عمران خان نے امریکی سفیر سے کیا گلے شکوے کیے؟

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چند روز پہلے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے توسط سے پاکستان میں امریکی سفیر اور عمران خان کے مابین ٹیلیفونک نہیں بلکہ ویڈیو گفتگو ہوئی تھی جس کے دوران خان صاحب نے دل کھول کر گلے شکوے کیا اور اپنے دور اقتدار میں امریکی صدر کی جانب سے خود کو فون تک نہ کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ عمران کے تمام تر گلے شکوے کے جواب میں امریکی سفیر کا مختصر موقف یہی رہا کہ مجھے ابھی پاکستان میں تعینات ہوئے دو مہینے ہوئے ہیں لہذا میں صورتحال کا جائزہ لے کر بہتری لانے کی کوشش کروں گا۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر اور عمران میں رابطہ ایک شعوری کوشش تھی اور یہ تجویز تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے آئی تھی جس کا مقصد باہمی تعلقات بہتر بنانا تھا۔ ظاہر ہے چونکہ مغرب کو خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا اس لیے انہوں نے بہتر سمجھا کہ اب مغرب سے تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔

دوسری جانب ناقدین عمران خان کے امریکی سفیر سے خفیہ رابطے اور گلوں شکووں کو ایک بہت بڑا یو ٹرن قرار دے رہے ہیں جس سے کپتان کے امریکہ مخالف اور بیرونی سازش کے بیانیے کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رابطہ صرف عمران خان کی خواہش پر ہی نہیں ہوئی بلکہ امریکی سفیر بھی ان سے بات کرنا چاہتے تھے جس کی قیمت انہوں نے خیبر پختون خوا حکومت کے لیے 36 گاڑیوں کے تحفے کی صورت میں ادا کی۔ دونوں شخصیات میں رابطے نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سے بے دخل کیے جانے کے بعد ایک جانب عمران امریکی خط لہراتے ہوئے امریکہ مخالف جلسے کر رہے تھے اور دوسری جانب اپنے ساتھیوں کے ذریعے امریکی حکام سے خفیہ رابطوں میں بھی مصروف تھے جو کہ ان کا پرانا طریقہ کار ہے۔ اس دوران عمران نے اپنا ایک نمائندہ واشنگٹن بھی بھیجا تھا تاکہ پرانے تعلقات میں پڑنے والی خلیج کو بھرا جا سکے۔ لیکن امریکی حکام نے اس نمائندے کو لفٹ نہیں کروائی اور تعلقات بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی نہیں کیا کیونکہ عمران نے جو کرنا تھا وہ کر چکے تھے۔
نتیجتاً عمران نے اپنا امریکا مخالف بیانیہ تیز تر کرتے ہوئے اور زیادہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ اس دوران پاکستان میں نئے امریکی سفیر کی تعیناتی عمل میں آئی تو خارجہ امور بارے کپتان کی مشیرخاص سابقہ وفاقی وزیر شیر مزاری نے انہیں امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے عمران پر زور دیا کہ وہ تعلقات کی بحالی کیلئے ایک اور کوشش کریں، دوسری جانب امریکی سفیر بھی چاہتے تھے کہ پاکستان میں اپنے پرانے سیاسی اثاثے کو ضائع کرنے کی بجائے اس کے ساتھ گفتگو کے دروازے کھولے جائیں۔ چنانچہ سر گولڈ سمتھ کے سابقہ داماد کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کیلئے امریکی سفیر کے دورہ پشاور کا فائدہ اٹھایا گیا اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے توسط سے دونوں کے مابین آدھ گھنٹے کی ویڈیو کال کروائی گئی۔ ایک قابل بھروسہ ذریعے نے معلوم ہوا ہے کہ امریکی سفیر اور عمران کے درمیان بات چیت 4؍ اگست کو پونے دو بجے دوپہر سے سوا دو بجے کے درمیان ہوئی۔ رابطہ کرنے پر امریکی سفارت خانے کے ترجمان نِک ہرش نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ ہم نجی سطح پر ہونے والی سفارتی گفتگو پر تبصرہ نہیں کرسکتے ۔

دوسری جانب عمران کو امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کا مشورہ دینے والی پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کا اصرار ہے کہ عمران خان کی امریکی سفیر کے ساتھ ویڈیو کال نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے انہوں نے امریکی سفیر کے دورہ کے پی کی مخالفت کی تھی اور اس پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم بعد میں انکشاف ہوا کہ امریکی سفیر کو دورے کی دعوت خیبر پختونخوا کی حکومت نے دی تھی۔ اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر شیریں مزاری کو عوامی لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا اور کہا گیا کہ ایک طرف امریکہ کو کپتان حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب انکی اپنی حکومت امریکی سفیر پر سرکاری مہمان نوازی نچھاور کر کے ان سے گاڑیاں اور امداد وصول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دہرے معیار اور کنفیوژن پر مبنی مؤقف سے پی ٹی آئی نہ صرف اپنی سیاست کا ستیاناس کر رہی ہے بلکہ ایک اہم ملک کے ساتھ

منی لانڈرنگ : مونس الٰہی ایف آئی اے پیش، دو مبینہ فرنٹ مین گرفتار

ملکی تعلقات کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکی سازش کا بیانیہ اور دوسری جانب امریکی سفیر سے خفیہ رابطے کرنے پر یا تو قہقہے لگا کر ہنسا جا سکتا ہے اور یا چیخ چیخ کر رویا جا سکتا ہے لیکن سنجیدگی سے اس تضاد بھرے مؤقف پر یقینا غور نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ امریکی سفیر اور عمران خان کے مابین ایک ایسے وقت میں رابطہ ہوا ہے جب ایک جانب سابق وزیر اعظم فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد نااہلی کے خطرات سے دوچار ہیں اور دوسرے جانب ان کا چیف آف اسٹاف شہباز گل بغاوت کے الزام میں گرفتار ہوچکا ہے۔

Back to top button