پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتیں ڈبل ہونے کا خدشہ

ایران اور امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں تیل کے بڑھتے ہوئے بحران کے باعث اب پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تقریباً دگنی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکی ہے اور اگر سپلائی کا بحران طویل ہوا تو پاکستان میں پٹرول 450 سے 500 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی زیادہ کی سطح تک پہنچنے کا دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان میں آنے والے ہفتوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی سخت قلت پیدا ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
عالمی توانائی بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے معمول کے مقابلے میں تیل کی ترسیل میں غیر معمولی کمی آئی ہے، جبکہ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اس پائپ لائن کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ ہے، اگرچہ اس کا بند ہونا اتنی ہی مقدار کے عالمی منڈی سے نکل جانے کے مترادف نہیں۔ تجزیوں کے مطابق ہرمز میں پابندیوں، پائپ لائن کی بندش اور باب المندب میں سکیورٹی خطرات کے بیک وقت برقرار رہنے کی صورت میں کئی ملین بیرل یومیہ سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس صورتحال کا براہ راست اثر عالمی خام تیل کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ 15 ستمبر کو سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے تیل کی لوڈنگ متاثر ہونے کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل 108.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ عالمی مارکیٹ میں مزید سپلائی رکاوٹ کے خدشات کے باعث 120 ڈالر یا اس سے اوپر کی قیمتوں کا منظرنامہ بھی زیر بحث ہے۔ پاکستان کے لیے مسئلہ صرف خام تیل کی قیمت نہیں بلکہ اس کے ساتھ بڑھتے ہوئے شپنگ، جنگی خطرے کی انشورنس اور فریٹ کے اخراجات بھی ہیں۔
پاکستان اس بحران سے نسبتاً زیادہ متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ ملکی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ عالمی قیمت میں اضافے کے ساتھ اگر ٹینکرز کے کرائے اور انشورنس لاگت بھی بڑھتی ہے تو درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، ڈالر کی طلب بڑھے گی اور روپے پر دباؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ موجودہ قیمت کے مقابلے میں اگر عالمی خام تیل اور درآمدی لاگت انتہائی بلند سطح پر برقرار رہی تو پٹرول کی قیمت 450 سے 500 روپے فی لیٹر کے ممکنہ منظرنامے میں داخل ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ اسوقت پاکستان میں پٹرول کی سرکاری قیمت 389.14 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 424.04 روپے فی لیٹر ہے۔ 19 ستمبر سے حکومت نے عالمی ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کے باعث پٹرول میں 1.65 روپے اور ڈیزل میں 88 پیسے فی لیٹر کمی کی تھی، لیکن عالمی منڈی میں اس کے بعد پیدا ہونے والی سپلائی تشویش نے آئندہ قیمتوں کے حوالے سے غیر یقینی بڑھا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم بحران کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہے گا۔ ڈیزل مہنگا ہونے کی صورت میں ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری اور مال برداری کی لاگت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں خوراک سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آسکتا ہے۔ اسی طرح صنعتی شعبے، بجلی پیدا کرنے کے بعض ذرائع اور مجموعی ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے اب ایک اور بڑا خطرہ پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کا ہے۔ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے اور ینبع سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد وہ متبادل راستہ بھی دباؤ میں آگیا ہے جسکے ذریعے سعودی عرب ہرمز سے بچ کر اپنے تیل کو عالمی منڈی تک پہنچاتا تھا۔ تجزیوں کے مطابق اگر پائپ لائن طویل عرصے تک بند رہی اور ہرمز میں بھی نقل و حرکت محدود رہی تو سعودی تیل کی برآمدی صلاحیت پر نمایاں دباؤ پڑسکتا ہے۔
اس صورتحال میں پاکستان کے لیے متبادل کارگوز کا حصول انتہائی اہم ہوگیا ہے۔ سعودی عرب نے ہرمز کی مشکلات کے باوجود عمان کے ساحلی شہر صحار کے قریب شپ ٹو شپ منتقلی کے ذریعے ایشیائی خریداروں کو اضافی خام تیل فراہم کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق ستمبر اور اکتوبر میں اس راستے سے تقریباً 60 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل کا منصوبہ ہے، جس سے فوری سپلائی دباؤ کچھ کم ہوا ہے۔
لیکن متبادل راستے مکمل حل نہیں ہیں۔ اگر پاکستان کو مغربی افریقہ، امریکا یا دیگر دور دراز مارکیٹوں سے زیادہ خام تیل منگوانا پڑا تو سفر کا فاصلہ اور شپنگ اخراجات بڑھیں گے۔
اسی طرح بحیرۂ احمر سے بچنے کے لیے جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑا تو اضافی وقت، فریٹ اور انشورنس لاگت بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل ہوسکتی ہے۔ موجودہ بحران میں عالمی ٹینکر فریٹ پہلے ہی نمایاں دباؤ کا شکار ہیں۔
تاہم اس مرحلے پر پاکستان میں فوری طور پر ملک گیر پٹرول یا ڈیزل ختم ہونے کی حتمی پیش گوئی کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس لیے فوری خطرہ مکمل قلت سے زیادہ یہ ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی کئی ہفتوں تک جاری رہی تو نئے کارگوز مہنگے اور ان کی دستیابی مشکل ہوسکتی ہے۔
حوثی حملے میں پاکستانی طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبر جھوٹی نکلی
حکومت پاکستان کو ذیادہ تشویش ڈیزل کی ہے، کیونکہ مال بردار ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیاں اور خوراک کی سپلائی چین اس پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں ڈیزل کی سپلائی مزید محدود ہوئی تو اس کے اثرات پٹرول پمپ سے کہیں آگے جائیں گے اور ٹرانسپورٹ کرایوں، زرعی پیداوار کی لاگت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر منتقل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح درآمدی تیل کا بل بڑھنے سے پاکستان کے زرمبادلہ پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔ یوں آنے والے چند ہفتے پاکستان کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔
