ایران اور امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور غیر یقینی کا شکار کیوں؟

ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان لفظی محاذ آرائی میں بھی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں فریق اسلام آباد میں ایک ہی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادہ ہوں گے یا نہیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا اگر دونوں فریقین اسلام آباد میں اکٹھے ہو بھی جاتے ہیں تو کیا وہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں کے مابین تصفیہ بظاہر ایک مشکل ٹاسک نظر آتا ہے۔
دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام خصوصا امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے حالیہ دنوں میں کئے گئے ایکشنز اور دیے گئے بیانات نے اس غیر یقینی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ دراصل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو ختم کرنے کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رکھنے کے اعلان نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ ایک جانب ایران نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے، تو دوسری جانب امریکی حکام بھی ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس باہمی تناؤ نے مذاکرات کے انعقاد کو مشکوک بنا دیا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے ابتدائی سطح پر رابطے ضرور ہوئے تھے، تاہم ان رابطوں کے بعد بیانات کی جنگ نے ماحول کو کشیدہ کر دیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو پہلے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا، جبکہ امریکہ ایران سے بعض ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ بن کر ابھرا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین ماضی کے معاہدوں اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے اختلافات اب بھی حل طلب ہیں، جس کے باعث کسی بھی نئی پیش رفت میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ باخبر ذرائع کے مطابق اسلام آباد کو بطور ممکنہ مقام منتخب کرنے کی تجویز اس امید کے تحت دی گئی تھی کہ ایک غیر جانبدار مقام پر بات چیت سے پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ تجویز بھی غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کی جانب سے واضح رضامندی سامنے نہیں آئی۔
دوسری طرف خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال بھی اس معاملے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ مختلف علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث مذاکرات کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے اعلی حکام کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کا سلسلہ جاری رہنا کسی بھی مثبت پیش رفت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق جب تک دونوں فریق اپنے بیانات میں نرمی نہیں لاتے، اس وقت تک بامعنی مذاکرات کا انعقاد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ادھر حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب دونوں ممالک کے مابین سہولت کاری کی پیشکش اب بھی موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ ایران اور امریکہ کو ہی کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور اسی لیے اس نے دونوں ممالک کے اعلی حکام کو مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ تاہم موجودہ بیانات اور پالیسیوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فوری طور پر کسی پیش رفت کی توقع کم ہے۔
ایران کا مستقل جنگ بندی کے لیے 300 ارب ڈالرز تاوان کا مطالبہ
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ داخلی سیاسی عوامل بھی دونوں ممالک کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ دونوں میں داخلی دباؤ اور سیاسی ترجیحات مجوزہ بات چیت کے عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس کے باعث فیصلہ سازی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔ امریکی وفد کے آنے کے حوالے سے تو تصدیق ہو چکی ہے لیکن ایرانی وفد نے ابھی تک اپنی آمد کی تصدیق نہیں کی۔ لہٰذا جب تک دونوں فریق اپنے مؤقف میں لچک نہیں دکھاتے اور اعتماد سازی کے اقدامات نہیں کرتے، تب تک کسی حتمی پیش رفت کی امید کم ہی نظر آتی ہے۔
