کراچی میں جعلی ویزے لگانے والی خفیہ لیب کیسے پکڑی گئی؟

 

 

پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث جعلی ویزا دستاویزات تیار کرنے والے فراڈیے نہ صرف منظم بلکہ جدید بھی ہو چکے ہیں۔ کراچی میں جعلی پاسپورٹس اور امیگریشن سٹیمپس تیار کرنے والی ’خفیہ لیب‘ نے نہ صرف اس خاموش مگر وسیع نیٹ ورک کا پردہ چاک کر دیا ہے بلکہ عالمی امیگریشن نظام کو دھوکہ دینے کے اختیار کئے گئے اس منظم طریقۂ واردات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ کراچی میں خفیہ امیگریشن لیب کی کہانی کسی فلمی سکرپٹ سے کم نہیں۔ اس سنسنی خیز کیس کی ابتدا کراچی ایئرپورٹ پر اس وقت ہوئی جب جنوبی کوریا جانے والے دو مسافروں کو مشکوک سفری ریکارڈ کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا تاہم یہی لمحہ ایک بڑے انکشاف کا دروازہ بن گیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق جب جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والے ان مسافروں کے پاسپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو ان پر لگی امیگریشن مہریں سرکاری ریکارڈ سے میل نہیں کھا رہی تھیں۔ اسی تضاد نے ہی پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ اس حوالے سے جیسے ہی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا، ایک ایسی لیبارٹری سامنے آئی جہاں جدید مشینری اور مہارت کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کی انٹری اور ایگزٹ سٹیمپس تیار کی جا رہی تھیں، ان کو ایسی مہارت کے ساتھ بنایا جا رہا تھا کہ عام نظر سے یہ بالکل اصلی معلوم ہوتی تھیں۔

 

تحقیقات نے جلد ہی یہ واضح کر دیا کہ یہ کوئی عام جعلسازی نہیں بلکہ ایک مکمل منظم نیٹ ورک تھا، جس میں ہر فرد کا کردار طے شدہ تھا۔ کچھ لوگ پاسپورٹس کے پرانے ریکارڈ کو مٹانے اور صفحات کو “واش” کرنے میں ماہر تھے، جبکہ دیگر انتہائی مہارت سے مختلف ممالک کی مہریں تیار کرتے تھے۔ حیران کن طور پر ایک ملزم پورے پاسپورٹ کے صفحات تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا، جبکہ دوسرا جنوبی افریقہ، انڈیا، بحرین اور دبئی سمیت متعدد ممالک کی جعلی مہریں تیار کرنے میں ماہر تھا۔

 

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی کارروائیوں کے دوران محمد اسلم اور آصف الرحمان نامی دو اہم ملزمان گرفتار کیے گئے، جن کے قبضے سے تقریباً 100 پاکستانی پاسپورٹس، ایک افغانی اور ایک بھارتی پاسپورٹ برآمد ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 40 ممالک کی جعلی امیگریشن مہریں، قونصل خانوں کی سیلیں اور ویزا سٹیکرز بھی برآمد ہوئے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک کس حد تک پھیلا ہوا تھا۔تحقیقات کے دوران اس خفیہ نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط بھی سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ یہ نیٹ ورک کینیڈا میں مقیم ایک بھارتی خاتون کیلئے بھی جعلی پاسپورٹ تیار کر رہا تھا، جس کا مقصد جعلی ٹریول ہسٹری کے ذریعے اسائلم حاصل کرنا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صرف مقامی جرم نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دھوکہ دہی کا جال تھا۔ جس کو ایف آئی اے نے بے نقاب کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کے بیانات نے اس کہانی کو مزید گہرا کر دیا۔ محمد اسلم نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے اس کام میں ملوث تھا اور اسے مختلف شہروں، خصوصاً لاہور اور کراچی سے کیسز موصول ہوتے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ کام وقفے وقفے سے کیا جاتا تھا مگر ہر کیس میں مکمل “پیکج” تیار کیا جاتا تھا، جس میں جعلی سفری تاریخ بھی شامل ہوتی تھی۔ دوسری جانب ملزم آصف الرحمان نے بتایا کہ اکثر اوقات وہ افراد جن کے پاسپورٹس تیار کیے جاتے تھے، خود اس جعلسازی سے لاعلم ہوتے تھے، جبکہ اصل نیٹ ورک پس پردہ رہ کر کام کرتا تھا۔

روف کلاسرا نے ایرانی پالیسی کو بربادی کا سفر کیوں قرار دے دیا؟

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ یہ پورا نظام ایک “انڈر گراؤنڈ مارکیٹ” کی طرح چل رہا تھا، جہاں ٹریول ایجنٹس، سہولت کار اور تکنیکی ماہرین ایک چین کی صورت میں جڑے ہوئے تھے۔ شہریوں سے پاسپورٹس لیے جاتے، ان کی مکمل جعلی ٹریول ہسٹری تیار کی جاتی اور پھر انہیں بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کی جاتی تھی، یہ واردات ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے فی پاسپورٹ کے عوض ڈالی جاتی تھی۔ تاہم اب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اس نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دئیے ہیں تاکہ اس واردات میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوئی جا سکے۔

Back to top button