ایاز امیر بھی جنرل عاصم منیر کی تعریف پر مجبور کیوں ہو گئے؟

ایران اور امریکہ جنگ کے تناظر میں اس حقیقت کا شدت سے ادراک ہوا ہے کہ مضبوط فوج اور مضبوط ائیرفورس کے بغیر آج کل کی دنیا میں کسی بھی ملک کا عزت کے ساتھ جینا مشکل ہے۔ معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ہم لوگوں پر یہ سوچ غالب تھی کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا تو درست ہے، لیکن ایٹمی دھماکے نہیں کرنے چاہییں۔ لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ رائے غلط تھی اور نواز شریف کے دور میں ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے خود کو نیوکلیئر طاقت ڈکلیئر کرنا ایک بہت مناسب فیصلہ تھا۔
ایاز امیر کے مطابق دفاعی امور پر زیادہ خرچ نہ کرنے کا تصور بھی غلط ثابت ہوا ہے، کیونکہ پاکستان جیسے ملک کے لیے مضبوط دفاعی نظام ناگزیر ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید جنگوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ طاقتور ائیرفورس کے بغیر پاکستان جیسے ممالک کا جینا محال ہے، تاہم خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس ایک مضبوط فضائیہ موجود ہے اور ہمارے پائلٹ کسی بھی دنیا کی ایئر فورس سے کم نہیں۔
تحریک انصاف کے لیے سیاسی ہمدردیاں رکھنے والے ایاز امیر کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کا ڈنکا خوب بجا ہے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی پذیرائی بھی خوب ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی پاکستان کا اچھے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اور دیگر عالمی شخصیات نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت قومی سطح پر پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ اس نے پوری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کیا ہے۔
ایاز امیر کے بقول باقی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں اور رہیں گے، جن میں بجلی کی کمی، مہنگائی اور حکومتی نالائقی شامل ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اہم بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کا نام بطور ایک بین الاقوامی ثالث کے لیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں ملک کی دفاعی صلاحیت پر تو پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، لیکن اس کے علاوہ فضول عیاشیاں بھی جاری ہیں اور امورِ ریاست میں کفایت شعاری کا تصور ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
ایاز امیر کہتے ہیں کہ پاکستان کی صنعتی صلاحیت پہلے ہی محدود ہے، زراعت بھارت سے بھی پیچھے ہے، اسکے علاوہ 25 کروڑ کی بڑی آبادی کے باوجود ہماری معیشت کی پیداواری صلاحیت وہ نہیں جو ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود ریاستی معاملات میں فضول خرچی، غیر ضروری اخراجات اور عیاشیوں کا سلسلہ کم نہیں کیا جاتا۔
ایاز امیر کے مطابق پاکستان نے صحتِ عامہ اور تعلیمِ عامہ کو کبھی ملکی ترجیحات میں وہ مقام نہیں دیا جسکی ضرورت تھی۔ یہی وہ شعبے ہیں جو کسی بھی ملک کی اصل ترقی اور پائیدار استحکام کی بنیاد بنتے ہیں، لیکن ہم نے ان پر توجہ نہیں دی۔ ایاز امیر نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلیمی نظام اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ پاکستان سے کہیں آگے ہیں۔ انکے مطابق سالہا سال کی امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے مؤثر میزائل اور ڈرون نظام تیار کیا، اور اس کے زیادہ تر میزائل سسٹم مقامی طور پر بنائے گئے ہیں۔ آج اگر امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے تو اپنے ڈرونز اور میزائلوں کی وجہ سے۔
انکے مطابق ایران نے پہاڑوں کے نیچے میزائل اور ڈرون تنصیبات قائم کر رکھی ہیں، اسی لیے اسرائیل اور امریکہ کی شدید بمباری بھی اس کے نظام کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکی۔ ایران کو بھاری نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن اس کی قیادت ڈٹی ہوئی ہے اور عوام بھی حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایاز امیر کے مطابق ایران اسرائیلی اور امریکی توقعات کے برعکس ڈٹ کر کھڑا ہے اور ٹوٹنے سے انکاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات بھی برابری کی سطح پر چل رہے ہیں، اور تہران کی کوشش ہے کہ مذاکرات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جائے۔
ایاز امیر کے بقول آج یہ بات زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان کا محدود وسائل کے باوجود ایٹم بم بنا لینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اور فضائیہ دونوں مضبوط ہیں اور بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں دونوں اداروں نے اپنی صلاحیت منوائی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی کے لیے ہماری اصل ترجیحات مختلف ہونی چاہییں تھیں، خاص طور پر تعلیم اور صحتِ عامہ پر زیادہ وسائل صرف کیے جانے چاہیے تھے۔
صدر ٹرمپ ایران سے جلد ڈیل کےلیے پُر امید
ایاز امیر نے قوم سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کی عسکری اور سویلین قیادت کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششیں رنگ لائیں اور اس بے مقصد جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل آئے۔ انکے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی نہ ہوئی تو اسرائیل ایران کے بارڈر سے گھستا ہوا پاکستان تک آ سکتا ہے لہذا دونوں ممالک کے مذاکرات کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔
