بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ عوام لیتھیم بیٹری استعمال کرنے لگے

پاکستان میں بجلی کے مسلسل بڑھتے ہوئے نرخوں اور بھاری بھرکم بلوں نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو متبادل توانائی ذرائع کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر انرجی کو بجلی کے اخراجات کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا رہا، وہیں اب ہزاروں صارفین نے واپڈا پر انحصار کم کرنے اور مہنگے بلوں سے بچنے کے لیے جدید لیتھیم بیٹریوں پر مشتمل سمارٹ انرجی سٹوریج سسٹمز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں گھریلو اور کمرشل صارفین کی جانب سے لیتھیم بیٹریوں کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان صارفین کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نرخ اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ روایتی طریقے سے بجلی استعمال کرنا ان کے لیے معاشی طور پر دشوار ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ متبادل راستوں کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ماضی میں بیشتر صارفین بجلی کی بندش کے دوران بیک اپ کے لیے بیٹریاں خریدتے تھے، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ اب صارفین صرف لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ بجلی کے بلوں میں کمی لانے کے مقصد سے بھی جدید لیتھیم بیٹری سسٹمز نصب کر رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق نئی ٹیکنالوجی پر مبنی یہ سمارٹ انرجی سٹوریج سسٹمز بجلی پیدا نہیں کرتے بلکہ کم نرخوں والے اوقات میں قومی گرڈ سے بجلی ذخیرہ کرتے ہیں اور بعد میں زیادہ نرخوں والے اوقات میں اسی محفوظ شدہ توانائی کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے صارفین مہنگے اوقات میں گرڈ سے کم بجلی حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مجموعی بل میں کمی ممکن ہو جاتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اس نظام کو "لوڈ شفٹنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سستی بجلی خرید کر محفوظ کر لی جائے اور مہنگی بجلی کے اوقات میں اسی ذخیرہ شدہ توانائی کو استعمال کیا جائے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں یہ ماڈل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور اب پاکستان میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مارکیٹ میں کام کرنے والے ڈیلرز کے مطابق کئی صارفین ایسے ہیں جو سولر سسٹم نصب کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا ان کے گھروں اور فلیٹس میں سولر پینلز نصب کرنا ممکن نہیں۔ ایسے افراد کے لیے لیتھیم بیٹری پر مبنی سمارٹ اسٹوریج سسٹمز نسبتاً آسان اور قابلِ عمل متبادل ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آف پیک اور پیک آورز کے بجلی نرخوں میں مناسب فرق موجود ہو تو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بجلی کے بل میں تقریباً 10 سے 30 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بچت ہر صارف کے لیے یکساں نہیں ہوتی بلکہ اس کا انحصار بجلی کے استعمال، بیٹری کی گنجائش، مقامی ٹیرف اور روزانہ کی کھپت پر ہوتا ہے۔
بجلی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے متوسط طبقے کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں عوام ہر اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں جو بجلی کے اخراجات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں لیتھیم بیٹریوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر صارفین لیتھیم آئرن فاسفیٹ بیٹریوں کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ یہ روایتی لیڈ ایسڈ بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، دیرپا اور مؤثر سمجھی جاتی ہیں۔ ان بیٹریوں کی عمر نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث صارفین انہیں طویل المدتی سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں۔
مارکیٹ میں دستیاب قیمتوں کے مطابق پانچ کلو واٹ آور صلاحیت کی جدید لیتھیم بیٹری کی قیمت دو سے تین لاکھ روپے کے درمیان ہے جبکہ دس کلو واٹ آور بیٹری کی قیمت تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے ساڑھے پانچ لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہائبرڈ انورٹر، وائرنگ اور دیگر آلات شامل کیے جائیں تو مکمل سسٹم کی لاگت کئی لاکھ روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
اس کے باوجود صارفین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کے بل مسلسل موجودہ رفتار سے بڑھتے رہے تو چند برسوں میں اس سرمایہ کاری کی لاگت پوری ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری علاقوں میں اب کئی خاندان یہ آپشن اپنا رہے ہیں۔
لیکن توانائی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لیتھیم بیٹریاں اور سمارٹ سٹوریج سسٹمز سولر انرجی کا مکمل متبادل نہیں ہیں۔ چونکہ یہ خود بجلی پیدا نہیں کرتے، اس لیے ان سے حاصل ہونے والی بچت کا انحصار مکمل طور پر بجلی کے نرخوں اور استعمال کے طریقہ کار پر ہوتا ہے۔ اگر پیک اور آف پیک نرخوں میں واضح فرق نہ ہو تو اس نظام سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ محدود بھی رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر پاکستان میں سمارٹ میٹرنگ، سمارٹ گرڈ اور وقت کے حساب سے بجلی کے نرخوں کے نظام کو مزید فروغ دیا گیا تو ایسی بیٹریوں کی افادیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں صارفین اپنی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کر سکیں گے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا خیال ہے کہ بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے ملک میں توانائی کے استعمال کے رجحانات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس طرح گزشتہ چند برسوں میں سولر پینلز نے مقبولیت حاصل کی، اسی طرح اب جدید لیتھیم بیٹریاں بھی تیزی سے گھریلو صارفین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
گھر بیٹھے سرکاری کام، ’مریم کی دستک‘ نے بنائے کام آسان
مبصرین کے مطابق اگر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا اور متبادل توانائی حل نسبتاً سستے ہوتے گئے تو آنے والے برسوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی صارفین اپنی توانائی ضروریات کے لیے روایتی گرڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے بیٹری اسٹوریج اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی جانب منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے ملک کے توانائی شعبے میں ایک نئی تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔
