افغان طالبان کاپاکستانی طالبان کےخلاف فتویٰ دینےسےانکار

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے مطالبے پر ٹی ٹی پی یعنی تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے سے انکار کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی کے شدت پسند طالبان امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں، اسی لیے افغان طالبان اُن کے خلاف فتویٰ دینے سے گریزاں ہیں۔ دوسری جانب افغان طالبان کا کہنا ہے کہ فتویٰ کسی رہنما کا نہیں بلکہ دارالافتا کا اختیار ہوتا ہے، اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ طور پر دارالافتا کو درخواست دے اور اپنے الزامات کے ثبوت فراہم کرے۔ طالبان حکام کے مطابق، اگر شرعی طور پر ضروری سمجھا گیا تو فتویٰ جاری کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ کسی سیاسی دباؤ کی بجائے صرف مذہبی اصولوں کے مطابق ہی انجام پائےگا۔
خیال رہے کہ پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ تاہم اب افغانستان کے نائب وزیرِ داخلہ رحمت اللہ نجیب نے دعویٰ کر دیا ہے کہ پاک افغان مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے طالبان قیادت سے پاکستان پر حملوں کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جس پر ہم نے پاکستانی وفد کو بتایا کہ فتویٰ رہنما نہیں بلکہ دارالافتا جاری کرتا ہے۔‘’پاکستانی حکومت کو ٹی ٹی پی کے خلاف فتویٰ لینے کیلئے رسمی طور پر طالبان حکومت کے دارالافتا سے باضابطہ درخواست کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام فتویٰ اپنی مرضی کے مطابق آنے کی توقع نہ رکھیں، کیونکہ فتوے شرعی حکم کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور ہم دارالافتا کو اس بارے میں حکم جاری نہیں کرسکتے۔‘ایک سوال کے جواب میں رحمت اللہ نجیب کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان میں جنگ کی منظوری دینے کا حق نہیں دیتے اور ساتھ ساتھ ہمارے پاس اسے غیرقانونی قرار دینے کا بھی کوئی حق نہیں ہے، حقیقت میں پاکستان کے حالات سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
دوسری جانب افغان نائب وزیر داخلہ کے بیان کے رد عمل میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ’افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف صرف اس لیے فتویٰ دینے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ وہ انھیں استعمال کرتے ہیں۔‘نظریاتی اور آپریشنل معاملات میں ٹی ٹی پی اور افغان حکومت، افغان طالبان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جبکہ ’ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے طالبان کے رہبرِ اعلیٰ ملا ہیبت اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے۔‘طلال چوہدری کا مزیدکہنا تھا کہ ’اگر وہ لوگ آپ کے پاس موجود نہیں، اگر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور اگر وہ آپ کا حصہ نہیں تو پھر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف فتویٰ دینے سے کیوں کترا رہے ہیں؟‘ ’جب طالبان شمالی اتحاد کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں تو پھر وہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے میں کیوں ہچکچارہے ہیں؟‘ طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کبھی ٹی ٹی پی کے خلاف فتویٰ دے دیتے ہیں اور کبھی اس لیے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ وہ پالیسی کے مطابق انھیں استعمال کر رہے ہیں۔‘
عدالتی ترامیم کے بعد 14 عمرانڈو ججز کی ٹرانسفر کا فیصلہ
خیال رہے کہ پاکستانی سیاسی حلقوں میں ہمیشہ یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان قیادت پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف فتویٰ کیوں جاری نہیں کرتی۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کے خلاف افغان طالبان کے فتوے کی اہمیت کیا ہے اور پاکستانی حکام اس حوالے سے بار بار مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ مبصرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف فتوٰی حاصل کرنے کا مقصد پاکستان کے اندر حملوں کو مذہبی اور نظریاتی بنیاد پر چیلنج کرنا ہو سکتا ہے چونکہ پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کے ارکان افغان طالبان کے رہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کی بات سنتے ہیں اور ان کی بیعت کر چکے ہیں، اس لیے وہ فتویٰ جاری کروا کے ان پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی حکومت کو امید ہے کہ اس طرح کا فتویٰ نہ صرف ٹی ٹی پی کے نظریاتی بنیاد کو کمزور کرے گا بلکہ ان کی لڑائی کو مجرمانہ شورش کا درجہ دے دے گا۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف فتویٰ مانگنے کی وجہ افغان عسکریت پسندوں کو پاکستان کے اندر لڑنے سے روکنا ہے کیونکہ پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے سینکڑوں افغان عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں پاکستانی حکومت سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان کے خلاف فتویٰ سامنے آںے کے بعد مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کا سلسلہ رک سکتا ہے تاہم افغان حکومت کسی صورت ٹی ٹی پی کے خلاف فتویٰ جاری کر کے افغانستان کے اندر کوئی نیا محاذ کھولنے کا رسک لینے پر آمادہ نظر نہیں آتی۔
