آبنائے ہرمز میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے، ایرانی فوج کا دوٹوک اعلان

ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے بغیر اجازت سفر کرنے کی کوشش خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

تہران سے جاری بیان میں ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مکمل طور پر مستحکم ہے اور تمام تجارتی جہازوں کو مقررہ ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق پیشگی اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی اس راستے سے گزرنا ہوگا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسے بحری جہاز جو متعلقہ حکام سے اجازت لیے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کریں گے، وہ اپنی سلامتی اور ممکنہ نقصانات کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ فوج نے خبردار کیا کہ اس حساس بحری راستے میں غیر مجاز نقل و حرکت خطے میں کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔ایرانی فوج نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی اور سکیورٹی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اگر کوئی فوجی بحری جہاز ایران کے مقرر کردہ انتظامی نظام میں مداخلت یا اشتعال انگیزی کی کوشش کرے گا تو اسے براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 20 تجارتی بحری جہاز اور آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بحری آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں بلکہ مخصوص ضوابط کے تحت جاری ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی تجارت کو روکنا نہیں بلکہ بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا سدباب کرنا ہے۔ تہران کے مطابق موجودہ حالات میں بحری جہازوں کو متعلقہ ہدایات پر عمل کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز، جنگ بندی میں توسیع، پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور انتظام کے حوالے سے متضاد دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس راستے میں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات فوری طور پر عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی تازہ وارننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی اس آبی گزرگاہ میں آزاد اور بلا رکاوٹ بین الاقوامی جہاز رانی پر زور دے رہے ہیں۔

Back to top button