حکومت کو90روزکاالٹی میٹم،پی ٹی آئی کی لاہورسےاحتجاجی تحریک کاآغاز

تحریک انصاف نے حکومت کو90روزکاالٹی میٹم دیتے ہوئے،لاہور سے احتجاجی تحریک کاآغاز کردیا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ لاہور سے پاکستان تحریک انصاف  کی ملک گیر احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو 90 دن کا الٹی میٹم دے رہے ہیں، اس کے بعد یا وہ اقتدار میں ہوں گے یا ہم سیاست میں۔

لاہور میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عمران خان جیل میں ہونے کے باوجود ملک کے مفاد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ یا تو ہم اپنی منزل حاصل کریں یا سیاست کو خیر باد کہہ دیں۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ 5 اگست تک تحریک کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچایا جائے گا، کیونکہ لاہور سے اٹھنے والی ہر تحریک نے تاریخ میں اپنا اثر چھوڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اہلیہ جیل میں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ عمران خان نے سازش کی ہے تو ثبوت کے ساتھ سزا دیں، وہ ہر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ہم نے سیاسی جبر برداشت کیا، لیکن اب مزید برداشت کی حد ختم ہو رہی ہے۔ مخالفین ہماری برداشت کو کمزوری نہ سمجھیں۔ خیبرپختونخوا میں حکومت ہماری جدوجہد اور عوامی طاقت سے بنی ہے، جسے گرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن ہماری لچک کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم ہر سطح پر آئینی، قانونی اور عوامی جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ 5 اگست تک احتجاجی تحریک کو فیصلہ کن مرحلے پر پہنچایا جائے۔

پی ٹی آئی کا قافلہ چیئرمین بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں لاہور پہنچا، جہاں ان کا استقبال کارکنوں نے جوش و خروش سے کیا۔ روانگی سے قبل گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب اسمبلی کے معطل ارکان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے لاہور جا رہے ہیں۔

Back to top button