سفیر سے خفیہ رابطے نے عمران کا امریکہ مخالف بیانیہ اُڑا دیا

پچھلے چار ماہ سے اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے غیر ملکی سازش کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عمران خان کی پاکستان میں امریکی سفیر کے ساتھ خفیہ ٹیلی فونک گفتگو کے انکشاف کے بعد کپتان کا امپورٹڈ حکومت کا سازشی بیانیہ بھک سے اُڑ گیا ہے، کل تک عمران خان جس بیانیے پر کھڑے تھے وہ تھا خفیہ امریکی خط اور بیرونی مداخلت لیکن ایک عوامی جلسے میں خان صاحب کی جانب سے لہرایا گیا امریکی خط امریکی سفیر سے خفیہ رابطے اور ان سے محض 36 گاڑیوں کی وصولی کی نذر ہو گیا ہے۔ ایسے میں کپتان کا امریکہ مخالف بیانیہ اور امپورٹڈ حکومت کا الزام بھی بیچ سڑک کے پنکچر ہو گیا ہے، دوسری جانب عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی بغاوت کیس میں گرفتاری خود کپتان اور ان کی تحریک انصاف کو بیک فُٹ پر لے گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی سفیر سے 36 گاڑیوں کا تحفہ وصول کرنے والے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور امریکہ مخالف عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ کروانے کا انکشاف کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خود دونوں شخصیات کی موبائل فون پر بات کروائی جس کے لیے عمران کے ساتھ پہلے سے منصوبہ بندی کر لی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں کی ٹیلی فون پر گفتگو ہو جانے کے اگلے روز پی ٹی آئی کی لیڈر شیریں مزاری نے مریکی سفیر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ کوئی وائسرائے ہے کہ اسے ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر خیبر پختونخواہ کے حساس مقامات کا دورہ کروایا جاتا رہا، مزے کی بات یہ ہے کہ امریکی سفیر کو علاقے کی سیر کروانے کے لیے خیبر پختونخوا کی حکومت نے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے امریکی سفیر کو اپنے گھر کے پچھلے حصے میں لے جا کر عمران خان سے خفیہ طور پر فون پر بات کروائی۔ عمران نے سفیر سے بات کرتے ہوئے گلہ کیا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو کے خیالات کو امریکی حکومت کا مؤقف نہیں بننا چاہئے تھا، اسی لیے پاکستانی عوام نے امریکا کے خلاف سخت ترین ردعمل دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کی بات سن کر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ مجھے پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے ابھی دو مہینے کا عرصہ ہوا ہے، میں آپ کے موقف سے اپنی حکومت کو آگاہ کر دوں گا، خیال رہے کہ 4 اگست کو محمود خان اور امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی تھی اور اسی روز محمود خان نے عمران خان کی امریکی سفیر سے بات بھی کروائی۔ تاہم اس ملاقات کے انکشاف نے عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔
پاکستان کو چین سے 2 ارب ڈالرز کا سستا قرضہ ملنے کی امید
یاد رہے کہ امریکی سفیر اور عمران خان کے مابین ایک ایسے وقت میں رابطہ ہوا ہے جب ایک جانب سابق وزیر اعظم فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد نااہلی کے خطرات سے دوچار ہیں اور دوسرے جانب ان کا چیف آف اسٹاف شہباز گل گرفتاری کے بعد انہیں فوجی قیادت کیخلاف بغاوت پر اکسانے کے کیس میں ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے جا رہا ہے۔ ایسے میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمران چاروں جانب سے گھیرے میں آگئے ہیں اور ان کے خلاف ریاستی شکنجہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ہوا میں تحلیل ہوتا تحریک انصاف کا بیانیہ بھی خان صاحب کے لیے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ بازار میں بیچنے کے لیے بہر حال سودا چاہئے اور سودا یہاں نقد چاہئے، نقدی بیرونی فنڈنگ کیس میں ہے اور کیس کے لیے فیس اور پھر توشہ خانہ کا سُوٹ کیس۔ غرض کپتان اور انکی تحریک انصاف بری طرح گھر چُکی ہیں، عاصمہ کے مطابق کل تک تحریک انصاف جس بیانیے پر کھڑی تھی وہ تھا سازشی خط، اور امریکہ کی سازش اور بیرونی مداخلت۔ لیکن اب امریکی سازش کا بیانیہ امریکی سفیر کی محض 36 گاڑیوں کی نذر ہو چکا ہے۔