گورا گورنر‘ ہندوستانی مجسٹریٹ

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ جنگ

پاکستان میں کم ریٹائرڈ فوجی افسران کتابیں لکھتے ہیں۔ اگر لکھ لیں تو کالم نگار‘ میڈیا اور دانشور پیچھے پڑ جائیں گے کہ اس وقت ہی کیوں لکھی۔انہیں وہ کتاب بڑی سازش کا حصہ لگتی ہے‘ طعنہ دیا جاتا ہے جب سروس میں تھے تو اس وقت فلاں ایشو پر بات کیوں نہ کی۔ اگر سب کچھ غلط ہورہا تھا تو نوکری چھوڑ کیوں نہ دی۔ ایک دفعہ مرحوم دوست ڈاکٹر ظفر الطاف نے کوئی واقعہ سنایا‘ جس میں انہوں نے کسی بڑے اجلاس میں وزیرخزانہ سے اختلاف کیا لیکن پھر بھی فیصلہ وہی ہوا۔ میں نے کہہ دیا آپ کو نوکری چھوڑ دینی چاہیے تھی‘ غلط کام ہورہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے سنجیدہ انداز میں مجھے وہ بات سمجھائی کہ اسکے بعد کسی اچھے اور ایماندار افسر کو نہ کہا آپ نے احتجاجاً نوکری چھوڑ کیوں نہ دی۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ سرکاری افسر کسی کا ذاتی ملازم نہیں ہوتا کہ کوئی ناخوش ہو کر نکال دے یا وہ کسی بات پر ناراض ہو کر چھوڑ کر چلا جائے۔ وہ ریاستِ پاکستان کے ملازم تھے‘ انہیں تنخواہ وزیراعظم یا وزیر اپنی جیب سے نہیں دیتا تھا۔وہ عوام کے ٹیکس سے ملتی تھی۔ انہوں نے مقابلے کا امتحان پاس کر کے وہ نوکری لی تھی لہٰذا وہ کیوں چھوڑ دیتے۔ پھر وہ بڑا جوازپیش کرتے تھے کہ بھائی جان ( ڈاکٹر صاحب کا تکیہ کلام تھا)آپ چاہتے ہیں جو افسر کسی اجلاس میں غلط فیصلوں پر اعتراض کرتے ہیں اور انہیں رکوانے کی کوشش کرتے ہیں‘ وہ تو نوکری چھوڑ دیں لیکن جو غلط فیصلے کرتے ہیں وہ بیٹھے رہیں؟ مزاحمتی افسر کیوں چلا جائے؟ وہ کم از کم وہاں بیٹھا غلط حکمرانوں یا پالیسی میکرز کو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ آپ کو تو ان کا حوصلہ بڑھانا چاہیے تاکہ وہ ڈٹے رہیں اور انہیں احساس ہو کہ چلیں چند لوگ ان کی مزاحمت کی قدر کرتے ہیں۔ اس گفتگو نے مجھ پر اتنا اثر کیا کہ اس کے بعد کبھی کسی اچھے افسر کو زیرِ عتاب دیکھا تو اپنے قلم اور زبان سے اس کو بھرپور سپورٹ دی۔ اگرچہ اب ایسے افسر بہت کم رہ گئے ہیں جو مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اب تو اکثر ایک ہی رنگ میں رنگے گئے ہیں کہ نوکری یہاں کرو‘ پیسہ یہاں سے کماؤ اور باہر بھیجتے رہو۔ خیر بات کتاب لکھنے سے شروع ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں بیوروکریٹس اب بھی کبھی کبھار کتابیں لکھ لیتے ہیں لیکن انہیں بہت کچھ سننا اور بھگتنا پڑتا ہے کہ اب کیوں بولے۔ ان کی ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے۔ یوں وہ بددل ہوتے ہیں اور پھر بڑے عرصے تک کوئی کتاب لکھنے کا نہیں سوچتا۔ میرا دوستوں کو کہنا ہوتا ہے کہ چلیں آدھا ہی سہی کچھ سچ تو باہر آیا۔ کچھ تو پتہ چلا کہ اندر کھاتے ان اہم مواقع پر کیا چل رہا تھا۔ جب سابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کی کتاب ”یہ خامشی کب تک‘‘ آئی‘ جس میں انہوں نے بڑے انکشافات کیے تھے تو جنرل مشرف اور ان کے حامی بہت اَپ سیٹ ہوئے کہ 12اکتوبر کی بغاوت کی پلاننگ بہت پہلے ہو چکی تھی۔ انہوں نے مشرف دور کی بہت سی باتوں کو ایکسپوز کیا۔ میں نے وہ کتاب پڑھی اور اسی صفحے پر کالم بھی لکھے۔ میرا نکتہ تھا کہ آپ جنرل شاہد عزیز کو کتاب لکھنے پر تنقید کا نشانہ نہ بنائیں‘ یہ اُن کا ورژن آف ایونٹس ہے۔ انہوں نے جن کرداروں کا ذکر کیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ وہ جواب دینا چاہیں تو اپنی کتاب لکھ دیں اس طرح ہی مکالمہ چلتا ہے اور معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو‘ یہی کچھ سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے ساتھ کیا گیا جب ان کی لکھی کتاب The Spy Chronicles پر کورٹ مارشل شروع کر دیا گیا کہ را کے چیف کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان‘ امریکہ‘ بھارت اور افغانستان کے پرانے قصے کیوں ڈسکس کیے تھے۔ حالانکہ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ جنرل درانی کی وہ کتاب پاکستان بھارت کے سکیورٹی‘ انٹیلی جنس ایشوز کو سمجھنے کیلئے بڑی اہم ہے۔ بھارت میں اس کتاب کی تقریب رونمائی میں دو سابق وزرائے اعظم اور اہم لوگ شریک ہوئے اور ہمارے ہاں جنرل درانی کورٹ مارشل کی پیشیاں بھگت رہے تھے۔ اس طرح امریکہ میں ہر صدر یا وزیرخارجہ‘ سی آئی اے چیف یا ایف بی آئی کا باس ریٹائرمنٹ کے بعد کتاب ضرور لکھے گا۔ اسے کوئی طعنہ نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں پہلے تو کوئی کتاب لکھتا نہیں اور اگر لکھ دے تو پھر وہی حشر ہوتا ہے جو جنرل شاہد عزیز کا ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں امریکن آپریشن کے بارے ابامہ اور ہیلری کلنٹن سے لے کر سی آئی اے چیف لیون پنیٹا تک سب نے اپنی اپنی کتابوں میں اس پر پورا باب لکھا اور بتایا کہ کیسے سب کچھ پلان کیا گیا تھا۔ ان کتابوں میں صدر زرداری‘ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کا بھی خاصا ذکر تھا کہ انہیں فون کر کے کیا بتایا گیا اور ان کا کیا ردِعمل تھا۔ مجال ہے جنرل کیانی‘ جنرل پاشا یا صدر زرداری نے اپنی یادداشتیں لکھنے کی کوشش کی ہو کہ اس وقت کیا ہوا اور انہوں نے کیسے ہینڈل کیا۔ لیکن امریکیوں نے اپنی قوم اور میڈیا کو سب کچھ بتایا کہ انہوں نے اپنے ملک اور عوام کے فائدے کیلئے اپنے اقتدار میں کیا کیا کام کیے۔
بات کتابوں سے چلی ہے تو کل ہی پرانی کتابوں سے بھارت کے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا کی ایک کتاب‘ جو انہوں نے 2007ء میں لکھی تھی‘ ہاتھ لگ گئی۔ وہ مقبوضہ کشمیر اور آسام میں گورنر بھی رہے۔ وہ بھارتی فوج کے وائس چیف آف آرمی سٹاف رہے۔ خیر اس کتاب کو ان کی یادداشتوں کی ایک شکل سمجھ لیں۔ اس کتاب میں وہ ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ دو انسان اگر انا کی لڑائی میں پھنس جائیں تو بات کہاں تک چلتی ہے۔ برسوں تک بھی آپ وہ نہیں بھولتے اور پوزیشن میں ہوں تو اس بندے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کے دادا پولیس افسر تھے۔ پکے قوم پرست۔ ہر وقت جیب میں استعفیٰ رکھتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی بھی انگلش سرکار میں ڈپٹی مجسٹریٹ تھے اور جوانی میں اچھے پہلوان بھی تھے۔ برٹش افسران ان سے خائف بھی تھے۔ 1906ء میں ان کا ایک جگہ ٹرانسفر ہوا تو بہت جلد ان کا پھڈا گورے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے ہو گیا جس کا نام Sifton تھا۔ اس افسر نے دفتر بلایا اور پوچھ گچھ کی کہ اس نے حکومتی خزانے سے دو روپے کے بال پوائنٹ کیوں خریدے تھے؟ اس پر ان کے دادا کے بھائی نے وضاحت دی کہ انہوں نے سرکاری کاموں کیلئے وہ بال پین خریدے تھے۔ انہیں ہر روز بہت ساری انٹریز کرنی ہوتی ہیں۔ پین کے ساتھ سیاہی پھیل جاتی تھی لہٰذا بال پوائنٹس خرید لیے۔ ڈی سی سفٹن نے کہا کہ اپنی غلط حرکت پر تم جھوٹ بول رہے ہو۔ ان کے دادا کے پاس بہت سارے پین تھے جو انہوں نے جیب سے نکال کر انہیں دکھائے۔ ایک فاؤنٹین پین سونے کا بھی تھا۔ سب ڈی سی کی میز پر رکھ دیے۔ اس پر ڈی سی کو غصہ آیا اور اس نے کہا Bloody Indian۔ اس پر دادا کے بھائی کو غصہ آیا اور گورے ڈی سی کو گردن سے پکڑ لیا جو مدد کیلئے چلایا۔ اہلکار دوڑتے آئے اور اسے چھڑایا۔ یہ بہت بڑا جرم تھا کہ ایک انڈین نے گورے افسر پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ انہیں نوکری سے ڈسمس کر دیا جائے گا۔ ڈی سی نے پٹنہ میں کمشنر کو رپورٹ کیا۔ گرینڈ انکل نے اپنے باپ کو لکھا کہ کیا ہوا تھا۔ وہ بہار کے بڑے وکیل تھے اور گورنر بنگال کونسل کے ممبر تھے۔ ان کے گورنر جنرل اینڈریو ایرزر سے اچھے تعلقات تھے۔ اس پر انکوائری ہوئی جس میں گرینڈ انکل بے قصور نکلے کہ گالی دی گئی تھی۔ انہیں بے قصور قرار دیا گیا۔ نوکری بچ گئی لیکن بات یہاں ختم نہ ہوئی۔کچھ برس کے بعد ڈی سی سفٹن پہلے بہار کا چیف سیکرٹری اور پھر گورنر لگ گیا۔ اس نے پہلا حکم یہی دیا کہ یہ انڈین افسر کبھی ترقی نہیں پائے گا۔ وہ 1935ء میں ایس ڈی او ہی ریٹائر ہوئے‘ جب سفٹن گورنر تھا۔ گورا اگر اپنی زبان پر قابو نہ رکھ سکا تو دیسی افسر اپنے ہاتھوں پر۔ گورا گورنر لگ کر بھی ایک انڈین سے اپنا ذاتی انتقام لینا نہ بھولا تھا۔

Back to top button