مریم نواز نے امتحانی پرچوں کو اپنی تشہیر کا ذریعہ کیسے بنایا؟

سکولوں کے دروازوں، مساجد کی دیواروں اور کوڑے دانوں کے کنٹینرز پر اپنی تصاویر لگوا کر خودنمائی کا شوق پورا کرنے والی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اب امتحانات کے پرچوں کو بھی اپنی نمود و نمائش کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ میٹرک کے سالانہ امتحانات میں مریم نواز بارے پوچھے گئے سوال پر پنجاب حکومت سخت تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کے مطابق بچوں سے امتحانات میں مخصوص سیاسی شخصیات سے متعلق سوالات شامل ہونا محض ایک تعلیمی معاملہ نہیں بلکہ ریاستی وسائل اور نظامِ تعلیم کو سیاسی نمود و نمائش کے لیے استعمال کرنے کی واضح مثال ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف تعلیمی غیرجانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ حکومت کے طرزِ حکمرانی پر بھی ایک سنجیدہ اور تشویشناک بحث چھیڑ دی ہے۔
خیال رہے کہ میٹرک کا حالیہ امتحان دینے والے متعدد طلبہ اور اساتذہ کے مطابق پرچے میں ایسے سوالات شامل تھے جن میں طلبہ سے مریم نواز شریف، کلثوم نواز اور شہباز شریف کے بارے میں رائے یا ان کی خدمات بیان کرنے کو کہا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر زیر گردش سوال ناموں کے مطابق امتحانی پرچے میں ایک سوال یہ بھی شامل تھا: ’مریم نواز بارے آپ کیا جانتے ہیں؟ بیگم کلثوم نواز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز اور کلثوم نواز بارے امتحان میں سوال کیوں پوچھا گیا کیا ان کی سیاسی وعوامی خدمات طلبا کے نصاب کا حصہ ہے؟ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز اور کلثوم نواز کی خدمات کا تذکرہ طلبا کی نصابی کتب میں موجود ہے۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی دسویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی حالیہ کتاب میں ’قومی ترقی میں خواتین کا کردار‘ کے عنوان سے ایک باب شامل ہے، جس میں ماضی اور حال کی نمایاں خواتین شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی باب میں فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو، فہمیدہ مرزا اور بلقیس ایدھی کے ساتھ مریم نواز شریف اور کلثوم نواز کا تذکرہ بھی موجود ہے۔
کتاب میں مریم نواز شریف کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ 2024 میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں اور انھوں نے مختلف شعبوں میں منصوبے شروع کیے جبکہ کلثوم نواز کے بارے میں ان کے سیاسی کردار اور اپنے شوہر نواز شریف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کو ان کی سیاسی اور قومی خدمت قرار دیا گیا ہے، یہ نصاب تعلیمی سال 2025 سے نافذ ہوا تھا اور اب 2026 کے امتحانات میں اسی باب سے طلباء سے سے سوالات پوچھے گئے ہیں۔
میٹرک کا امتحانی پرچہ سامنے آنے کے بعد پنجاب حکومت سوشل میڈیا پر ناقدین کے نشانے پر ہے، ناقدین کے مطابق نمودونمائش کی دلدادہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نصاب تعلیم کو معلومات کی ترسیل کی بجائے اپنے مخصوص سیاسی بیانیے کی تشکیل اور مدح سرائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کسی سیاسی شخصیت کا ذکر نصاب میں ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ تعلیمی نصاب میں سیاسی شخصیات کا ذکر کس انداز میں اور کس مقصد کے تحت ہونا چاہیے۔ ناقدین کے بقول اگر تعلیمی نصاب میں کسی موجودہ حکمران شخصیت کا ذکر اس انداز میں شامل ہو کہ طلبہ سے اس پر رائے دینے کو کہا جائے، تو یہ تعلیم کے بنیادی اصول یعنی غیرجانبداری کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ تعلیم کا مقصد تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے، نہ کہ پہلے سے طے شدہ خیالات کو ذہنوں میں بٹھانا۔میٹرک کا امتحانی سوالنامہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پرعوامی ردعمل دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آیا۔ ایک طبقہ اسے حکومتی تشہیر قرار دیتا دکھائی دیا جویہ سمجھتا ہے کہ پنجاب میں تعلمی نصاب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے خواتین کی خدمات کو تسلیم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھتا نظر آیا
کراچی میں جعلی ویزے لگانے والی خفیہ لیب کیسے پکڑی گئی؟
مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں نصاب اور ریاستی بیانیہ آپس میں جڑے ہوں۔ ماضی میں جنرل ضیا الحق کے دور میں نصاب کو نظریاتی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے، جبکہ بعد ازاں مختلف ادوار میں اصلاحات کے نام پر تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ حتیٰ کہ حالیہ یکساں قومی نصاب کے حوالے سے بھی یہی بحث جاری رہی کہ آیا یہ واقعی یکسانیت لاتا ہے یا ایک مخصوص زاویہ نظر کو فروغ دیتا ہے۔ اس تاریخی تناظر میں پنجاب کے حالیہ میٹرک کے امتحانات میں مریم نواز اور کلثوم نواز بارے پوچھے گئے سوال ایک تسلسل کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ماہرین تعلیم اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ نصاب کا بنیادی مقصد طلبہ میں تجزیاتی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اگر نصاب میں موجودہ شخصیات کا ذکر ضروری ہو بھی، تو اسے تاریخی تناظر، مختلف آرا اور تنقیدی زاویوں کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ بصورت دیگر نصاب ایک تعلیمی دستاویز کے بجائے سیاسی بیانیے کا آلہ بن جائے گا۔ ماہرین کے بقول ٹیکسٹ بک بورڈز کو زیادہ خودمختاری دیتے ہوئے نصاب کی تیاری میں تاریخ دانوں اور ماہرین تعلیم کو مرکزی کردار دینا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
