پاکستان جیسے چھوٹے ملک بڑی طاقتوں کا کردار کیوں نبھانے لگے؟

ایران اور امریکہ کی جنگ میں پاکستانی سہولت کاری سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اب بڑی جنگیں روکنے میں امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے جبکہ ’درمیانی طاقتیں‘ کہلانے والے ممالک تنازعات حل کرنے میں اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ بی بی سی اردو نے اپنی ایک مفصل رپورٹ میں اسی رجحان کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہو گئے تھے تاکہ دونوں حریف کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے اثرات صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں بین الاقوامی شپنگ، سپلائی چینز اور تیل کی قیمتوں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں پچھلے ہفتے ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوا، تاہم مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز دونوں ممالک کے وفود ایک بار پھر بات چیت کے لیے بیٹھیں گے۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ مذاکرات نہ تو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہوئے اور نہ ہی کسی یورپی دارالحکومت میں، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، بلکہ یہ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئے جہاں پاکستان نے کلیدی سہولت کار کا کردار ادا کیا، جبکہ مصر اور ترکی کی بالواسطہ شمولیت بھی سامنے آئی۔ سفارتی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی تنازعات کے حل کے طریقۂ کار میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کے بقول اب بڑی طاقتوں کے بجائے علاقائی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک، جنہیں ’درمیانی طاقتیں‘ کہا جاتا ہے، ثالثی کے عمل میں زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہوتے ہیں جو اگرچہ امریکہ یا چین جیسی عالمی رسائی نہیں رکھتے، مگر اپنے خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے ایران-امریکہ تنازع میں ثالثی کی کوششیں اسی بدلتے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بھی سرگرم ہوتے ہیں، کیونکہ کسی بھی علاقائی بدامنی یا جنگ کے اثرات براہِ راست ان پر پڑتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کی ایران کے ساتھ طویل سرحد اور امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں، جس کے باعث وہ دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت مہارت کے ساتھ ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھتے ہوئے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے امریکی صدر ٹرمپ کو بھی ایران کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک نہایت پیچیدہ اور حساس پوزیشن میں کھڑا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں اور امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران ردعمل کے طور پر سعودی عرب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے، کیونکہ پاک-سعودی دفاعی تعاون کے تحت پاکستانی فوجی دستے اور جنگی طیارے پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہو اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
بی بی سی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ثالثی کے میدان میں نئے کردار ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر 2020 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی، جو ایک ایسے معاہدے پر منتج ہوئے جس کے نتیجے میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی طرح 2022 میں ترکی نے روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں بحیرۂ اسود کے ذریعے اناج کی برآمدات کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی۔ اسی تناظر میں سعودی عرب نے بھی روس-یوکرین تنازع میں ثالثی کی کوششیں کیں اور 2023 میں جدہ میں مذاکرات کی میزبانی کی، جہاں مختلف ممالک کے نمائندے جنگ کے خاتمے کے امکانات پر غور کے لیے جمع ہوئے۔ سعودی عرب نے قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جو کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی سفارتی کوشش کا حصہ تھا۔
ایاز امیر بھی جنرل عاصم منیر کی تعریف پر مجبور کیوں ہو گئے؟
مبصرین کے مطابق چین یا روس جیسے ممالک اس خاص تنازع میں مؤثر ثالثی کا کردار ادا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ امریکہ انہیں اپنا حریف سمجھتا ہے، جبکہ پاکستان نسبتاً غیر جانبدار حیثیت کے ساتھ دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول سہولت کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بطور ثالث پاکستان کا امریکہ اور ایران کے تنازع میں کردار ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے، جہاں روایتی بڑی طاقتوں کے ساتھ ساتھ ’درمیانی طاقتیں‘ بھی اب اہم سفارتی کردار ادا کر رہی ہیں، اور آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
