ایران اور امریکہ کے مابین جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان

ایران اور امریکہ کے مابین 15 روزہ جنگ بندی 21 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ایرانی قیادت نے واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر کی قیادت میں امریکی وفد پاکستان کے لیے روانہ ہو چکا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستانی قیادت تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا امریکی صدر ٹرمپ پر عدم اعتماد ہے، جو کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
15 روزہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی تو دونوں فریقین کے مابین دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات واضح ہیں۔ امریکی صدر نے اپنے تازہ بیانات میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی تب تک ختم نہیں کی جائے گی جب تک تہران ایک جامع معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ بندی میں توسیع ممکن نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اگر جنگ بندی ختم ہوئی تو بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔
اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ پاکستانی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ٹرمپ کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے انہیں باور کروایا کہ ان کی جانب سے ایرانی بحری حدود کی ناکہ بندی نے مسائل کو جنم دیا ہے اور مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کو خطرے میں ڈال دیا ہے اس کے بعد میڈیا پر یہ خبر بھی چلی کہ شاید صدر ٹرمپ مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا راستہ ہموار کرنے کے لیے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر دیں۔ تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا اور اسی وجہ سے ایران اسلام اباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے انکاری ہے۔
ادھر ایران کے صدر مسعود پژشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی طرح کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور نہ ہی دھمکیوں کا دباؤ لیکر مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر کے بیانات کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران میں امریکہ کے لیے پہلے سے موجود عدم اعتماد مزید گہرا ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ایران جنگ کو باوقار انداز میں ختم کرنے کی کوشش کرے گا، لیکن قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی واضح کیا ہے تہران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے جارحانہ اقدامات، بحری ناکہ بندی اور دیگر کارروائیوں کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس سے اعتماد کا بحران پیدا ہوا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکہ جنگ میں ایران کو شکست دینے میں ناکامی کے بعد اب مذاکرات کی میز پر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے جو کہ ناممکن ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کشیدہ صورتحال پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ چین کے صدر شی پنگ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو دونوں فریقین کی غلطی قرار دیا، جبکہ روس نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر ایران اور امریکہ کے مابین ثالثی کرنے والا پاکستان سب سے زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا کر رہا ہے پاکستان اس تنازع میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف ایرانی قیادت کو مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ایران کو یہ یقین نہیں کہ ٹرمپ ممکنہ امن معاہدے کی پاسداری کریں گے یا مذاکرات کے دوران دوبارہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
ایران اور امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور غیر یقینی کا شکار کیوں؟
ذرائع کے مطابق پاکستان کو امید ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل ہو جائے گی اور اس سلسلے میں واشنگٹن سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم ابھی تک اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی شرکت غیر یقینی ہے۔ اگرچہ پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، مگر سخت بیانات، باہمی عدم اعتماد اور بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں اگر مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے فوری پیش رفت نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ چھڑ سکتی ہے اور خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
