ایران کا مستقل جنگ بندی کے لیے 300 ارب ڈالرز تاوان کا مطالبہ

 

 

 

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس کے خاتمے کے لیے 300 ارب ڈالر کے جنگی تاوان کا مطالبہ کر دیا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس خطیر رقم کی ادائیگی یا کم از کم واضح یقین دہانی کے بغیر نہ مستقل سیزفائر ممکن ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق ایران نے ممکنہ جنگ بندی کے بدلے 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا مطالبہ کر کے نہ صرف سفارتی حلقوں کو چونکا دیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ سے مستقل جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات کو تین واضح حصوں میں تقسیم کر لیا ہے۔ جس کے تحت تقریباً 100 ارب ڈالر منجمد اثاثوں کی بحالی کے لیے، 150 ارب ڈالر جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے جبکہ مزید 50 ارب ڈالر یورینیم افزودگی کو پانچ برس تک محدود کرنے کے عوض مانگے گئے ہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک یہ شرائط پوری نہیں کی جاتیں اس وقت تک مستقل جنگ بندی ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کی مطلوبہ رقم ادا کر دی جائے تو ایران آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی وصولی بالکل ختم کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیےمکمل طور پر کھول دے گا۔

مبصرین کے مطابق اس ساری صورتحال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایران کے جنگی تاوان کے مطالبے پر قطر، عمان اور سعودی عرب نے براہِ راست ادائیگی کی بجائے تعمیرِ نو فنڈز اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایران کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ یہ پیشکش بظاہر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر کی گئی ہے، مگر اس کے پیچھے علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کی سیاست بھی کارفرما ہو سکتی ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں تک ایران کے مجمند اثاثوں کی بات ہے ایران کے منجمد اثاثوں کی کہانی بھی خاصی طویل اور پیچیدہ ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایران پر عائد ہونے والی پابندیاں وقت کے ساتھ سخت سے سخت ہوتی گئیں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے باعث۔ 2015 کا جوہری معاہدہ ایک وقتی ریلیف ضرور لایا، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے 2018 میں دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر کے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ آج ایران کے اربوں ڈالر چین، بھارت، عراق اور دیگر ممالک میں منجمد پڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں میں بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری فنڈز اور جائیدادیں شامل ہیں۔ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے اربوں ڈالر مختلف ممالک میں پڑے ہیں، جن میں سب سے زیادہ رقم چین میں تقریباً 20 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں 7 ارب ڈالر، جبکہ عراق اور قطر میں تقریباً 6، 6 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، یورپی یونین اور جاپان میں بھی کروڑوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد پڑے ہیں۔

 

ناقدین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا خمیازہ صرف ایران ہی نہیں بھگت رہا بلکہ امریکہ خود بھی اس محاذ آرائی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں پر امریکہ تقریباً 35 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جبکہ مجموعی امریکی قومی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔  اس میں 31.3 ٹریلین ڈالر بیرونی قرضہ اور 7. 6 ٹریلین ڈالر وہ اندرونی قرضہ شامل ہے جو حکومت نے اپنے ہی محکموں سے ادھار لے رکھا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے جہاں عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں توانائی بحران، اور بڑھتے مالی دباؤ نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ صرف ایک ماہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں 21 فیصد سے زائد اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تنازع محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

روف کلاسرا نے ایرانی پالیسی کو بربادی کا سفر کیوں قرار دے دیا؟

اب اصل سوال یہ ہے: کیا ایران کا 300 ارب ڈالر جنگی تاوان کا مطالبہ ایک حقیقی ہدف ہے یا مذاکرات کی میز پر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی چال؟ ماہرین کے مطابق یہ ایک کلاسک مذاکراتی حکمت عملی ہےجس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ مانگو تاکہ کم پر بھی ڈیل ہو جائے۔ مگر خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، اور آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی تجارت کے لیے خطرے کی علامت بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد یہ معاملہ صرف ایران یا امریکہ کا نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور خطے کے امن کا امتحان بن چکا ہے۔ تاہم ایران نے اب 300ارب ڈالر جنگی تاوان کا مطالبہ کر کے گیند عالمی طاقتوں کے کورٹ میں پھینک دی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتین ایران کے اس مطالبے کا جواب سفارتکاری سے دیتی ہیں یاکوئی نیا عالمی بحران جنم لیتا ہے۔

 

Back to top button