لاشوں کا جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے یوتھیوں کو ٹھوکنے کا فیصلہ

حکومت نے بیرون ملک بیٹھ کر ریاست مخالف جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والے یوتھیوں کی ٹھکائی کا فیصلہ کر لیا، وفاقی حکومت نے جہاں پاکستان کیخلاف مذموم پروپیگنڈا میں ملوث افراد کی شناخت کیلئے جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کردی ہے۔ وہیں دوسری جانب یوتھیوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے پیکا ایکٹ میں مزیم ترامیم کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر شرپسندی پھیلانے والے یوتھیوں کی چیخیں نکلنا شروع ہو گئی ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد احتجاج کے بعد ریاست پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کرنےوالوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے نلزمان کی شناخت کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس تشکیل دے دی گئی جبکہ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت خبروں کی روک تھام کے لیے پیکا قانون میں مزید ترمیم کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس حوالے سے ابتدائی ڈرافٹ بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ملکی اداروں اور کسی بھی فرد کے خلاف غلط خبر پھیلانے والے کو 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
مبصرین کے مطابق یوتھیوں کی جانب سےحالیہ دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کے بعد پاکستان کی ریاست اور خصوصاً سیکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر مذموم مہم چلائی جا رہی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد اور اشتعال انگیز خبروں کو پھیلایا جا رہا ہے، جس کا مقصدریاستی اداروں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب دکھانا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مہم کا مقصد ملک میں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنا، صوبائیت اور نسلی تقسیم کو ہوا دینا اور مخصوص سیاسی مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ غیر ملکی سامعین کو متاثر کرنے کے لیے، اس دشمنانہ مہم کے محرکین نے جعلی پرتشدد تصاویر اور مواد کا استعمال کرتے ہوئے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تاثر دینے کی کوشش کی۔ جس کے بعد حکومت کی جانب سے اس مہم میں ملوث افراد کی سرکوبی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے10 رکنی مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے جوائنٹ ٹاسک فورس کی سربراہی کرینگے۔آئی ایس آئی، ایم آئی کے نمائندےاور جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی ٹاسک فورس میں شامل ہونگے۔
جوائنٹ ٹاسک فورس کیلئے تین نکاتی ٹی او آرز بھی طے کر لیے گئے۔ ٹاسک فورس 24 سے 27 نومبر تک جاری رہے والے حالیہ احتجاج میں شریک شر پسندوں کے بارے میں جھوٹی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والے بشمول میڈیا کمپین میں ملوث افراد اور گروپس اور تنظیموں کی نشاندہی کریگی۔ ٹاسک فورس ملک کے اندر اور بیرون ملک مذموم مہم چلانے والے ان افراد اور گروپس کی نشاندہی کریگی اور انہیں ملکی قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا ئیگا۔ جوائنٹ ٹاسک فورس پالیسی میں موجود خامیاں دور کرنے کیلئے اقدامات تجویز کریگی۔ٹاسک فورس دس دنوں میں اپنی سفارشات مرتب کرکےحکومت کوپیش کریگی تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر من گھڑت خبروں کی روک تھام کے لیے پیکا قانون میں مزید ترمیم کا فیصلہ کرلیا ہےحکومتی مسودے کے مطابق فیک نیوز اور اس پر سزا کا تعین ٹربیونل کرے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے تحت حکومت کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے اور ختم کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ قانون سوشل میڈیا کے لیے ہوگا لیکن مین اسٹریم ٹی وی چینلز پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔
