مومنہ اقبال سکینڈل: ثاقب چدھڑتفتیش میں قصوروارقرار

اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے کیس میں ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف تفتیش مکمل ہو گئی ہے جس میں وہ قصوروار پائے گئے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے مقدمے میں ملزمان کی عبوری ضمانت پر سماعت کی جس کے دوران مومنہ اقبال کی جانب سے عدنان احسان ایڈووکیٹ جبکہ ثاقب چدھڑ کی جانب سے رانا معروف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
تفتیشی افسر نجم باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ ثاقب چدھڑ کی اہلیہ سمیرا نے دو روز قبل اپنا موبائل فون نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں جمع کروایا تھا، ان کی کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اس کے دوران انہیں قصوروار پایا گیا ہے۔
نجم باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ سمیرا کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
مومنہ اقبال کے وکیل عدنان احسان نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کی عبوری ضمانت خارج کی جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کی آزادی مومنہ اقبال کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر حتمی دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
