کیا PTI حکومت نے طالبان کو خود سوات واپس بلایا ہے؟

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں پاکستانی طالبان کی واپسی ہر عوام میں پائے جانے والے شدید اضطراب میں تب مزید اضافہ ہو گیا جب سوات کے علاقے مٹہ میں موجود مسلح طالبان نے یہ انکشاف کیا کہ انہیں خیبر پختونخواہ کی حکومت نے خود مذاکرات کے بعد اپنے علاقوں میں واپس آنے کی اجازت دی ہے۔ دوسری طرح طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والے صوبائی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ صرف جنگ بندی سے متعلق بات کی گئی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں جانب سے اس پر عمل درآمد ہو۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر سوات اور دیر میں بھتہ لینے اور پولیس اور فوجی حکام کو اغوا کرنے والے طالبان کو روکا کیوں نہیں جا رہا۔ سوال یہ بھی یے کہ یہ مسلح افراد کون ہیں اور انکی تعداد کتنی ہے؟ کیا یہ کالعدم تحریک طالبان کے لوگ ہیں یا ان کے بھیس میں کوئی جرائم پیشہ لوگ یا کسی اور مسلح تنظیم کے کارندے ہیں؟ اگر یہ لوگ تحریک طالبان کے ہیں تو کیا انھیں صوبائی حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی ہے اور یہ کس حیثیت میں یہاں رہیں گے، کیا یہ ہتھیار ڈال کر، عام شہریوں کی طرح پر امن رہیں گے یا یہ لوگ یہاں پھر سے منظم ہو کر پہلے کی طرح کی کارروائیاں شروع کر دیں گے؟

مستقبل میں جو بھی صورت حال ہو، سچ یہ ہے کہ اسوقت سوات اور دیر کے علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا ہے، عام آدمی پریشان ہے، فوجی آپریشنز کے نتیجے میں جو امن قائم ہوا تھا اور علاقے میں سیاحت اور دیگر صنعتوں نے جو ترقی کی تھی اب ان کے مستقبل کے حوالے سے سوالات ہیں۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ سوات میں جو کچھ ہوا ہے وہ تشویش ناک ہے اور یہ صرف خیبر پختون خوا نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس بارے میں مقامی صحافی فیاض ظفر نے بتایا کہ ایک ماہ سے سوات کے پہاڑوں پر طالبان کی موجودگی کی اطلاع تھی اور سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کی تصویریں بھی سامنے آئی تھیں لیکن اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جب مٹہ میں طالبان کے ہاتھوں فوجی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کا واقعہ پیش آیا ہے تو تب واضح ہوا کہ مسلح طالبان اس علاقے میں موجود ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوات کو 2009 میں فوجی آپریشن کے ذریعے طالبان کے قبضے سے آزاد کروایا گیا تھا لیکن اب تیرہ برس بعد ان کی سوات میں واپسی صرف اس لئے ممکن ہوئی ہے کہ پاکستانی عسکری حکام نے کابل میں تحریک طالبان کے ساتھ افغان طالبان کی سرپرستی میں مذاکرات کیے جس سے ریاست کی کمزوری کا اظہار ہوا۔ انکا کہنا ہے کہافغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں جہاں جنگ بندی اور فاٹا انضمام پر بات چیت جاری تھی وہاں ایک موضوع ان طالبان کے اپنے علاقوں میں واپسی کا بھی تھا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ واپسی غیر مسلح ہو گی اور ان تمام افراد کو آئین اور قانون کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔

منی لانڈرنگ : مونس الٰہی ایف آئی اے پیش، دو مبینہ فرنٹ مین گرفتار

سینئر صحافی اور تجزیہ کا مشتاق یوسفزئی نےبتایا کہ مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد طالبان کا کہنا تھا کہ انھیں ہدایات ملی ہیں کہ اپنے علاقوں کو جا سکتے ہیں اور افغانستان سے اپنے ان علاقوں میں آنے کے دوران بعض مقامات پر ان کی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کی اپنے علاقوں میں واپسی اور آبادکاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور ان طالبان کے آنے سے اب مقامی لوگوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے کہ اگر امن مذاکرات کو مقامی لوگ تسلیم نہیں کرتے تو کیا طالبان پھر سے ان علاقوں میں آ سکتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ان علاقوں میں کیسے رہیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مٹہ میں مسلح طالبان کی حالیہ کارروائی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی مداخلت تسلیم نہیں کرتے۔

مقامی صحافی عدنان باچا نے بتایا کہ مٹہ میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سرکاری سطح پر کوئی کارروائی نظر نہیں آ رہی اور نہ ہی مقامی انتظامیہ نے کوئی پیش قدمی کی ہے۔ناس بارے میں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا کہ یہ کیا یہ واقعی ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یا یہ لوگ کسی اور گروہ یا تنظیم سے وابستہ ہیں تاہم فوجی اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کی ویڈیو میں وہ یہ ہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ انھیں مذاکرات اور جنگ بندی کے بعد قائدین نے اپنے علاقوں میں جانے کا کہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی خبریں دیکھنے کو ملی ہیں کہ ان علاقوں میں اور صوبے کے دیگر شہروں میں اہم شخصیات کو بھتے کی پرچیاں ملی ہیں اور بعض حکام نے اس بارے میں کچھ لوگوں کی مدد بھی لی ہے۔
اسی طرح ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے خاندان کے افراد سمیت چار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جبکہ وہ خود اس میں زخمی ہوئے۔ ان کے بارے میں بھی ایسی اطلاع تھی کہ انھیں بھتے کی پرچی ملی ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

دیر سے مقامی صحافی حلیم اسد نے بتایا کہ اس وقت ان کے علاقے میں جو صورت حال ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سال 2008 اور 2009 میں جیسے طالبان ابھر رہے تھے جس وجہ سے علاقے میں خوف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں مٹہ کے جس علاقے سے فوجی اور پولیس اہلکاروں کو طالبان نے اغوا کیا وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان کا علاقہ ہے لیکن وہ بھی اس بارے میں مکمل خاموش ہیں۔ ایسے میں سوات اور مٹہ کے رہائشی ریاست پاکستان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ کہیں انکے نتیجے میں طالبان پہلے کی طرح پھر سے سوات اور دیر پر قابض نہ ہو جائیں۔

Back to top button