اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا تو کیا ہو گا؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ اگر کبھی امریکا نے انڈیا یا اسرائیل کے ذریعے پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کے ساتھ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو آپ ایرانی میزائلوں سے مچنے والی تباہی کو بھول جائیں گے۔ لہذا بہتر ہو گا کہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کی ثالثی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ معاملات طے کر لیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کافی اُتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے پچھلے سال امریکا کیساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا تو جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کر دی۔ایران کی جوابی کارروائی نے پاکستانیوں کے دل خوش کر دیئے کیونکہ پاکستانی عوام غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کے باعث بہت رنجیدہ تھے ۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے بھی پچھلے سال ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کی بھرپور مذمت کی اور یوں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہو گیا ۔ اس سال جب اسرائیل نے امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر ایک اور حملہ کیا تو پاکستانی عوام کی اکثریت دوبارہ ایران کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ ہمارے عوام نے ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کی شہادت پر ایسے سوگ منایا جیسے وہ اُن کے قریبی عزیز تھے۔ ایران کے میزائلوں نے ایک دفعہ پھر اسرائیل اور امریکا کا غرور خاک میں ملا دیا۔
اس جنگ کے باعث پاکستان کیلئے کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئیں کیونکہ ایران نے خلیجی ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے کر دئیے تھے۔ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن پاکستانی عوام اس جنگ میں ایران کے ساتھ کھڑے تھے۔ جب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کیا تو ایرانی حکومت نے پاکستان کی نیت پر شک نہیں کیا۔ پاکستان واحد ملک تھا جو امریکا اور ایران دونوں کو بطور ثالث قبول تھا۔ اگر ایرانی یہ جنگ ہار جاتے تو ثالثی کی نوبت ہی نہ آتی اسلئے پاکستان کو بطور ثالث جو عالمی مقام ملا ہے اُس کے پیچھے ایرانی قیادت کی قربانیوں اور ایرانی قوم کی شجاعت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران اور سعودیہ تعلقات میں توازن کیسے برقرار رکھا جائے؟ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کا اصل مقصد مسلمانوں کے مقدس مقامات کو صہیونی سازشوں سے بچانا ہے ۔ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران سعودی عرب میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملے کئے تو پاکستان نے ایران کو بار بار یاد دلایا کہ ہمارا سعودیہ سے دفاعی تعاون کا معاہدہ ہے لہذا ہمیں امتحان میں نہ ڈالا جائے۔ اس پر ایران کا جواب یہ تھا کہ اگر سعودی عرب کی فضائی حدود سے ہم پر حملہ نہیں ہو گا تو ہم بھی سعودیہ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ نہیں کریں گے۔ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے پر حملے نہ کریں۔ سعودی عرب نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا جو قابل تحسین ہے اسی لئے سب سے کم حملے سعودی عرب پر ہوئے ہیں۔
حامد میر امید ظاہر کرتے ہیں کہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہیں ہو گی۔ پاکستانی سفارتی کوششوں سے ایران اور امریکا ایک معاہدے کے کافی قریب پہنچ چکے ہیں لیکن ٹرمپ کے غیر ذمہ دارا نہ بیانات اور ڈرامے بازیوں کی وجہ سے بار بار معاملات خراب ہو جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے اس رویے نے سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا ایک ناقابل اعتماد اتحادی ہے اور آنے والے وقت میں ایران کیساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا ہی پورے خطے کا اصل مفاد ہے۔پاکستان آنے والے وقت میں ایران اور سعودی عرب کو دو بھائیوں کی طرح ساتھ لیکر چلے گا۔ دونوں بھائیوں کے مشترکہ دشمن کوشش کریں گے کہ انہیں آپس میں لڑایا جائے لیکن پاکستانی قوم اس لڑائی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔
روف کلاسرا نے ایرانی پالیسی کو بربادی کا سفر کیوں قرار دے دیا؟
حامد میر بتاتے ہیں کہ دراصل صدر ٹرمپ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ایران سے ہمارا سیز فائر کروا دو۔ جب پاکستان نے سیز فائر کروا دیا تو ٹرمپ نے عجیب و غریب بیانات دیکر پاکستان کیلئے بار بار مشکلات کھڑی کیں۔ ٹرمپ کو شاید سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان نے امریکا کو کتنی بڑی ہزیمت سے بچایا ہے ۔ اب ٹرمپ ایک دن پاکستانی قیادت کی تعریف کرتا ہے تو دوسرے دن نیتن یاہو کی تعریف کر دیتا ہے۔ یہ رویہ پاکستانیوں کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کے مترادف ہے۔ اب موصوف فرماتے ہیں کہ جنگ واپس آ رہی ہے۔ تاہم ٹرمپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایران کو نہ تو پہلے جنگ سے فرق پڑا تھا اور نہ ہی آئندہ پڑنے والا ہے۔ لیکن امریکہ کو جنگ سے فرق پڑنا ہے۔
سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ طاقت کا جنازہ نکال دیا ہے اور آئندہ بھی یہی ہو گا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اگر امریکا نے کبھی اسرائیل یا بھارت کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو آپ ایرانی میزائلوں کو بھول جائیں گے۔ بہتر ہے پاکستان نے قیام امن کے لئے جو کوششیں کی ہیں انہیں کامیاب بنائیں ۔ اب کوئی آپ کی گیدڑ بھبکیوں میں نہیں آئے گا۔
