں پہنچ گئیں، جہاں موجود افراد اور ٹریفک پولیس اہلکار نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور متعلقہ پولیس کو اطلاع دی۔

اسپین سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ آسٹریڈ گیبریلا رابنسن براچو نے بھی عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں تقریباً انہی واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے مزید الزام لگایا کہ قید کے دوران ان کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی گئی اور غیر فطری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلح افراد انہیں برہنہ کرکے تشدد کرتے رہے، جبکہ رضا ڈار ان سے مسلسل رقم اور بینک معلومات طلب کرتا رہا۔

خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان آنے سے قبل رضا ڈار کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں کیونکہ وہ خود کو ایک وفاقی وزیر علی ڈار کا بیٹا قرار دیتا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی دیکھی تھیں جن میں رضا ڈار مختلف اہم شخصیات کے ساتھ موجود تھا، جس کی وجہ سے انہیں اس کی باتوں پر یقین آیا۔

یہ مقدمہ اس وقت لاہور کی متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران ریکارڈ کیے گئے یہ بیانات استغاثہ کے مقدمے کا حصہ ہیں، جبکہ ملزمان کو قانون کے مطابق اپنا دفاع پیش کرنے اور الزامات کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت شواہد، گواہوں اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کرے گی۔

Back to top button