دو ماہ کے دوران TTP کے پاکستان میں 482 دہشت گرد حملے

پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹی ٹی پی کو سرحد پار افغانستان سے مالی و اخلاقی سپورٹ کی وجہ سے پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے اکثر عناصر کی کڑیاں افغانستان سے ملتی ہیں تاہم افغانستان ٹی ٹی پی کے خارجیوں کو نکیل ڈالنے سے مسلسل انکاری ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں شرپسندانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی جانب سے 482 حملوں کی ذمے داری قبول کی گئی ہے۔
اس حوالے سے پاکستانی حکام بارہا یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتی ہے۔ دوسری جانب طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے مسئلے کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار داؤد خٹک کہتے ہیں کہ اس سے قبل جب افغانستان میں طالبان اقتدار میں نہیں تھے تب بھی ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ، نورستان، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا اور خوست میں موجود تھے۔ تاہم اس دوران پاکستانی حکام صدر حامد کرزئی اور اشرف غنی سے ٹی ٹی پی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کرتے تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب امریکی افواج افغانستان میں موجود تھیں تو حقانی نیٹ ورک پر یہ الزام لگتے تھے کہ وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ لہذٰا امریکہ پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی پر زور دیتا تھا جب کہ پاکستان امریکہ پر زور دیتا تھا کہ وہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے۔
اُن کے بقول اب امریکہ افغانستان سے جا چکا ہے اور افغان طالبان اب پاکستان کے ٹی ٹی پی سے متعلق مطالبات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے۔
مبصرین کھ مطابق اس وقت اسلام آباد اور کابل کے درمیان بداعتمادی بہت بڑھ چکی ہے۔ان کے بقول اگرچہ حکومت شدت پسند گروہوں کے خلاف تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر عسکری کارروائیاں کر سکتی ہے۔ لیکن جب تک کابل اور اسلام آباد کے درمیان بداعتمادی اور الزامات کا خاتمہ نہیں ہوتا، پاکستانی فورسز کے لیے شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو مؤثر طریقے سے روکنا نا ممکن ہے۔
داؤد خٹک کے بقول ٹی ٹی پی افغانستان میں بہت مضبوط ہے اور وہاں اسے کافی ہمدردیاں حاصل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کی تائید بھی حاصل ہے اس وجہ سے پاکستانی حکومت کے پُرزور اصرار کے باوجود بھی ان کے خلاف کارروئی نہیں کی جا رہی۔
بلوچ قوم پرستوں نے بلوچ عوام کی زندگی جہنم کیسے بنا دی؟
ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ سابقہ قبائلی علاقہ جات میں فوج موجود ہے تاہم ٹی ٹی پی اب بھی وہاں اپنی جڑیں رکھتی ہے اور حالیہ عرصے میں ٹی ٹی پی مالی لحاظ سے بھی مضبوط ہوئی ہے اور اس کے پاس جدید اسلحہ بھی ہے۔
داؤد خٹک کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان رابطوں کا فقدان بھی دہشت گردی کے سر اُٹھانے کی بڑی وجہ ہے۔ ایسے میں دہشت گرد یہاں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
