عدالتی ترامیم کے بعد 14 عمرانڈو ججز کی ٹرانسفر کا فیصلہ

27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہائی کورٹ کے ججز کو دوسری ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کرنے کا اختیار حاصل ہو جانے کے بعد اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ کے 14 عمرانڈو جج حضرات کو جوڈیشل کمیشن کی مدد سے دیگر صوبوں کی ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان 14 ججز میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وہ چار ججز بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے نئے چیف جسٹس کو تسلیم نہیں کیا اور جو مسلسل خطوط لکھ کر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد حکومت نے اس نئے حاصل شدہ آئینی اختیار کا عملی استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے مجموعی طور پر 14 ججز کے بین الصوبائی تبادلوں کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ججز کو چھ ماہ سے دو سال تک کے لیے بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کی مختلف ہائی کورٹس یا ان کے علاقائی بینچوں میں تعینات کیا جائے گا، جن میں کوئٹہ بینچ، لاڑکانہ، سکھر، میرپور خاص اور پشاور ہائی کورٹ کا ایبٹ آباد بینچ شامل ہیں۔ ان تبادلوں کا حتمی فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا، جو آئندہ دنوں میں اجلاس بلا کر تجاویز پر ووٹنگ کرے گا اور اکثریتی رائے کے مطابق حتمی منظوری دے گا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جن دس ججز کے تبادلے کی سفارش کی گئی ہے ان میں جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس فیصل زمان خان، جسٹس شاہد کریم، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس اسجد جاوید گھرال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس عاصم حفیظ، جسٹس امجد رفیق، جسٹس انور حسین اور جسٹس راحیل کامران شیخ شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے جن چار ججز کے نام فہرست میں شامل ہیں ان میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔
یہ چاروں جج حضرات تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے ہمدردیاں رکھتے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ یہ عدالتی معاملات پر بھی سیاسی ذہن کے ساتھ فیصلے دیتے ہیں۔ یہ چاروں ججز گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے نئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی تقرری اور انہیں ملنے والے انتظامی اختیارات کے خلاف مسلسل خطوط لکھ کر کھل کر اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 200 میں بنیادی تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سے قبل کسی ہائی کورٹ کے جج کو دوسری ہائی کورٹ میں بھیجنے کے لیے متعلقہ جج کی رضامندی لازمی ہوتی تھی۔ نئے آئینی ڈھانچے میں یہ شرط مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، اب جج کا تبادلہ جوڈیشل کمیشن کی سفارش اور صدر کے نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا جا سکے گا۔ اس ترمیم کے بعد جج سے مشاورت، رضامندی یا متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رائے کو ضروری نہیں سمجھا جائے گا۔ یوں پہلی بار وفاقی حکومت اور نئے تشکیل شدہ جوڈیشل کمیشن کو وہ اختیار مل گیا ہے جس کے ذریعے ہائی کورٹ ججز کو ملک کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں براہِ راست ٹرانسفر کیا جا سکے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص ججز ایک عرصے سے سیاسی نوعیت کے فیصلوں، غیر ضروری بیانات اور روزانہ کی بنیاد پر خط و کتابت کے ذریعے عدالتی ماحول میں غیر یقینی اور انتشار پیدا کر رہے تھے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ ان مخصوص ججز کی جانب سے ہائی کورٹس کے اندر سیاسی بنیاد پر گروہ بندی نے عدلیہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے، چنانچہ عدلیہ میں انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی تھیں۔
حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ججز کو مختلف صوبوں میں ٹرانسفر کرنے سے ان پر مقامی لابیوں، علاقائی دباؤ اور ذاتی تعلقات کے اثرات کم ہوں گے، جس سے عدالتی عمل زیادہ غیر جانب دار ہو جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مختلف صوبوں میں ججز کی ٹرانسفر سے عدالتی ڈھانچے میں یکسانیت پیدا ہوگی اور ججز کو متوازن عدالتی ماحول میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہو گا۔
جسٹس منصور اور جسٹس اطہر نے خود کو عمرانڈو ثابت کردیا
قانونی ماہرین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم لیکن متنازع فیصلہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے اندر انتظامی خود مختاری پر بھی براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ مخالفین اسے ’’جوڈیشل انجینئرنگ‘‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت اسے ’’عدالتی اصلاحات‘‘ کا نام دے کر ملکی عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔ تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے فوری بعد اتنے بڑے پیمانے پر ججز کے تبادلوں کا فیصلہ ملکی عدالتی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے سیاسی اور آئینی اثرات مزید نمایاں ہوں گے۔
