50 سال سےخشک جھیل دریابن گئی

خشک ترین صحرا’صحارا‘مراکش کےجنوب میں50 سال سےخشک جھیل دریابن گئی۔خشک صحراؤں میں سےایک صحراصحارا بارش کےبعد سیلابی پانی سےسحر انگیزمنظرمیں تبدیل ہوگیا۔
مراکش کےجنوب میں ہرسال گرمیوں کےآخری دنوں میں کم بارشیں(250 ملی میٹر سے کم)ریکارڈ کی جاتی ہیں لیکن اس بار2دن کی غیر معمولی بارشوں کےبعد کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیداہوگئی۔
مراکش کےدارالحکومت رباط سےتقریباً450 کلومیٹرجنوب میں واقع گاؤں ٹیگونائٹ میں ستمبر کےدودنوں میں100ملی میٹرسےزیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔
غیر معمولی بارش کےبعد صحراصحارا کے کئی حصوں کوسیلابی پانی نےگھیرلیا اور یہ سیلابی پانی جیسےجیسےقدیم صحرا کی ریت اورپودوں سےگزراتوایک خوبصورت منظرمیں تبدیل ہوگیا۔
بارش کےبعد سحرانگیز منظرمیں تبدیل،50 سال سےخشک جھیل دریابن گئی
دوسری جانب نصف صدی سےخشک ایریکی نامی جھیل بھی50سال بعد سیلابی پانی سےبھرگئی۔
صحرا کی سیٹیلائٹ تصاویر بھی غیر ملکی میڈیاپرسامنے آئی ہیں جس میں صحرا کےدلکش منظرکوبخوبی دیکھاجاسکتا ہے۔
بغیر پیسوں کا اوورٹائم:ملازم نےپہلےدن ہی استعفیٰ دیدیا
میڈیا رپورٹس کےمطابق خطےکےاس حصےمیں غیرمعمولی بارشوں کےحوالے سے مراکش کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹرولوجی سےمنسلک حسین یوایبب کا کہنا تھا کہ30سے50سال کاعرصہ گزرجانےکےبعد ہم نےاتنےکم وقت میں اتنی زیادہ بارش دیکھی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق مراکش کےاس حصےمیں6سال کی خشک سالی کے بعد جہاں غیرمعمولی بارشوں نےکھیتوں کیلئےمثبت صورتحال کوجنم دیا وہیں مراکش اورالجزائرمیں ان بارشوں سے20سےزائد افرادہلاک ہوئےاورکئی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔
