ایف آئی اے سائبرکرائم کے 7گرفتارافسران کے استعفے

رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں گرفتار 7 ایف آئی اے افسران سے استعفے لے لیے گئے ہیں، جس کے بعد زیرِ حراست این سی سی آئی اے افسران کو سخت سزائیں دئیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق زیر حراست افسران پر آن لائن جوا ایپس سے وابستہ افراد سے بھاری رقوم لینے کے ثبوت سامنے آگئے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے ان کے بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور بیرونِ ملک روابط کی تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگلے چند روز میں ان افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کر لی جائے گی۔ امکان ہے کہ اگلے چند روز میں ان افسران کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا بلکہ بعد از ریٹائرمنٹ تمام مراعات سے بھی محروم کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ آن لائن جوا ایپس کی تشہیر کے الزام میں گرفتار یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف "ڈکی بھائی” کیس میں این سی سی آئی اے  کے بدعنوان افسران کی جانب سے مجموعی طور پر 20 کروڑ روپے سے زائد رشوت وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ابتدائی شواہد سامنے آنے کے بعد ادارے کے متعدد افسران کے خلاف بھی کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایف آئی اے کے اندر چھپی کئی “کالی بھیڑیں” بے نقاب ہونے والی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے گرفتار 7 افسران سے استعفے لے لیے گئے ہیں، جنہیں نئے ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی نے وزارتِ داخلہ کو ارسال کر دیا ہے۔ گرفتار افسران کے استعفوں کی باضابطہ منظوری آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران ان افسران کے رشوت لینے کے ٹھوس شواہد ایف آئی اے کے ہاتھ لگے ہیں، جس کے بعد ملزمان کو طویل سزائیں سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار افسران نے مختلف یوٹیوبرز ، ٹک ٹاکرز، آن لائن ٹریڈنگ ایپس کے پروموٹرز اور دیگر مجرم گروہوں سے ماہانہ بنیادوں پر بھاری رقوم وصول کیں، تاکہ انہیں قانونی کارروائی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ان رقوم کی ادائیگی کبھی نقد کبھی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے اور کبھی بائنانس جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ، اب رشوت کی یہی رقم ان افسران کے خلاف براہ راست شواہد میں تبدیل ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں ایف آئی اے کے سات افسران زیر حراست ہیں۔جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے زیر حراست افسران میں ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان، ایڈیشنل ڈائر یکٹر چوہدری سرفراز، اسٹنٹ ڈائر یکٹر شعیب ریاض علی رضا، زوار، یا سر گجر اور ایک دیگر افسر شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈکی کیس میں شامل کئی افسران کے خلاف شکایات ادارے کے اندر کافی عرصے سے موجود تھیں۔ تفتیشی افسر چوہدری سرفراز اور ان کی ٹیم پر یہ الزامات تھے کہ انہوں نے سعد الرحمن عرف ڈ کی بھائی کے مقدمے میں ریلیف فراہم کرنے کے عوض بھاری رقم وصول کی۔ جب ان کے خلاف اندرونی انکوائری شروع ہوئی تو انہیں ہیڈ کوارٹر اسلام آباد رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن انہوں نے چھ ماہ کی رخصت لے لی۔ ایف آئی اے کی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق گرفتار افسران سے مجموعی طور پر چار کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار روپے نقد برآمد کیے گئے۔ اس میں چوہدری سرفراز سے ایک کروڑ پچیس لاکھ اڑتالیس ہزار، شعیب ریاض سے چھتیس لاکھ اڑتالیس ہزار علی رضا سے ستر لاکھ، یا سر گجر سے انیس لاکھ اور زوار سے نو لاکھ روپے کی رقم شامل ہے۔ بقیہ رقم مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی جس کی تفصیلات منجمد کر دی گئی ہیں۔ اس کیس میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر سے پندرہ کروڑ روپے رشوت وصول کی تھی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان کے پندرہ کروڑ کے مبینہ سودے کا تعلق بھی ڈکی بھائی کیسی ہی سے تھا۔ یہ رقم مبینہ طور پر ملزم سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی اور اس کے قریبی ساتھیوں سے ریلیف دلوانے کے عوض طلب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ڈکی رشوت سکینڈل سامنے آنے کے بعد ادارے کا مورال بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اب ہر افسر کسی بھی کیس میں فیصلہ لینے سے پہلے کئی بارسوچتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب ایف آئی اے کے ہی افسران کے خلاف ایف آئی اے خود تحقیقات کر رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام گرفتار افسران کے اثاثوں اور مالی لین دین کی مکمل چھان بین کریں۔ ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے ان افسران کے آمدنی سے زائد اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ اب ملک بھر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مختلف شہروں میں سرگرم آن لائن جوئے ، سٹے اور ڈیجیٹل فراڈ کے نیٹ ورک ان افسران کو با قاعدہ ماہانہ ادائیگیاں کرتے تھے تاکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ اس حوالے سے متعدد شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں اور ایسے تمام افراد کی فہرستیں تیار کی جارہی ہیں جنہیں این سی سی آئی اے کے ملوث افسران نے رشوت کے عوض تحفظ فراہم کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق لسٹوں کی تیاری کے بعد اگلے مرحلے میں ان یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور آن لائن کاروباری شخصیات کو بطور گواہ عدالت میں پیش کیا جائے گا تا کہ بدعنوان افسران کے خلاف مزید مضبوط کیس بنایا جا سکے۔ ڈکی کیس نے نہ صرف چند افسران کی بد عنوانی کو بے نقاب کیا ہے بلکہ اس نے وفاقی تحقیقاتی نظام کی اندرونی کمزوریوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ڈیجیٹل جرائم کی سر پرستی کے اس گہرے نیٹ ورک کو بھی عیاں کر دیا ہے جو برسوں سے خاموشی سے کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق یہ تفتیش ابھی ابتدا ہے، آنے والے ہفتوں میں مزید گرفتاریاں، ریکوریاں اور نئے انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ حکومت نے اس واقعے کے بعد این سی سی آئی اے کے تمام شعبوں کی نگرانی مزید سخت کرنے اور مالی شفافیت کے لیے ” ڈیجیٹل انٹیگریٹی آؤٹ ٹیم تشکیل دینے کی سفارش بھی کر دی ہے۔

 

Back to top button