ایران کے بعد پاکستان اور ترکی اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ کیوں ؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے مابین ابھرتا ہوا ممکنہ سٹریٹجک اتحاد اسرائیل کیلئے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے، مسلم ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو اسرائیل نے اپنے لئے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے ایران کے بعد پاکستان اور ترکی کو اپنا اگلا ٹارگٹ بنا لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلم ممالک کا یہ تعاون محض سفارتی نہیں بلکہ دفاعی اور سٹریٹجک نوعیت بھی اختیار کر سکتا ہے، جو مستقبل میں طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں اب اسرائیلی حکام نے اپنی خفیہ ایجنسی موساد کو اس نئے اسلامی اتحاد کو ختم کرنے اورمسلم ممالک کی ایٹمی صلاحیت کو مرحلہ وار کمزور کرنے کیلئے عملی کارروائیاں کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔
اس تناظر میں اسرائیلی اخبار معاریف میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موساد کی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے رومن گوفمین کو ایک ایسے وقت میں خفیہ ایجنسی کی قیادت کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے جب اسرائیل نے اپنی سیکیورٹی پالیسی کومزید جارحانہ انداز میں ڈھالنے کا فیصلہ کر لیاہے۔ ان کی تعیناتی کو ایک نئی نیوکلیئر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں خطے کے ممکنہ حریف ممالک کی ایٹمی صلاحیت کو کمزور کرنا مرکزی ہدف بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت سمجھتی ہے کہ ایران کی ایٹمی اور توانائی تنصیبات اسرائیل کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اسی لیے ایران کو گریٹر اسرائیل کی تشکیل کیلئے تیار کی گئی شرپسندانہ حکمت عملی میں پہلا ٹارگٹ قرار دیا گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کسی بھی وقت اس کے خلاف کارروائی ممکن ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی مؤقف یہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے اس کی طاقت میں اضافہ ہوگا، جو خطے میں عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے بعدپاکستان اور ترکیے، اسرائیل کے نئے بڑے حریف بن سکتے ہیں۔ ایران کے بعد اسرائیل پاکستان اور ترکیے سمیت دیگر اسلامی ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ اسرائیلی مبصرین کے مطابق گریٹر اسرائیل کے مکروہ مشن کو کامیاب بنانے کیلئے صہیونی حکومت نے نئے موساد چیف رومن گوفمین کومکمل اختیار دے دیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی جوہری صلاحیت، سعودی عرب کا ابھرتا ہوا سول نیوکلیئر پروگرام، ترکیہ کی دفاعی خودمختاری اور مصر کے طویل المدتی سٹریٹجک منصوبے اسرائیل کو کھٹکنا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے سٹریٹجک نشانے پر سرفہرست ایران کی ایٹمی تنصیبات ہیں، جنہیں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کسی بھی وقت نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ طاقت کے ذریعے ایران کا ایٹمی نظام مفلوج کرنے کے بعد اسرائیل کی نظریں سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے سول نیوکلیئر پروگرام اور مصر کے طویل المدتی سٹریٹجک منصوبوں پر مرکوز ہو گی۔ اسی طرح پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو بھی اسرائیل اپنے اتحادی امریکہ کے ذریعے ڈس مینٹل کرنے کیلئے فیصلہ کن مذاکرات کا فارمولا تیار کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مختلف مسلم ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو ایک ممکنہ اتحاد کے طور پر دیکھ رہا ہے، جسے وہ اپنی علاقائی برتری کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔
اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا تو کیا ہو گا؟
دوسری جانب چینی انٹیلی جنس نے ایرانی توانائی پروجیکٹس پر ممکنہ صہیونی اور امریکی حملوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پیپلز لبریشن آرمی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل خلیج میں چینی اثاثوں کو بھی فوجی ہدف قرار دے کر ان پر حملہ کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے، جسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور اس کی 90 فیصد ایرانی تیل کی سپلائی پر ایک کاری ضرب قرار دیا جا رہا ہے۔ بیجنگ کے نزد یک خلیجی ممالک میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تحفظ چین کی اولین ترجیح ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو خطے کی کشیدہ صورتحال ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک ایسے دور کی عکاسی کرتی ہے جہاں علاقائی اتحاد، عالمی طاقتوں کے مفادات اور سیکیورٹی خدشات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ “نیا اسلامی اتحاد” حقیقت ہے یا محض ایک تاثر، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاہم حقیقت یہ ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور تعاون ایک نئی جیوپولیٹیکل وسٹریٹجک اتحادکی شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہوتی ہے یا عالمی طاقتیں اس بحران کو سفارتی طریقوں سے حل کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں۔
