جانئے عام لوگوں سے ہٹ کر دنیا کے انوکھے انسانوں بارے

دنیا میں آپ کو ہر رنگ اور ہر نسل کے انسان ملتے ہیں۔ تاہم کچھ کی جسامت، خدوخال یا رہن سہن ایسا ہے جو انہیں عام انسانوں سے منفرد بناتا ہے۔ ان میں سے کچھ انسان تو طبعی مسائل کی وجہ سے ایسے ہیں جبکہ کچھ پیدائشی طور پر ایسی ظاہری وضع قطع کے مالک ہیں جو عام لوگوں سے مختلف ہے۔ ان کی یہی منفرد جسامت اور وضع قطع یا رہن سہن ان کی مقبولیت اور شہرت کا باعث بنی۔ آج ہم آپ کو دور حاضر کے ایسے انسانوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو عام لوگوں سے ذرا ہٹ کر ہیں۔
دنیا کے عجیب و غریب انسانوں کی فہرست میں سب سے مشہور شخصیت روس کی 30 سالہ نتاشا ڈیمکینا ہے۔ 17 برس کی عمر سے ہی اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی آنکھوں میں ایکس رے (X-rays) کی طرح کا وژن ہے اور یہ انسان کے جسم میں موجود اعضاء کو کسی مشین کی مدد کے بغیر ہی دیکھ سکتی ہے۔ یہ لڑکی دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہے اور حیرت انگیز طور پر اس کے زیادہ تر دعوے درست ثابت ہوئے ہیں۔ ’’دی گرل ود ایکس رے آئز‘‘ (The girl with X-ray) کے نام سے مشہور نتاشا اب باقاعدہ مریضوں کو چیک کرتی ہے۔ اس کے مریضوں میں ڈاکٹرز تک شامل ہیں جو ایکس رے مشین کی بجائے اپنے امراض کی تشخیص کے لیے اس سے رابطہ کرتے ہیں۔ نتاشا کی فیس 50 ڈالرز فی مریض ہے اور یوں یہ اچھے خاص پیسے کمالیتی ہے۔ ان کو برطانیہ بھی لے جایا گیا، جہاں اس نے کئی مریضوں کے امراض کی کامیابی سے تشخیص کی۔ اس نے خاص طور پر مریضوں کے اندر پائے جانے والے ٹیومرز کی درست نشاندہی کی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مائنڈ ریڈنگ یا ٹیلی پیتھی بھی ہوسکتی ہے یا پھر کوئی اور سائکک طاقت، لیکن یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ نتاشا دنیا کے عجیب ترین لوگوں میں سے ایک ہے۔
پرتھوی راج پاٹل کا تعلق بھارت کے شہر ممبئی کے قریب واقع ایک گاؤں سے ہے۔ 13 سالہ پرتھوی راج ایک بہت ہی یونیک قسم کے ’’جینیٹک ڈس آرڈر‘‘ کا شکار ہے۔ اس کو ’’ویئر وولف سینڈروم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پرتھوی راج کے پورے جسم پر بھیڑیئے جیسے بال اگتے ہیں۔ یہ ایسا ڈس آرڈر ہے جو پوری دنیا میں پچاس سے بھی کم لوگوں میں موجود ہے۔ پرتھوی راج کے خاندان نے جڑی بوٹیوں سے لے کر لیزر ٹریٹمنٹ تک ہر طرح کا علاج کرواکے دیکھ لیا لیکن اس کے جسم پر تیزی سے دوبارہ بال اگ آتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ اپنے گاؤں سے کہیں باہر بھی نہیں جاتا۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے گیری ٹرنر اس وقت دنیا کے واحد ایسے انسان ہیں جن کے پورے جسم کی جلد غیر معمولی حد تک پھیل سکتی ہے۔ بچپن میں جب گیری کو اس بات کا احساس ہوا کہ اس کی جلد میں یہ غیر معمولی صلاحیت ہے تو اس کا بے انتہا مذاق اڑایا گیا۔ اس کی جلد اتنی زیادہ غیر معمولی ہے کہ پیٹ پر سے یہ 15 سینٹی میٹرز تک پھیل سکتی ہے۔ دراصل گیری کو ’’ایلرس ڈینلوس سینڈروم‘‘ نامی جلدی بیماری ہے۔ اس بیماری میں جلد بہت زیادہ کمزور اور لچکدار ہوجاتی ہے۔ گیری ٹرنر کی یہی بیماری اس کی مقبولیت اور شہرت کا باعث بنی۔ اس کو ’’الاسٹک مین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
نہانا یا غسل کرنا کسی بھی زندہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے لیکن دنیا میں ایک غلیظ انسان ایموحاجی ایسا بھی ہے جس نے پچھلے 62 سالوں سے ایک بار بھی غسل نہیں کیا۔ جنوبی ایران کے صوبے فارس کے گاؤں ’’دیزحگاہ‘‘ سے تعلق رکھنے والا 80 سالہ یہ شخص پچھلے ساٹھ سال سے ایک دفعہ بھی نہیں نہایا۔ ایمو حاجی نے بیس برس کی عمر میں ایک گہرا جذباتی صدمہ پہنچنے کے بعد نہانا چھوڑ دیا تھا۔ اسے دنیا کا گندہ ترین انسان کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھارت کے چھیاسٹھ سالہ کیلاش سنگھ کو دنیا کا گندہ ترین شخص کہا جاتا تھا جو 38 برس تک نہیں نہایا۔
چندرا بہادر ڈنگی کو انسانی تاریخ کا سب سے چھوٹا انسان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ 30 نومبر 1939ء کو پیدا ہونے والے نیپال کے اس پست قامت شخص کا قد صرف 54.6 سینٹی میٹرز یعنی ایک فٹ ساڑھے نو انچ جبکہ اس کا وزن صرف پندرہ کلو گرام تھا۔ 2012ء میں لکڑیوں کے ایک ٹھیکے دار نے جب اسے اس کو گاؤں میں دیکھا تو اس نے عالمی میڈیا کی توجہ اس کی طرف مبذول کروائی۔ یوں چندرا ایک عام بونے انسان سے ’’سپر ہیومن‘‘ کے درجے پر فائز ہوگیا اور اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا۔
عجیب و غریب انسانوں کی اس فہرست میں جیمی بھی شامل ہے۔ 47 سالہ اس شخص کا تعلق امریکہ سے ہے اور اس کو ایک عجیب ’’اسکن ڈس آرڈر‘‘ ہے۔ جس کی وجہ سے یہ اپنے جسم پر کوئی بھی چیز چپکا سکتا ہے اور یہ صرف کوئی دعویٰ نہیں بلکہ حقیقت ہے جس کا مظاہرہ یہ کافی عرصے سے کرتا چلا آرہا ہے۔ ڈاکٹر ابھی تک اس کا اندازہ نہیں لگاسکے کہ آخر اس کی جلد میں ایسی کیا بات ہے جو یہ کوئی بھی چیز مقناطیس کی طرح اپنے ساتھ چپکا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ شخص بیمار نہیں بلکہ بالکل صحت مند ہے۔ جیمی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس کے سر کے بال گر رہے تھے تو ایک دن اس نے سوچا کہ وہ اپنے سارے بالوں کو شیو کرلے۔ اس دن کافی گرمی تھی اور اس نے اپنا سر ٹھنڈا رکھنے کے لیے سر پر ٹھنڈے سوڈے کا ایک کین رکھ لیا اور بعد میں جب اس نے وہ کین سر پر سے اٹھانے کی کوشش کی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ چپکا ہوا ہے۔ اس کے گھر والے بھی بہت حیران ہوئے۔ جیمی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے پورے جسم پر سوائے کسی کپڑے کے،کوئی بھی چیز چپکا سکتا ہے۔
ایڈم رینردنیا کی تاریخ میں وہ واحد عجیب و غریب شخص تھا جو اپنی آدھی زندگی میں پست قامت تھا جبکہ بقایا نصف زندگی میں بہت زیادہ طویل القامت رہا۔ آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ایڈم رینر کا قد 1917ء میں صرف چار فٹ اور چھ انچ تھا اور اس کو ایک بونا تصور کیا جاتا تھا۔ اس وقت اس کی عمر اٹھارہ برس تھی اور چھوٹے قد کی وجہ سے اسے فوج میں بھی نہیں لیا گیا لیکن پھر ایک دماغی ٹیومر کے باعث اس کا قد حیرت انگیز طور پر بڑھنے لگا۔ 1920ء سے ایڈم کے قد میں اضافہ شروع ہوگیا۔ 1930ء تک اس کا قد 6 فٹ اور 9 انچ ہوچکا تھا۔
یوکرائن سے تعلق رکھنے والا لیونیڈ سٹیڈنک دور حاضر کا سب سے زیادہ لمبا انسان تھا۔ اس کا قد 8 فٹ 5 انچ تھا۔ اس کا قد 14 برس کی عمر میں غیر معمولی طور پر اس وقت بڑھنے لگا جب اس کا ایک چھوٹا سا اپریشن ہوا اور جس کی وجہ سے اس کے گروتھ ہارمونز بڑھنے لگے۔ اس کا وزن ایک سو انسٹھ کلو گرام تھا اور وہ 24.05 نمبر کا جوتا پہنتا تھا۔ 24 اگست 2014ء کو چوالیس برس کی عمر میں اچانک برین ہیمرج کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے اپنا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کروانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔
اگر گہری نیلی رنگت والے انسان کا تصور بھی کہا جائے تو مختلف فلمی افسانوی کردار ذہن میں آجاتے ہیں لیکن برطانیہ سے تعلق رکھنے والا پاؤل کاراسن حقیقت میں گہری نیلی رنگت کا حامل انسان تھا۔ 2002ء کے لگ بھگ تک پاؤل ایک نارمل شخص تھا اور اس کا رنگ بھی عام لوگوں جیسا ہی تھا۔ پھر ایک دن اس کی جلد پر اچانک سوزش ہوئی۔ جب پاؤل نے اس کا علاج کروایا تو 2007ء میں اس کی جلد کی رنگت تبدیل ہوتے ہوکر نیلی ہونا شروع ہوگئی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس نے ایک دوائی ڈاکٹرز سے پوچھے بغیر ہی استعمال کی تھی جس کی وجہ سے اسے جلد کا ایک سنگین مرض لاحق ہوگیا اور یوں یہی نیلی رنگت والی جلد پوری دنیا میں اس کی شہرت اور پہچان کا باعث بنی۔ پاؤل 23 ستمبر 2013ء کو 62 سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔
عام لوگوں کو تو انجکشن کی سوئی سے بھی ڈر ہی لگتا ہے، مگر رالف بکلز کو صرف دیکھنے سے ہی جسم میں ایک عجیب سی تکلیف کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ دنیا میں اپنے چہرے اور جسم کو سب سے زیادہ چھیدنے والا انسان ہے۔ یہ اپنے جسم کو 453 سے زائد جگہوں سے چھید سکتا ہے۔11 سال قبل اسے اپنی اس صلاحیت کا پتہ چلا۔ اس کی یہی خاصیت دنیا بھر میں اس کی وجہء شہرت ہے اور یہی اس کی گزربسر کا ذریعہ بھی ہے۔ مختلف شوز میں یہ اس صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ ہے۔
چین سے تعلق رکھنے والے ’’ژو زینہون‘‘ کی وجۂ شہرت بھی بہت عجیب تھا۔ یہ صرف دو برس کا تھا جب اس کے پورے جسم پر بال بڑی تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئے۔ آہستہ آہستہ یہ اتنے بڑھتے چلے گئے کہ اسے پہچاننا مشکل ہوگیا۔ ’’ژو‘‘ کے کل جسم کے 96 فیصد حصے پر غیر معمولی بال ہیں۔ اس نے اس جھنجھٹ سے بچنے کے لیے کئی سرجریز بھی کروائیں مگر بالوں کی بڑھوتری نہیں رکی۔ ’’ژو‘‘ کی یہی مشکل اس کی عالمی شہرت کا باعث بن گئی۔
ایڈی ہال جو برطانیہ سے تعلق رکھتا ہے، اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ طاقت رکھنے والا انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ 500 کلو گرام وزن اٹھا چکا ہے۔ دنیا میں ہر سال ’’مسٹر سٹرونگیسٹ مین‘‘ کی تقریب ہوتی ہے۔ ایڈی اس تقریب کا بے تاج چیمپئن ہے۔ اس کو اتنا وزن اٹھاتا دیکھ کر آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔
