مریم نواز نے اپنی غلطی کے دفاع میں بلنڈر کیسے کیا؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن جانے کے لیے سرکاری جہاز استعمال کرکے سنگین غلطی کی، لیکن اس حرکت کو درست ثابت کرنے کے لیے بعد ازاں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے بڑا بلنڈر ثابت ہوا ہے جس نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا یے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ اگر مریم نواز کے پاس اکبر بادشاہ کے نورتنوں کی طرح سمجھدار اور بے باک مشیر ہوتے تو وہ انہیں مشورہ دے سکتے تھے کہ ذاتی نوعیت کے سفر کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال سے پیدا ہونے والے تنازع سے بچنے کے لیے کمرشل فلائٹ اختیار کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
انکے مطابق مریم نواز نے لندن میں اپنی بیٹی ماہ نور کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے پنجاب حکومت کا سرکاری گلف سٹریم جی 500 طیارہ استعمال کیا، جس پر بعد میں شدید سیاسی اور عوامی تنقید شروع ہو گئی۔ مریم نواز کے لندن جانے اور واپس آنے کے بعد اس سفر کے اخراجات، سرکاری طیارے کے ذاتی نوعیت کے استعمال اور اس کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق سخت سوالات اٹھائے گئے اور ان کی اس حرکت کی جسٹیفیکیشن مانگی گئی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے شروع سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ سفر کے تمام اخراجات وزیراعلیٰ اپنی جیب سے ادا کریں گی۔
کلاسرا کے مطابق ابتدائی طور پر معاملہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوا جب سرکاری طیارے کے استعمال پر تنقید کے جواب میں مریم نواز کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے خود تمام اخراجات ادا کیے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزیراعلیٰ صرف یہ کہہ دیتیں کہ طیارے کے استعمال، ایندھن، پارکنگ اور دیگر اخراجات انہوں نے ذاتی طور پر ادا کردیے ہیں تو معاملہ وہیں ختم ہوسکتا تھا، لیکن اس کے بعد مخالفین کو جواب دینے اور اپنے فیصلے کا دفاع کرنے کے لیے طویل وضاحت نے تنازع کو مزید نمایاں کردیا۔ مریم نواز نے 17 ستمبر کو ملتان میں الیکٹرک بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری طیارے کے استعمال کا بھونڈا ترین دفاع کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کی گریجویشن میں شرکت کے لیے کیے گئے سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کر دیے ہیں۔ انہوں نے موبائل فون پر ادائیگی کی رسید بھی دکھائی اور رقم تقریباً 2 کروڑ 75 لاکھ روپے بتائی، جس میں ایندھن، پارکنگ اور دیگر اخراجات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ طیارہ ان کا ذاتی جہاز نہیں بلکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر کا سرکاری طیارہ ہے اور وہ اسے اپنے گھر نہیں لے جائیں گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کو سرکاری فضائی سہولت حاصل ہے اور صرف ان کے طیارے کے استعمال پر تنقید کیوں کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ کی ذمہ داریاں سفر کے دوران بھی جاری رہتی ہیں اور وہ دورانِ پرواز بھی حکومت سے رابطے میں رہتی ہیں۔
کلاسرا کے مطابق اصل سوال یہ نہیں تھا کہ مریم نواز نے رقم ادا کی یا نہیں بلکہ یہ تھا کہ ذاتی نوعیت کی تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری طیارے کا استعمال سیاسی طور پر کس قدر قابلِ دفاع تھا۔ ان کے بقول عوامی زندگی میں آنے والی شخصیات مسلسل عوامی اور میڈیا جانچ پڑتال کی زد میں رہتی ہیں، اس لیے انہیں اپنے سفر، رہن سہن، لباس، گاڑی، گھڑی، زیورات اور یہاں تک کہ معمولی اخراجات تک کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایسی صورت حال میں سیاسی شخصیات کے لیے احتیاط اور تحمل بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ تنقید بھی کی گئی کہ مریم کے لندن ہوائی سفر پر 13 کروڑ روپے لاگت آئی جبکہ انہوں نے قومی خزانے میں صرف پونے تین کروڑ روپے جمع کروائے ہیں۔ لیکن پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے لندن سفر جتنے اخراجات آئے تھے وہ انہوں نے اپنی ذاتی جیب سے ادا کر دیے ہیں۔ یعنی حکومت کی جانب سے بنیادی دفاع یہ تھا کہ سرکاری طیارہ استعمال ضرور ہوا، لیکن اس کے مالی اخراجات سرکاری خزانے پر نہیں ڈالے گئے۔
یاد رہے کہ مریم کی جانب سے سرکاری طیارے کے استعمال کی حتمی رقم 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے بنی اور یہ رقم نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے متعلقہ سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی۔ اس سے حکومت کے پہلے سے اختیار کیے گئے اس مؤقف کو تقویت ملی کہ طیارے کے سفر کا مالی بوجھ وزیراعلیٰ نے خود برداشت کیا ہے۔ مریم نواز نے تاہم اپنی تقریر میں اس رقم کو تقریباً 2 کروڑ 75 لاکھ روپے قرار دیا تھا۔
رؤف کلاسرا نے اس معاملے کو مریم نواز کے لیے مشیروں اور مختلف آراء سننے کی ضرورت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سمجھدار مشیر انہیں سفر سے قبل یہ مشورہ دیتا کہ لندن جانے کے لیے کمرشل فلائٹ کی بزنس کلاس استعمال کی جائے، تو ممکنہ طور پر تنازع ہی پیدا نہ ہوتا۔ ان کے مطابق سیاسی مخالفین اور سوشل میڈیا کے موجودہ ماحول میں ایسے فیصلے جن میں ذاتی اور سرکاری حیثیتیں ایک دوسرے سے جڑتی محسوس ہوں، اضافی سیاسی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
کلاسرا نے مریم نواز کے سیاسی خاندانی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعلیٰ اور تین مرتبہ وزیراعظم، شہباز شریف متعدد مرتبہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم جبکہ حمزہ شہباز وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور اب مریم نواز خود پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں۔ ان کے مطابق ایسے سیاسی ماحول میں خود کو مسلسل مختلف آراء سننے اور اختلافی مشوروں کے لیے کھلا رکھنا آسان نہیں ہوتا، لیکن طاقت اور اختیار کے ساتھ اختلافی آواز سننے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ رؤف کلاسرا نے مریم نواز کے لیے اکبر بادشاہ کے نورتنوں اور قدیم رومی روایت کی مثال پیش کی اور کہا کہ حکمرانوں کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں خوش کرنے کے بجائے مشکل اور ناگوار مشورہ بھی دے سکیں۔ انہوں نے رومی جرنیلوں کے ساتھ رہنے والے غلام کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسے فاتح جرنیل کو یہ یاد دلانے کے لیے ساتھ رکھا جاتا تھا کہ وہ بھی ایک فانی انسان ہے۔ کلاسرا کے بقول مریم نواز کو بھی کم از کم ایسے مشیر کی ضرورت ہے جو انہیں وقتاً فوقتاً یاد دلاتا رہے کہ اقتدار کے ساتھ عوامی احتساب اور مسلسل نگرانی بھی آتی ہے۔
