5000 گمشدہ بلوچوں میں سے صرف 200 کی لاشیں مل سکیں

2006 میں مشرف دور میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہادت کے بعد سے بلوچستان میں شروع ہونے والی شورش اور اسکے نتیجے میں قوم پرستوں کی گمشدگی کا سلسلہ 15 برس گزر جانے کے باوجود جاری ہے لیکن اس عرصے میں گم ہونے والے پانچ ہزار افراد میں سے صرف دو سو کی لاشیں ہی مل پائیں ہیں۔
بلوچستان کے مِسنگ پرسنز کی لسٹ میں ایسے بھی نام شامل ہیں جن کو غائب ہوئے 15 سال سے بھی زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن تاحال وہ بازیاب نہیں ہوسکے، ہر گمشدہ بلوچ شخص کے خاندان کا اپنا درد ہے۔ جس اذیت کا سامنا اس کے گھر والے کر رہے ہیں اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں، انہیں رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو چین آتا ہے۔ یہ لوگ ہر لمحہ، ہر دن بس اپنے پیاروں کی بازیابی کے انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ کسی کا باپ لاپتہ ہے تو کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی لاپتہ ہے تو کسی کی بہن، سارا دن، ساری رات بس دل میں اپنے پیاروں کی بازیابی کی دعا کرتے اوران کو یاد کرتے گزار دیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ بلوچ افراد کی گمشدگی کے واقعات میں تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت بننے کے بعد سے 17 ماہ میں 1216 افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات پیش آئے ہیں۔ حکومت کے اپنے تشکیل کردہ جبری گمشدگی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے دوران اگست سے لیکر دسمبر تک 416 جبکہ 2019 میں مزید 800 افراد کی جبری گمشدگی کی شکایات درج کروائی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے کوآرڈینیٹر فرید شاہوانی کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے لیکن اب یہ واقعات رپورٹ کم ہو رہے ہیں۔ غائب ہو جانے والوں کے لواحقین سوچتے ہیں کہ ہوسکتا ہے ان کے پیارے واپس آجائیں کیوںکہ موجودہ دور حکومت میں اغوا ہونے والے کئی افراد گھر واپس بھی لوٹ آئے ہیں۔ تاہم جو لوگ واپس آرہے ہیں وہ اپنے اغوا بارے کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں، لیکن پنجگور اور تربت میں بعض ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ اٹھائے جانے والے افراد نے لب کشائی کی تو وہ دوبارہ اٹھالیے گئے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جبری طور پر لاپتہ ہر فرد کی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات جاری کر دی گیئں ہیں۔ حکومت قانون سازی بھی کر رہی ہے، تاہم بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی ایک بھی واقعہ جبری گمشدگی کا واقعہ ایسا نہیں ہے جسکی باواعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہولیکن دوسری طرف حسب معمول وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے دور میں مِسنگ پرسنز کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انکا کہنا یے کہ آج سے دس پندرہ سال قبل لوگ افغانستان اور کمشیر جہاد کےلیے چلے جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ بلوچستان میں ایک روایت ہے کہ جب وہ لڑائی کرتے ہیں تو پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔ لہذا ذیادہ تر لاپتہ بلاوچ افراد اغوا نہیں ہوئے بلکہ ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ یا تو پہاڑوں پر چلے گئے ہیں یا افغانستان کی طرف نکل گئے ہیں۔ اعجاز شاہ کہتے ہیں کہ گمنے والوں کے اعداد و شمار میں بھی بڑا ابہام ہے۔ کتنے بلوچ اب تک جبری طور پر گمشدہ ہوئے ہیں، میرے پاس بھی ان کی صحیح تعداد موجود نہیں ہے۔ ایجنسیوں کے پاس کچھ اور اعدادوشمار ہیں، پولیس، سویلین انتظامیہ اور سیاسی قیادت کے پاس غائب ہونے والوں کی الگ الگ تعداد ہے، اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ہم اس کو سن رہے ہیں لیکن یہ اب کوئی بڑا ایشو نہیں ہے۔ ہم پرانے کیسز کو حل کرنے کےلیے تمام کوششیں کر رہے ہیں، کچھ لوگوں کا سندھ میں پتہ لگایا گیا اور کچھ کا بلوچستان اور وہ اب گھروں کو جاچکے ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت کا اتحادی بننے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں 5128 لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی تھی اور عمران خان کی حکومت کی مشروط حمایت کےلیے پیش کیے چھ نکات میں سے ایک نکتہ لاپتہ افراد کی واپسی بھی تھی۔اب 17 ماہ بعد سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ اس وقت تک صرف 500 افراد گھروں کو واپس آسکے ہیں اور انہوں نے جو فہرست حکومت کو پیش کی تھی اس میں سے اکا دکا ہی گھر واپس آئے ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پاس دستیاب بازیاب ہونے والے 275 افراد کی فہرست کے جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی اکثریت یعنی 101 افراد موجودہ حکومت کے دور یعنی 2018 اور 2019 کے دوران لاپتہ ہوئے اوران میں سے کچھ کو چند ماہ کے بعد رہائی مل گئی۔ تاہم طویل عرصے سے لاپتہ افراد میں سے ابھی اکثریت کی بازیابی نہیں ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے کوآرڈینیٹر فرید شاہوانی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی واپسی مثبت پیش رفت ہے لیکن اس میں کبھی تیزی آجاتی ہے اور کبھی سست رفتاری۔ صرف رواں سال میں 53 افراد بازیاب ہوچکے ہیں تاہم جو لوگ واپس آرہے ہیں ان کی اکثریت وہی ہے جو 2018 اور 2019 میں اٹھائے گئے تھے۔
وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کا کہنا ہے بلوچستان میں گریٹ گیم جاری تھا۔ تین ممالک کی ایجنسیاں سرگرم ہیں اور ہماری ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہاں گئے؟ کسی بیرونی ایجنسی کے پے رول پر چل گئے یا دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ چڑھ گئے؟ اگر وہ ہمارے ملک کی ایجنسیوں کے کے پاس ہیں تو اب تک بازیاب ہو چکے ہوتے۔
یاد رہےکہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا آغاز نواب اکبر بگٹی کی شہادت سے بھی چھے برس پہلے سنہ 2000 سے ہوا۔ تقریباً 10 سال کے بعد 2011 میں جبری گمشدگیوں کا پتہ لگانے کےلیے کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا، یہ کمیشن چاروں صوبوں کے کئی شہروں میں درخواستوں کی سماعت کرچکا ہے اور اس کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1977 جبری لاپتہ افراد گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2019 تک 6500 سے زائد افراد کی گمشدگی کی شکایات آئیں جن میں سے 4365 نمٹائی گئیں، 872 کو فہرست سے نکال دیا گیا، 3500 کے قریب کا سراغ لگایا گیا، 501 جیلوں اور 810 حراستی کیمپوں میں زیرِ حراست ہیں۔
جبری گمشدگی کے بارے میں کمیشن کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ افراد میں سے 205 افراد کی لاشیں ملیں ہیں جب کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی تعداد کئی گنا زیادہ بتاتی ہیں۔