افغان وزارت دفاع کا کوہاٹ شہر پر فضائی حملے کا دعوی

 

 

 

پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں افغان فوجی تنصیبات اور عسکری ٹھکانوں پر مسلسل بمباری کے بعد اب افغانستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں واقع ایک فوجی چھاؤنی پر ڈرون حملے کر دیے ہیں۔ افغان حکومت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں واقع فوجی چھاؤنی کو بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

 

افغان وزارت دفاع کے مطابق یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں جاری فضائی بمباری کے ردعمل میں کی گئی۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پاکستانی طیاروں نے کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا سمیت ملک کے متعدد علاقوں میں بمباری کی جس کے بعد افغان جانب سے جوابی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

 

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کوہاٹ شہر میں یکے بعد دیگرے تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ علاقے کی فضا میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے بھی دیکھے گئے۔ تاہم ان دھماکوں کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ افغان علاقوں میں فضائی حملوں کے دوران عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق بمباری میں خواتین اور بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستانی طیاروں نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب واقع نجی ایئرلائن کے ایندھن ذخیرہ کرنے کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ایک فیول ڈیپو کو بھی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

 

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے کوہاٹ کینٹ کے علاقے پر ڈرون حملے کے افغان دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے اندر مختلف مقامات پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جاری کشیدگی اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ پاکستان کے مطابق افغان سرزمین پر موجود تحریک طالبان کے محفوظ ٹھکانے اور پاکستان کے اندر ان کے بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کابل میں قائم طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروپوں کی سرگرمیوں کو روکے، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کو، جس پر الزام ہے کہ وہ افغانستان سے حملوں کی منصوبہ بندی کر کے سرحد پار پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

 

تاہم کابل میں طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو بھی افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے مطابق اسلام آباد دراصل اپنی داخلی سلامتی کے مسائل کا ذمہ افغانستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغان طالبان پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ دولت اسلامیہ خراسان کی حمایت کر رہا ہے اور اس گروپ کو بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے کے مطابق تحریک طالبان کی سرگرمیاں افغانستان میں انکی موجودگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کا ایک داخلی مسئلہ ہیں۔

 

دوسری جانب اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس نے بین الاقوامی اداروں کو ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے تربیتی مراکز اور ٹھکانے افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگرہار اور پکتیکا میں موجود ہیں اور یہ گروپ افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے متعدد پناہ گزین خاندانوں کو سرحدی علاقوں سے افغانستان کے دیگر حصوں میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ خاندان 2014 میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر افغانستان منتقل ہوئے تھے۔

کابل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے تحریک طالبان پاکستان اور اسلام آباد کے درمیان کم از کم دو مرتبہ ثالثی کی کوشش کی، تاہم مذاکرات کی ناکامی اور پاکستان میں حملوں میں اضافے کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق طالبان حکومت اس معاملے میں ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ایک طرف پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف دونوں گروپوں کے درمیان نظریاتی اور تاریخی تعلقات موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کرنا طالبان حکومت کے لیے آسان نہیں۔

ایرانی حملوں نے دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ کا کباڑہ کیسے نکالا؟

یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 اکتوبر کو پاکستان کی جانب سے پکتیکا میں ایک فضائی حملے کے بعد دعویٰ کیا گیا تھس کہ اس کا ہدف تحریک طالبان کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔ تاہم پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ حملے کا مقصد نور ولی محسود تھے۔ ان دعوؤں کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے پہلے نور ولی محسود کی ایک آڈیو ریکارڈنگ اور بعد ازاں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ زندہ ہیں اور پاکستان میں موجود ہیں۔

Back to top button