ملک ریاض کے خلاف کارروائی سے معیشت کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟

گزشتہ چند ماہ سے بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض حسین کی پاکستان واپسی کے حوالے سے افواہیں گرم تھی اور اس امید کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ حکومت پاکستان سے ان کے معاملات طے ہونے کی صورت میں ان کی ملک واپسی سے پاکستان میں پراپرٹی سیکٹر میں ایک مرتبہ پھر تیزی آ جائے گی جس کا ملکی معیشت کو بے پناہ فائدہ ہوگا۔ تاہم عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد معاملات بالکل ہی بدل گئے اور اب نیب اور ایف آئی اے ایک مرتبہ پھر ملک ریاض کے خلاف سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔
اس حوالے سے گڑبڑ تب ہوئی جب عمران خان کو سزا سنائے جانے کے بعد چند نون لیگی رہنماؤں نے ملک ریاض کے بھی احتساب کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا جو 190 ملین کرپشن کیس میں شریک ملزم تھے۔ جواب میں ملک صاحب نے غصے میں آ کر ایک ٹویٹ کرتے ہوئے اس مطالبے کو ایک سازش قرار دے دیا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ ان کے پاس 30 برس پرانی فائلیں بھی موجود ہیں اور وہ لوگوں کو بے نقاب بھی کر سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، احتساب بیورو اور ایف ائی اے نے ملک صاحب کے خلاف پرانے کیسز بھی کھولنے شروع کر دیے، پھر یہ خبر بھی آ گئی کہ حکومت پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے ملک ریاض کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
چنانچہ اب ملک ریاض حسین اور حکومت پاکستان کے مابین کسی تصفیے کے امکانات وقتی طور پر معدوم ہوتے نظر اتے ہیں۔ یاد رہے کہ ملک ریاض ان دنوں متحدہ عرب امارات ميں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہيں۔ حال ہی ميں انہوں نے دبئی ميں ايک پر تعيش ہاؤسنگ سوسائٹی لانچ کرنے کا اعلان کيا ہے۔ ملک ریاض کے اس اعلان سے پراپرٹی کی خریداروں میں ہلچل دیکھی جا رہی تھی۔ لیکن پھر نیب نے یہ اعلان کر دیا کہ ملک ریاض حسین دبئی میں جو منصوبہ شروع کر رہے ہیں اسکے لیے پیسہ پاکستان سے لے جایا گیا ہے لہٰذا یہ منی لانڈرنگ کا کیس ہے۔
قومی احتساب بيورو نيب نے اپنی ايک پريس ريليز ميں نہ صرف متحدہ عرب امارات ميں ملک ریاض کے اس نئے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کيا بلکہ ساتھ ہی اس منصوبے کو ملک رياض کی منی لانڈرنگ کی آمدن کا ایک حصہ بھی قرار ديا۔ اس حوالے سے قومی احتساب بيورو نے گزشتہ دس سال سے تعطل کا شکار تحقيقات کی روشنی ميں عدالت ميں بحريہ ٹاؤن کو کراچی ميں قيمتی زمين کوڑيوں کے دام الاٹ کرنے پر تين ريفرنس بھی دائر کر ديے ہیں۔ تاہم ملک ریاض کے قریبی ذرائع ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ملک رياض نے اپنے حاليہ انٹرويوز میں ان ريفرنسز کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت انہيں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانا چاہتی ہے اور اسی لیے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔
ملک ریاض حسین کے قریبی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کا بنیادی مقصد انکے دبئی میں شروع ہونے والے نئے تعمیراتی پراجیکٹ کو خراب کرنا پہنچانا ہے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے گا۔ یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن کے منصوبے پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور نواب شاہ میں موجود ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کی ویب سائٹ کے مطابق ریئل سٹیٹ کمپنی دبئی ساؤتھ میں رہائشی اور تجارتی تعمیرات پر مشتمل ایک بڑا پراجیکٹ شروع کر چکی ہے جو المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔ بحریہ ٹاؤن دبئی میں ایک بنگلے کی قیمت ڈھائی کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک ہے جبکہ وہاں پلاٹ کی قیمت ڈیڑھ کروڑ سے لے کر 10 کروڑ روپے تک ہے۔ بحریہ ٹاؤن کی ویب سائٹ کے مطابق غیر ملکی شہری بھی دبئی کے منصوبے میں پراپرٹی خرید سکتے ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان، انڈیا، امریکہ اور برطانیہ میں مقیم افراد رجسٹریشن کروا کر دبئی جیسے خوبصورت شہر میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع حاصل کر سکتے ہیں۔’
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا نیب قانونی طور پر شہریوں کو کسی غیر ملکی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری سے روک سکتا ہے۔ ماضی میں نیب کے ساتھ بطور ڈپٹی پراسیکیوٹر منسلک رہنے والے والے وکیل منصف جان کہتے ہیں کہ پاکستانی شہریوں کی قانونی ذرائع کے ذریعے بحریہ ٹاؤن دبئی یا کسی اور غیر ملکی پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کو قانونی طور پر منی لانڈرنگ نہیں کہا جا سکتا۔
انکا کہنا ہے کہ اگر کوئی پاکستانی دبئی میں رہتا ہے، وہیں کماتا اور وہاں ہی سرمایہ کاری کرتا ہے تو یہ منی لانڈرنگ نہیں ہے۔ اگر کوئی پاکستان میں مقیم شہری قانونی طریقے کے ذریعے ٹیکس ادا کرنے کے بعد قانونی طریقے سے سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اسے بھی منی لانڈرنگ نہیں قرار دیا جا سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ صرف اس صورت میں اسے منی لانڈرنگ کہا جا سکتا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے غیر قانونی طریقہ کار، جیسے حوالہ یا ہنڈی، کے ذریعے باہر پیسے بھیجے گئے ہوں۔
نواز شریف کو نااہل کرنے والے جسٹس عظمت شیخ کی کہانی
ملک ریاض پر لگائے گئے الزامات ایک طرف، لیکن سچ یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں کئی با اثر افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ ملک ریاض کو اگر پاکستان واپس آنے کی اجازت دی جائے تو اس کا فائدہ پاکستانی معیشت کو ہوگا چونکہ ان کی واپسی کے ساتھ ہی پراپرٹی سیکٹر میں تیزی آ جائے گی اور بینکوں میں پڑا ہوا لوگوں کا پیسہ گردش میں آ جائے گا۔
