پاکستانی سٹیلتھ ہنگور آبدوزنے بحرِ ہند میں طاقت کا توازن کیسے بدلا؟

پاکستان بحریہ میں شامل ہونے والی جدید ہنگور کلاس سٹیلتھ آبدوز کو دفاعی ماہرین ملک کی بحری تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔ چین میں تیار کی گئی یہ جدید آبدوز نہ صرف پاکستان کی زیرِ آب جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی بلکہ بحرِ ہند میں اس کی آپریشنل رسائی، دفاعی بازدار قوت اور اسٹریٹجک موجودگی کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔ اگرچہ بھارت کو اب بھی مجموعی بحری طاقت میں عددی برتری حاصل ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سمندری طاقت کے توازن پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

پاکستان نے آخری مرتبہ 1971 کی جنگ کے دوران خلیجِ بنگال میں اپنی آبدوز پی این ایس غازی تعینات کی تھی، لیکن اس کے بعد نصف صدی سے زیادہ عرصے تک پاکستان ایسی صلاحیت سے محروم رہا۔ گزشتہ ماہ چین سے جدید ہنگور کلاس آبدوز کی آمد کے ساتھ پاکستان بحریہ نے ایک نئے دور میں قدم رکھا ہے۔ 11 جون کو کراچی بندرگاہ پہنچنے والی اس آبدوز کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جبکہ اسے اس سے قبل اپریل میں باضابطہ طور پر پاکستان نیوی کے بیڑے کا حصہ بنایا جا چکا تھا۔

ہنگور کلاس آبدوز اپنی جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے دنیا کی جدید روایتی آبدوزوں میں شمار کی جاتی ہے۔ تقریباً 76 میٹر لمبی اور 8.4 میٹر چوڑی اس آبدوز میں ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) نظام نصب کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ کئی ہفتوں تک پانی کی سطح پر آئے بغیر خاموشی سے زیرِ آب رہ سکتی ہے۔ یہی صلاحیت اسے دشمن کے ریڈار، سونار اور نگرانی کے نظام سے بچاتے ہوئے سٹیلتھ آپریشنز انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے علاوہ جدید نیویگیشن سسٹم، جدید سینسرز اور مہلک ہتھیار اس کی جنگی استعداد میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ہنگور پروگرام کے مشن کمانڈر کموڈور عمر فاروق کے مطابق یہ آبدوز پاکستان بحریہ کے لیے حقیقی معنوں میں "گیم چینجر” ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق اس کی بدولت پاکستان کی آپریشنل رسائی ملکی سمندری حدود سے نکل کر بحرِ ہند کے وسیع علاقوں تک پھیل جائے گی، جہاں پاکستان مستقل بنیادوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے قابل ہوگا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبدوزوں کی اصل طاقت ان کی خاموش موجودگی میں ہوتی ہے، کیونکہ صرف ایک آبدوز کی موجودگی کا شبہ بھی دشمن کو اپنی بحری حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

بھارت کے پاس اس وقت تقریباً 19 آبدوزوں پر مشتمل بیڑا موجود ہے، جن میں تین جوہری آبدوزیں بھی شامل ہیں، جبکہ مزید جوہری آبدوزوں کی تیاری جاری ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ہنگور کلاس آبدوزیں بھارت کی عددی برتری کو مکمل طور پر ختم تو نہیں کریں گی، لیکن پاکستان کو اتنی صلاحیت ضرور فراہم کریں گی کہ وہ بحرِ عرب اور بحرِ ہند میں مؤثر دفاعی موجودگی برقرار رکھ سکے۔ ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل سید فیصل علی شاہ کے مطابق زیرِ آب جنگ میں صرف ایک آبدوز بھی اتنا ہی خطرہ پیدا کرتی ہے جتنا کئی آبدوزیں، کیونکہ جب تک اس کا سراغ نہ لگ جائے دشمن کا کوئی بھی بحری جہاز خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔

پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے تحت مجموعی طور پر آٹھ ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان بحریہ میں شامل کی جائیں گی۔ ان میں سے چار چین میں تیار ہوں گی جبکہ باقی چار پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت تعمیر کی جائیں گی۔ دفاعی حکام کے مطابق یہ منصوبہ 2032 تک مکمل ہونے کا امکان ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی بحری قوت میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی دفاعی صنعت کو بھی جدید ٹیکنالوجی منتقل ہوگی۔

صدر آصف علی زرداری نے آبدوز کی حوالگی کے موقع پر کہا تھا کہ ہنگور کلاس آبدوزیں جدید ہتھیاروں، نیویگیشن سسٹمز اور جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس ہوں گی، جو پاکستان کو خطے میں سمندری استحکام برقرار رکھنے اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ان آبدوزوں کی شمولیت سے پاکستان صرف بحیرۂ عرب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خلیجِ بنگال، آبنائے ہرمز، خلیجِ فارس اور خلیجِ عدن جیسے اہم عالمی بحری راستوں میں بھی اپنی موجودگی اور نگرانی کی صلاحیت بڑھا سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مبصرین اسے پاکستان بحریہ کی گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار بھی اس پیش رفت کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مجموعی بحری طاقت اب بھی بھارت کے حق میں ہے، لیکن پاکستان کی نئی آبدوزیں مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بحری تنازع کے دوران بھارتی بحریہ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر بھارت کے پرانے آبدوزی بیڑے اور اس کی سست رفتار جدیدکاری کو دیکھتے ہوئے پاکستان کو محدود لیکن اہم تزویراتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔

ادھر عالمی سطح پر بھی بحرِ ہند میں طاقت کا مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چین اپنی بحری قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پر مشتمل AUKUS اتحاد بھی نئی نسل کی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے پورے خطے میں بحری اسلحے کی نئی دوڑ کو جنم دیا ہے، جس میں پاکستان، بھارت، چین اور دیگر عالمی طاقتیں اپنی اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے میں مصروف ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان کے لیے صرف نئی جنگی مشینیں نہیں بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہیں جو آنے والے برسوں میں بحرِ ہند میں پاکستان کی دفاعی پوزیشن، بازدار قوت اور بحری اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگرچہ بھارت کی مجموعی بحری برتری فوری طور پر ختم نہیں ہوگی، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے سمندر میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ضرور اٹھا لیا ہے۔

Back to top button