3اہم وفاقی وزارتوں میں اربوں کی خورد برد بے نقاب کیسے ہوئی؟

وفاقی حکومت کی تین اہم وزارتوں میں مالیاتی نظم و نسق کی سنگین خامیاں اور اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں سامنے آ گئی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی مالی سال 2024-25 کی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ مذہبی امور، وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی اور وزارتِ تجارت میں مجموعی طور پر اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ناقص نگرانی اور کمزور داخلی کنٹرول کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان وزارتوں میں مالی نظم و نسق کی صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ آڈٹ اعتراضات پر عمل درآمد کی شرح بھی انتہائی کم رہی، جسے ماہرین سرکاری احتسابی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اس رپورٹ میں سب سے زیادہ مالی بے ضابطگیوں کی زد میں آئی ہے، جہاں مجموعی طور پر 5 ارب 21 کروڑ 50 لاکھ 70 ہزار روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق حج 2024 کے دوران سعودی عرب کی طوافہ کمپنی کو 17 کروڑ 60 لاکھ سعودی ریال ادا کیے گئے، مگر اس کے باوجود حجاج کرام کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں۔ متعدد مقامات پر بسوں کی آمد میں 12 گھنٹے تک تاخیر ہوئی جبکہ ریلوے اسٹیشنوں پر بھی حجاج کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ آڈٹ کے مطابق ان کوتاہیوں پر ابتدائی طور پر ایک کروڑ 76 لاکھ سعودی ریال جرمانہ تجویز کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں صرف 40 لاکھ سعودی ریال بطور معاوضہ قبول کر لیا گیا، جو رپورٹ کے مطابق تاحال وصول نہیں کیا جا سکا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور مالی نگرانی کے باعث 60 لاکھ 93 ہزار 140 سعودی ریال کی رقم، جو نجی حج آرگنائزرز سے وصول کی جانی تھی، سرکاری خزانے پر منتقل ہو گئی اور اب تک واپس وصول نہیں کی جا سکی۔ اسی طرح ایسے عازمین کے لیے، جو حج پر روانہ ہی نہیں ہوئے، 3 لاکھ سعودی ریال سے زائد اضافی ویزا فیس ادا کی گئی، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ آڈیٹر جنرل نے حج 2025 فنڈ سے 3 لاکھ 93 ہزار 27 سعودی ریال کی ایک مشتبہ منتقلی کی بھی نشاندہی کی ہے، جس کا کوئی باقاعدہ بینکاری ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے آڈٹ حکام اس لین دین کی تصدیق نہیں کر سکے۔

وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی میں بھی ایک ارب 81 کروڑ 16 لاکھ 30 ہزار روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کے ڈیتھ کمپنسیشن اکاؤنٹ میں 24 کروڑ 5 لاکھ 25 ہزار سعودی ریال کی خطیر رقم برسوں تک غیر استعمال شدہ پڑی رہی، حالانکہ یہ رقوم بیرون ملک وفات پانے والے پاکستانی کارکنوں کے اہل خانہ کو ادا کی جانی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق مکمل ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود تقریباً 400 خاندانوں کو 7 کروڑ 26 لاکھ 56 ہزار سعودی ریال سے زائد کی ادائیگی نہیں کی جا سکی، جبکہ 16 کروڑ 70 لاکھ سعودی ریال سے زائد رقم صرف اس لیے تقسیم نہ ہو سکی کیونکہ متعلقہ مستحقین کی شناخت ہی مکمل نہیں کی جا سکی۔ آڈٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ان غیر استعمال شدہ فنڈز کو مالیاتی قواعد کے مطابق منافع بخش سرمایہ کاری میں منتقل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں قومی خزانہ ممکنہ آمدن سے محروم رہا۔

وزارتِ تجارت کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ میں 5 کروڑ 81 لاکھ 78 ہزار روپے کے بے ضابطہ اخراجات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے تجارتی مشنز، خصوصاً لاس اینجلس اور ہیوسٹن میں، مالیاتی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک لاکھ 90 ہزار 193 امریکی ڈالر کے ہیلتھ انشورنس پریمیم اور طبی اخراجات ادا کیے گئے، حالانکہ وفاقی حکومت نے بیرون ملک تعینات افسران کے لیے ایسا کوئی باقاعدہ ہیلتھ انشورنس فریم ورک منظور نہیں کیا تھا۔ اسی طرح لاس اینجلس میں کرائے کی رہائش کے سیکیورٹی ڈپازٹ اور یوٹیلیٹی بلوں کی وصولی میں بھی غفلت برتی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں صرف مالی بے ضابطگیوں ہی نہیں بلکہ احتسابی نظام کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزارتِ مذہبی امور نے آڈٹ اعتراضات پر عمل درآمد کی صرف 7 فیصد شرح ریکارڈ کی، وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی کی تعمیل کی شرح 18 فیصد رہی، جبکہ وزارتِ تجارت صرف 44 فیصد آڈٹ اعتراضات نمٹا سکی۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں مالیاتی شفافیت، داخلی نگرانی اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

ان انکشافات کے بعد محکمانہ آڈٹ کمیٹی نے تینوں وزارتوں کو مالی ریکارڈ کی فوری تصدیق، واجب الادا رقوم کی جلد وصولی، غیر مجاز اخراجات کی روک تھام اور تمام آڈٹ اعتراضات پر عمل درآمد سے متعلق جامع تعمیلی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رپورٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری مالیاتی نظم و نسق پر عوامی اعتماد مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

مالی سال 2024-25 کی یہ آڈٹ رپورٹ اس امر کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وفاقی وزارتوں میں مالیاتی نظم و نسق، شفافیت اور احتساب کے موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت ان سنگین انکشافات پر کیا عملی اقدامات کرتی ہے اور آیا قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکے گا یا نہیں۔

Back to top button